Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عسیر میں 500 سے زائد فارمز، انگور کی سالانہ پیداوار ایک ہزار ٹن

کاشتکار روایتی طریقوں کے ساتھ جدید زرعی ٹیکنالوجی کو اپنا رہے ہیں۔( فوٹو: ایس پی اے)
عسیر میں انگور کی  پیداوار میں اضافے سے انڈسٹری وسعت اختیار کر رہی ہے، کاشتکار روایتی کاشتکاری کے طریقوں کے ساتھ جدید زرعی ٹیکنالوجی کو اپنا رہے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق عسیر ریجن مملکت میں انگور کی پیداوار کے حوالے سے نمایاں علاقوں میں شامل ہے، یہاں 500 سے زائد فارمز سے سالانہ ایک ہزار ٹن سے زیادہ معیاری انگور کی پیداوار حاصل ہوتی ہے، جس سے مقامی سپلائی مضبوط ہونے کے ساتھ فوڈ سکیورٹی میں بھی مدد مل رہی ہے۔
 موسمِ گرما کی آمد کے ساتھ ہی عسیر ریجن کے بالائی علاقوں میں موجود سیڑھی نما کھیتوں میں بیلوں پر پکے ہوئے انگور کے خوشوں کے دلکش مناظر دکھائی دیتے ہیں، جو علاقے کی ثقافتی شناخت میں سے ایک ہیں۔
ابھا شہر سے 95 کلومیٹر شمال کی جانب ’مرکز الماوین‘ کا شمار اہم زرعی علاقوں میں ہوتا ہے جہاں مقامی اور درآمد شدہ انگور کی مختلف اقسام کاشت کی جاتی ہے۔
عسیر کے کاشتکار آج بھی کئی روایتی زرعی طریقوں پر عمل کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم عمل ’تحبیس العنب‘ ہے(مئی کے موسم میں انگور کے خوشوں کو پکانے کے لیے اردگرد موجود پتوں کو ہٹائے جانے کو کہتے ہیں) اس عرصے میں زمین کی صفائی کا عمل بھی کیا جاتا ہے۔

الماوین مرکز کے ایک کسان عبداللہ آل شفلوت کا کہنا ہے ’وہ گزشتہ 25 برسوں سے انگور کی کاشت سے منسلک ہیں۔ اس سفر کا آغاز حکومتی تعاون سے کیا تھا۔ اس وقت ان کے فارم میں انگور کی ایک ہزار سے زائد بیلیں موجود ہیں۔‘
انہوں نے کہا’ انگور کی کاشت صرف روزگار کا ہی ذریعہ نہیں  بلکہ صدیوں پرانا خاندانی پیشہ بھی ہے، جس کی گواہی علاقے میں موجود تاریخی کنویں دیتے ہیں۔

’مقامی کسان آج بھی سیاہ اور سرخ انگور کاشت کرتے ہیں جبکہ اطالوی، فرانسیسی اور بناتی جیسی عالمی اقسام بھی کاشت کی جاتی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا ’حکومتی سرپرستی کے باعث زرعی شعبے کی تیز رفتار ترقی سے فارم میں آبپاشی اورکھاد کے نظام کو خود کارٹیکنالوجی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ درختوں کی روزانہ بنیاد پر دیکھ بھال کی جاتی ہے۔‘

 آل شفلوت انگور کی پیداوار کے حوالے سے بتایا ’موسم سرما میں کھیتوں کی صفائی سے اس عمل کا آغاز ہوتا ہے اس دوران گزشتہ فصل کی باقیات کو ہٹایا جاتا ہے۔ اس کے بعد کھاد سے زمین کو تروتازہ کرنے کے بعد بیج کا مرحلہ آتا ہے۔ جولائی سے انگور کے خوشے بتدریج پکنا شروع ہو جاتے ہیں۔‘
فصل کی کٹائی کے حوالے سے کہنا تھا  کٹائی کا عمل اب جدید زرعی طریقوں کے تحت کیا جاتا ہے۔ بیلوں سے خوشوں کو اتارنے کے لیے مخصوص آلات استعمال کیے جاتے ہیں، خراب پھل پہلے ہی الگ کردیئے جاتے ہیں تاکہ معیار کو برقرار رکھا جائے۔

 

شیئر: