Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قدرتی حسن اور پائیدار سرمایہ کاری، مکہ ریجن کے قومی پارکس کی نئی پہچان

یہ پارکس قدرتی حسن اور گھنی ہریالی کا حسین امتزاج ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
مکہ ریجن کے نیشنل پارکس اپنے متنوع قدرتی مناظر کے باعث ماحولیاتی اور ترقیاتی اثاثوں کے باعث اہمیت رکھتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ پارکس قدرتی حسن اور سرسبز ماحول کا خوبصورت امتزاج پیش کرتے ہیں۔ ماحول دوست سیاحت اور پائیدار سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ یہ معیارِ زندگی بہتر بنانے اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال میں بھی معاون ہیں۔
نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیویلپمنٹ اینڈ کومبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن ان پارکس کی نگرانی و تحفظ کے لیے جامع پروگرام پر عمل کر رہی ہے۔
اس میں قدرتی وسائل کا تحفظ، زمین کی بحالی، انفراسٹرکچر کی بہتری، نجی شعبے اور کمیونٹیز کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
اس ریجن مں مختلف ماحولیاتی خصوصیات رکھنے والے کئی پارک شامل ہیں۔ ان میں طائف نیشنل پارک میں شجرکاری اور حیاتیاتی تنوع کو بڑھانے کے منصوبے تیزی سے جاری ہیں۔ ہرن، شترمرغ ، مختلف اقسام کے خرگوش اور دیگر جنگلی حیات متعارف کرائی گئی ہے۔ 

البھیتہ نیشنل پارک میں قدرتی وسائل کے تحفظ اور نباتاتی احاطے کی بحالی سے قدرتی مناظر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا۔ خلیص کمشنری کے ’جبل القمر نیشنل پارک‘ کا رقبہ 18 ملین مربع میٹر سے زائد ہے جو اپنی منفرد چٹانی ساخت اور متنوع نباتات کی وجہ سے مشہور ہے۔
وادی قدید پارک میں ایک تحقیقاتی مرکز قائم ہے جہاں پودوں، مٹی اور پانی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ماحولیاتی بحالی کے تحت مقامی پودوں کی تقریبا 85 ہزار شاخیں جدید آبپاشی کے ذریعے لگائی گئی ہیں۔
الجموم ماحولیاتی پارک میں 40 لاکھ مربع میٹر سے زائد رقبے پر 90 ہزار سے زیادہ درخت لگائے گئے ہیں جس سے ماحول کی خوبصورتی غیر معمولی طور پر بڑھی ہے۔

القنفذہ ریجن کا حلی البری پارک جس کا مجموعی رقبہ تقریباً 59 لاکھ مربع میٹر ہے۔ یہاں 90 ہزار درخت لگائے جا چکے ہیں۔ نباتاتی رقبے میں اضافے کے ساتھ قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو بھی فروغ مل رہا ہے۔
یہ پارکس ماحول دوست سیاحت اور تفریح کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہیں، معاشی مواقع پیدا کرنے کے ساتھ سعودی گرین انیشیٹیو اور وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

شیئر: