Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مملکت میں عطیہ ہونے والے ایک دل سے دو بچوں کا کامیاب علاج

آپریشن کے دوران دوسرے بچے کے صحت مند پلمونری والوو کو خراب والوو کی جگہ تبدیل کر کے ایورٹک پوزیشن پر منتقل کیا گیا (فوٹو: ہارٹ سینٹر آف ایکسیلینس)
کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر نے ایک ہی عطیہ دہندہ کے دل کو استعمال کرتے ہوئے دو بچوں کا کامیاب علاج کیا ہے جسے مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں بچوں کے ڈومینو ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی نوعیت کا پہلا کیس قرار دیا گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق عطیہ کردہ دل کو آخری مرحلے کے ہارٹ فیلیئر کے شکار ایک 12 برس کے بچے میں پیوند کیا گیا جبکہ اس کے جسم سے نکالے گئے دل کے صحت مند پلمونری والوو اور رُوٹ کو دوسرے بچے کے علاج کے لیے استعمال کیا گیا جس سے ایک ہی عطیہ شدہ دل کا فائدہ دو مریضوں کو ہوا۔
ڈومینو ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے نام سے مشہور اس طریقۂ کار میں دل حاصل کرنے والے مریض کے نکالے گئے دل سے صحت مند ٹشوز لے کر دوسرے مریض کے علاج کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جس سے ہر عطیہ شدہ عضو کی طبی افادیت زیادہ سے زیادہ ہو جاتی ہے۔
پہلا مریض ڈائلیٹڈ کارڈیو مایوپیتھی اور آخری مرحلے کے ہارٹ فیلیئر کا شکار تھا اور پیوند کاری کے انتظار میں تقریباً چھ ہفتوں سے ہسپتال میں مسلسل ادویات کی دیکھ بھال پر تھا۔
اگرچہ اسے مکمل دل کی پیوند کاری کی ضرورت تھی لیکن اس کا پلمونری والوو اور رُوٹ صحت مند اور پیوند کاری کے لیے مناسب حالت میں تھے۔ اسی دوران شدید ایورٹک سٹینوسس اور ریگرجیٹیشن کا شکار ایک نو سالہ بچہ ایک پیچیدہ روس پروسیجر سے گزرا، جس کے متاثرہ والووو کی مرمت کے لیے پہلے بھی دو آپریشن ہو چکے تھے۔
اس آپریشن کے دوران دوسرے بچے کے صحت مند پلمونری والوو کو خراب والوو کی جگہ تبدیل کر کے ایورٹک پوزیشن پر منتقل کیا گیا جبکہ خالی ہونے والی پلمونری پوزیشن کو پہلے بچے کے نکالے گئے دل سے حاصل کردہ پلمونری والوو اور رُوٹ کی مدد سے دوبارہ تشکیل دیا گیا۔
یوں پہلا بچہ دل کا عطیہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے مریض کے لیے کارآمد دل کے ٹشوز کا ذریعہ بھی بن گیا جس سے ایک ہی عطیہ شدہ دل سے دو بچوں کو فائدہ پہنچا۔

چونکہ پیوند کیا گیا والوو ایک زندہ ٹشو ہے، اس لیے اس میں بچے کی عمر کے ساتھ بڑھنے کی صلاحیت ہوتی ہے جس سے روایتی مصنوعی والووز کے برعکس مریض کی نمو کے ساتھ بار بار والوو کی تبدیلی کی سرجری کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال کے ہارٹ سینٹر آف ایکسیلنس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ہانی السرقانی نے بتایا کہ یہ طریقہ کار بچوں میں دل کی جزوی پیوند کاری کی نایاب ترین اقسام میں سے ایک ہے اور یہ ہسپتال کو دنیا کے ان چند مخصوص مراکز میں شامل کرتا ہے جو اسے انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی دل کی پیوند کاری اور پیچیدہ پیدائشی دل کی سرجریوں میں ہسپتال کی مہارت کا نتیجہ ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس عمل کے لیے دو پیچیدہ آپریشنز کی ایک ساتھ ہم آہنگی اور دل کی پیوند کاری، بچوں و پیدائشی دل کی سرجری، بچوں کے امراضِ قلب، ہارٹ فیلیئر، کارڈیک امیجنگ، اینستھیزیا اور کریٹیکل کیئر کے ماہرین کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت تھی۔ اس آپریشن کو نرسنگ، پرفیوژن اور ٹرانسپلانٹ رابطہ ٹیموں کی بھی مدد حاصل تھی۔

 پہلا بچہ دل کا عطیہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے مریض کے لیے کارآمد دل کے ٹشوز کا ذریعہ بھی بن گیا (فوٹو:

کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال کو 2026 کے لیے دنیا کے 250 بہترین تعلیمی طبی مراکز میں مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں پہلے اور عالمی سطح پر 12ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔
برینڈ فائننس کی جانب سے اسے 2026 کے لیے سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کا سب سے قیمتی ہیلتھ کیئر برانڈ بھی تسلیم کیا گیا ہے جبکہ نیوز ویک نے اسے 2026 کے لیے دنیا کے بہترین ہسپتالوں اور سمارٹ ہسپتالوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

 

شیئر: