قدیم جدہ میں مسافروں کے استقبال کے لیے کتنے دروازے تھے؟
قدیم جدہ میں مسافروں کے استقبال کے لیے کتنے دروازے تھے؟
ہفتہ 12 ستمبر 2026 9:48
باب مکہ کے مشرقی جانب جانے والا راستہ مکہ مکرمہ کے لیے مخصوص تھا (فوٹو: ایس پی اے )
شہرِ جدہ کو حرمین شریفین کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر عازمینِ حج، عمرہ زائرین اور تاجروں کے قافلوں کی آمد ورفت کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق شہر کا قدیم علاقہ باب مکہ ماضی میں بندرگاہ کے قریب ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے یہاں مختلف ممالک سے آنے والے عازمینِ حج، عمرہ زائرین اور تاجروں کے قافلے یہاں قیام کرنے کے بعد مکہ مکرمہ کے لیے عازمِ سفر ہوا کرتے تھے۔
جدہ کے علاقے البلد میں آج بھی وہ مقام موجود ہے جو تاریخی حوالوں میں بے حد اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہاں وہ علامتی دروازہ آج بھی نئے روپ مگر قدیم انداز کے ساتھ موجود ہے جسے باب مکہ کہا جاتا ہے۔
شہر میں داخل ہونے کے لیے آٹھ دروازے مختص ہوا کرتے تھے (فوٹو: ایس پی اے)
باب مکہ یعنی مکہ کا دروازہ، یہاں سے مکہ مکرمہ کے لیے قافلوں کی روانگی ہوا کرتی تھی۔
ماضی میں شہر کو سمندری اور زمینی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فصیل تعمیر کی گئی تھی جسے برجوں (واچ ٹاورز)، دفاعی حصار اور خندق سے مضبوط بنایا گیا تھا۔ ابتدا میں اس کے فصیل کے سات دروازے ہوا کرتے ہیں جن میں باب مکہ، باب شریف اور باب مدینہ نمایاں تھے۔
تجارتی سرگرمیوں اور قافلوں کی آمد و رفت میں اضافے کے بعد گاڑیوں کے داخلے کے لیے باب جدید کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد دروازوں کی تعداد آٹھ ہو گئی۔
باب مکہ آج بھی نئے روپ مگر پرانے انداز میں اسی مقام پر موجود ہے (فوٹو: ایس پی اے)
1947 میں جدہ شہر کی توسیع کے دوران فصیل کو منہدم کردیا گیا تاہم ’باب مکہ‘ اور باب جدید سمیت بعض دروازے آج بھی جدہ کی قدیم شناخت اور ان راستوں کی یادگار کے طورپر موجود ہیں جہاں سے صدیوں تک عازمین حج، عمرہ زائرین اور تاجر شہر میں داخل ہوا کرتے اور اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہوجاتے تھے۔
باب مکہ کے مشرقی جانب جانے والا راستہ مکہ مکرمہ کے لیے مخصوص تھا اسی لیے اسے باب مکہ یعنی ’مکہ کا دروازہ‘ کا نام دیا گیا تھا، یہ علاقہ آج بھی اسی نام سے جانا جاتا ہے۔