Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی کابینہ: آبنائے ہرمز اور علاقائی ملکوں پر ایران کے حملوں کی شدید مذمت

سعودی ولی عہد کی زیر صدارت اجلاس میں علاقائی صررتحال کا جائزہ لیا گیا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی کابینہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور کئی علاقائی ملکوں پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس منگل کو جدہ میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں ہوا جس میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
کابینہ نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان اور اردن کو نشانہ بنانے والے ایران کے مسلسل حملوں کی مذمت کی۔ تہران کے عدم استحکام پیدا کرنے والے طرزعمل، بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ  اور او آئی سی کے چارٹر کی مبینہ خلاف ورزیوں کو مسترد کیا۔
اجلاس کو سعودی ولی عہد کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس میں دونوں رہنماوں نے تعاون کے شعبوں کا جائزہ لیا۔علاقائی سلامتی اور استحکام  کےلیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی سپورٹ پر زور دیا۔
ولی عہد نے کینیڈین وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے نتائج سے بھی آگاہ کیا، جس میں تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور ترقی دینے کا عزم کیا گیا۔
کابینہ نے سعودی عرب اور عراق کے درمیان حالیہ مذاکرات کا خیرمقدم کیا جس میں بغداد کی جانب سے اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو سعودی عرب، خلیجی ریاستوں یا خطے کے دیگر ملکوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
کابینہ نے شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے نکالنے کے لیے واشنگٹن کے اقدامات کا خیر مقدم کیا۔ شام کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔
اجلاس نے ایجنڈے پر موجود دیگر امور کا بھی جائزہ لیا۔ مختلف ملکوں کے ساتھ معاہوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی منظور ی دی گئی۔

 

شیئر: