الاسکا کے منجمد سمندر میں الٹی کشتی سے چمٹا 15 سالہ لڑکا کیسے بچا؟
امدادی کارکنوں کے مطابق چھوٹی کشتی اُلٹنے کے کچھ دیر بعد لڑکے کا بھائی اور ایک کزن بھی جان سے چلے گئے (فوٹو: اے پی)
امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق الاسکا کے منجمد اور انتہائی سرد بیرنگ سمندر میں اُلٹ جانے والی ایک چھوٹی کشتی سے کئی روز تک چمٹے رہنے والا 15 برس کا لڑکا رواں ہفتے بالآخر ایک ماہی گیر کشتی کے ذریعے بحفاظت بچا لیا گیا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امدادی کارکنوں نے بتایا کہ چھوٹی کشتی اُلٹنے کے کچھ دیر بعد لڑکے کا بھائی اور ایک کزن بھی جان کی بازی ہار گئے۔
نوجوان کو سینٹ لارنس جزیرے کے قریب محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد اس کے بھائی اور کزن دونوں کی لاشیں مل گئیں۔ سینٹ لارنس جزیرہ الاسکا کا ایک دور افتادہ جزیرہ ہے جو امریکا کی نسبت روس کے زیادہ قریب واقع ہے۔
ماہی گیر کشتی ’دی نارتھ ویسٹ ایکسپلورر‘کے کپتان ایڈم وائٹ نے بتایا کہ ’لڑکا تقریباً تین روز تک چھوٹی کشتی سے چمٹا رہا۔‘
انہوں نے اینکریج کے ٹی وی چینل کے ٹی یو یو-ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بچہ واقعی بہت مضبوط اعصاب کا مالک ہے۔‘
کوسٹ گارڈ کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے پیر کی صبح چھوٹی کشتی کی تلاش شروع کی، جب اہل خانہ نے ایک رات قبل تینوں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی تھی۔ حکام نے ان تینوں لڑکوں کے نام جاری نہیں کیے۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق یہ تینوں افراد جمعے کو سینٹ لارنس جزیرے سے روانہ ہوئے تھے اور اتوار کی صبح واپس آنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
کوسٹ گارڈ نے کہا کہ ’پیر کی صبح اس کے فضائی عملے نے لڑکے کو دیکھ لیا اور اس کے لیے ایک امدادی بیڑا اور ضروری سامان پہنچایا، جس کے بعد ’دی نارتھ ویسٹ ایکسپلورر‘ سے رابطہ کیا گیا۔‘
امدادی کارروائی کی ویڈیو میں لڑکے کو روشن پیلے رنگ کی جیکٹ پہنے الٹی ہوئی کشتی کے اوپر گھٹنوں کے بل بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے۔ کشتی کے عملے نے لڑکے کی جانب ایک رَسی پھینکی اور کشتی کو اپنی طرف کھینچتے رہے، یہاں تک کہ وہ اسے امدادی ٹوکری میں منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق کشتی پر پہنچنے کے وقت لڑکے میں جسم کا درجۂ حرارت خطرناک حد تک کم ہونے یعنی ہائپوتھرمیا کی علامات ظاہر ہو رہی تھیں۔
ماہی گیر کشتی کے کپتان کے مطابق عملے نے اسے کمبل اور گرم پیک دے کر اُس کا جسم گرم کرنے کی کوشش کی۔
ایڈم وائٹ نے کہا کہ ’لڑکے کے دانت اگرچہ بج رہے تھے لیکن اس کے باوجود اُس نے یہ کہا کہ اُس کا بھائی ابھی کشتی کے نیچے دبا ہوا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اُس نے پھر یہ کہا کہ ہماری جانب سے اسے بچائے جانے کی کوششوں سے ایک رات پہلے ہی اس کا کزن پانی میں بہہ کر دور جا چکا تھا اور جان سے چلا گیا تھا۔‘
