شاہ سلمان رائل ریزرو: ’آثارِ قدیمہ، چٹانی نقوش اور تاریخی تحریروں کا گڑھ‘
اِن نقوش میں ثمودی اور نبطی نقوش اور تحریریں بھی ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
پتھروں پر کندہ، آثارِ قدیمہ کے نقوش زندہ تاریخی ریکارڈ جو تہذیبوں کے وجود کی گواہی بھی دیتے ہیں اور مختلف تاریخی ادوار کے دوران لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں بھی واضح اور اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شاہ عبدالعزیز رائل ریزرو، آثارِ قدیمہ کے ایسے ہزاروں نقوش، اور پتھروں پر کندہ کی گئیں تحریروں کا گڑھ ہے۔ اِن نقوش میں ثمودی اور نبطی نقوش اور تحریریں بھی ہیں۔ اِس کے علاوہ جنگلی حیات اور شکار کے مناظر کے نقوش رائل ریزرو میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔
پتھروں پر کندہ یہ نقوش اور تحریریں قدیم وقتوں کی روزانہ کی زندگی کو بیان کرتے ہیں اور اِن میں آئی بیکس، اونٹوں اور گھوڑوں کی تصویریں خاص طور پر زیادہ ہیں۔
شاہ عبدالعزیز ریزرو، جزیرہ نمائے عرب کی قدیم ترین انسانی بستیوں میں شمار ہوتا ہے جہاں بے مثال قدرتی حسن، صاف ستھری ہوا، جغرافیائی اور ثقافتی تنوع اور آثارِ قدیمہ کی نایاب باقیات ایک ہی جگہ مل جاتی ہیں۔ اِن میں سے کچھ کا تعلق آٹھ ہزار سال قبلِ مسیح سے ہے۔
اِس ریزرو میں آثارِ قدیمہ کی اہم اور تاریخی سائٹس بھی ہیں جس کا ثبوت پتھروں پر منشق قدیم آرٹ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ایسی بستیاں اور نوادرات بھی ملے ہیں جو علاقے کی انسانی تاریخ کے بارے میں بہت تفصیل کے ساتھ معلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ عبدالعزیز رائل ریزرو کا ثقافتی ورثہ، اِس خزانے کے تحفظ کی کوششوں اور اِس کی اہمیت کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ریزرو میں موجود سائٹس میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل جبہ کی مشہور و معروف سائٹ بھی ہے جس میں جبل ام سنمان کا نخلستان، چٹانوں پر درج تحریریں اور ہزاروں سال قدیم نقوش موجود ہیں۔ ریزرو میں کلوہ کی سائٹ بھی ہے جس میں انسانی تاریخ کی ابتدا سے قبل کے زمانے کی باقیات اور پتھروں پر کندہ عبارتیں ہیں۔
ریزرو میں پائی جانے والی 4000 سے زیادہ آثارِ قدیمہ اور تاریخ سے متعلق سائٹس ایسی ہیں جن کو دستاویزی شکل دی جا چکی ہے۔ یہ آثار، حدودِ شِمالیہ، حائل، الجوف اور تبوک کے علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

شاہ عبدالعزیز ریزرو میں 14 مخصوص جغرافیائی ساختیں ہیں جن میں بلندوبالا پہاڑوں سے لے کر حدِ نگاہ تک پھیلے میدانی علاقے اور اونچی نیچی سطحیں ہیں۔ ریزرو میں پائی جانے والی زرخیزی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں بیش قیمت معدنی وسائل پائے جاتے ہیں جو قدرت کے نایاب خزانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
ریزرو کا ارضی تنوع اِس کی انتظامی حدود سے بھی واضح ہوتا ہے جو چار ریجنوں تک پھیلا ہوا ہے جن میں حدودِ شمالیہ، حائل، تبوک اور الجوف شامل ہیں۔
