قومی سلامتی اور وسائل پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں: سعودی وزیر خارجہ کا برکس سمٹ سے خطاب
اتوار 13 ستمبر 2026 18:54
جاری کشیدگی میں کمی کے لیے سیاسی و سفارتی کوششوں پر زور دیا گیا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ’سعودی عرب کی سلامتی، اس کی علاقائی سالمیت اور قومی وسائل و مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں۔‘
انہوں نے کہا ’خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک بھی اپنے علاقوں، تنصیبات یا اہم قومی مفادات کو کسی بھی جواز یا عنوان کے تحت نشانہ بنائے جانے کو قبول نہیں کریں گے۔‘
وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نیابت کرتے ہوئے نئی دہلی میں برکس سمٹ 2026 کے دوسرے روز کے اجلاس میں شرکت کی۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب مدعو ملک کے طور پر شرکت کررہا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے اجلاس سے خطاب کے آغاز میں سعودی قیادت کی جانب سے اجلاس کے شرکا کو نیک خواہشات کا پیغام دیا۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے جاری کشیدگی میں کمی کے لیے سیاسی و سفارتی کوششوں پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا ’خلیج عرب کا امن اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ممالک کی خودمختاری اور آزادی کا احترام، ان کے داخلی معاملات میں عدمِ مداخلت، حسن ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری اور اختلافات کا پرامن ذرائع سے حل کو یقینی نہ بنایا جائے۔‘
انہوں نے آبنائے ہرمز سمیت تمام بحری گزرگاہوں میں آزادانہ نقل وحرکت اور تجارتی جہازوں کی سلامتی برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ ’ان گزرگاہوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات عالمی منڈیوں، سپلائی چینز اور اقتصادی ترقی پر مرتب ہوں گے۔‘
شہزادہ فیصل بن فرحان نے خطاب کے اختتام پر بین الاقوامی اداروں کے قیام کے بنیادی مقاصد کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’فوری طور پر ان اداروں کو اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنے کے قابل بنانے کی ضرورت ہے۔‘
انہوں نے کہا ’بین الاقوامی نظام کی ساکھ کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس کے طے شدہ اصولوں اور قوانین کا اطلاق کسی حد تک یکساں اور مستقل بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔‘
’سعودی عرب برکس گروپ اور عالمی برادری کے مختلف شراکت داروں کے ساتھ رابطے اور تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔‘
