سعودی پروجیکٹ کے تحت یمن سے ایک ہزار 303 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا گیا
اتوار 13 ستمبر 2026 21:00
اب تک 5 لاکھ 90 ہزار491 مائنز کو تلف کیا جا چکا ہے ( فوٹو: ایکس اکاؤنٹ مسام)
سعودی عرب کے مسام پروجیکٹ کے ارکان نے گزشتہ ہفتے یمن کے مختلف علاقوں سے ایک ہزار 303 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ان میں ایک ہزار 276 ناکارہ یا پھٹنے سے رہ جانے والا آرڈیننس، 18 اینٹی ٹینک، ایک اینٹی پرسنل بارودی سرنگ اور 8 دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائسز شامل ہیں۔
یہ کارروائیاں مارب، عدن، الجوف، شبوا، تعز، الحدیدہ، لحج، صنعا، البیضا، الضالع اور صعدہ میں کی گئی ہیں۔
2018 میں پروجیکٹ کے آغاز کے بعد سے اب تک 5 لاکھ 90 ہزار491 مائنز کو تلف کیا جا چکا ہے۔
دھماکہ خیز مواد اور بارودی سرنگوں کو بلا تفریق زمین میں بچھایا گیا تھا جو عام لوگوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد کے لیے سنگین خطرہ تھیں۔
پروجیکٹ کے تحت مختلف ٹیموں کو دیہات، سڑکوں اور سکولوں سے بارودی سرنگوں یا دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے کا کام سونپا جاتا ہے تاکہ عام لوگ محفوظ رہتے ہوئے نقل و حرکت کر سکیں۔ انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنایا جا سکے۔

پروجیکٹ کے تحت باردوی سرنگیں صاف کرنے والے مقامی انجینیئروں کی تربیت کی جاتی ہے اور انھیں آلات فراہم کیے جاتے ہیں اور جو یمنی دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے زخمی ہو جاتے ہیں، یہ پروجیکٹ انھیں مدد بھی دیتا ہے۔
سعودی عرب، مسام پروجیکٹ کے تحت یمن سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد سویلین سیفٹی کو بڑھانا، یمنی عوام کو محفوظ اور باوقار زندگی گزارنے میں مدد دینا ہے۔
