Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اپنا ایئرپورٹ نہ کرنسی مگر دولت میں سب سے آگے، اس انوکھے ملک کا راز کیا ہے؟

لیختن شٹائن اپنی منفرد ریاستی ساخت، مضبوط معیشت اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
یورپ کے دل میں واقع ایک ایسا ملک بھی ہے جس کی نہ اپنی کرنسی ہے، نہ ایئرپورٹ اور نہ ہی فوج، لیکن اس کے باوجود یہ دنیا کے امیر ترین اور پرامن ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
برطانوی اخبار ’دی مرر‘ کے مطابق لیختن شٹائن اپنی منفرد ریاستی ساخت، مضبوط معیشت اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع لیختن شٹائن رقبے کے لحاظ سے دنیا کے چھوٹے ترین ممالک میں شامل ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریباً 160 مربع کلومیٹر (62 مربع میل) جبکہ آبادی تقریباً 40 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
ملک کا دارالحکومت وادوز ہے، تاہم سب سے زیادہ آبادی والا شہر شان  ہے۔
لیختن شٹائن ایک آئینی بادشاہت ہے، جہاں شاہی خاندان اب بھی ملکی نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
لیختن شٹائن میں کوئی بین الاقوامی یا مقامی ایئرپورٹ موجود نہیں۔
سیاح عموماً سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترتے ہیں، جو لیختن شٹائن سے تقریباً 115 کلومیٹر دور ہے۔ وہاں سے ٹرین، بس یا گاڑی کے ذریعے چند گھنٹوں میں ملک پہنچا جا سکتا ہے۔
دی مرر کے مطابق زیورخ سے وادوز تک کا سفر برف پوش پہاڑوں، دریائے رائن اور انگوروں کے باغات کے خوبصورت مناظر سے بھرپور ہوتا ہے۔

 لیختن شٹائن اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان کسٹمز اور مالیاتی اتحاد قائم ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)

دلچسپ بات یہ ہے کہ لیختن شٹائن اپنی کرنسی بھی جاری نہیں کرتا۔
ملک میں سوئس فرانک استعمال ہوتا ہے کیونکہ کئی دہائیوں سے لیختن شٹائن اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان کسٹمز اور مالیاتی اتحاد قائم ہے جس کے تحت دونوں ممالک معاشی اور تجارتی شعبوں میں قریبی تعاون کرتے ہیں۔
 امیر ترین ممالک میں کیوں؟
ورلڈ بینک اور دیگر عالمی معاشی اداروں کے اعدادوشمار کے مطابق لیختن شٹائن فی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیا کے خوشحال ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
اس کی معیشت کا بڑا حصہ بینکاری، مالیاتی خدمات، سرمایہ کاری، جدید مینوفیکچرنگ، انجینیئرنگ اور برآمدات پر مشتمل ہے۔ یہاں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد مقامی آبادی سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ سازگار کاروباری ماحول اور ٹیکس نظام ہے۔
لیختن شٹائن کی ایک اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کی اپنی مستقل فوج نہیں۔

ملک نے 1868 میں اپنی فوج ختم کر دی تھی اور اس کے بعد سے دفاعی معاملات میں سوئٹزرلینڈ کے ساتھ تعاون جاری ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)

ملک نے 1868 میں اپنی فوج ختم کر دی تھی اور اس کے بعد سے دفاعی معاملات میں سوئٹزرلینڈ کے ساتھ تعاون جاری ہے۔
جرائم کی شرح بھی انتہائی کم ہے جس کے باعث اسے یورپ کے محفوظ ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔
اتنے چھوٹے رقبے کی وجہ سے سیاح چند گھنٹوں میں ملک کے بیشتر اہم مقامات دیکھ سکتے ہیں۔
دارالحکومت وادوز کا تاریخی قلعہ، الپائن پہاڑ، انگوروں کے باغات، پیدل سفر کے راستے، سائیکلنگ ٹریکس اور قدرتی مناظر ہر سال ہزاروں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ موسمِ سرما میں یہاں اسکیئنگ بھی خاصی مقبول ہے۔
اگرچہ لیختن شٹائن میں نہ اپنی کرنسی ہے، نہ ایئرپورٹ اور نہ ہی مستقل فوج، لیکن مضبوط معیشت، کم آبادی اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ قریبی معاشی تعاون کی بدولت یہ دنیا کے خوشحال ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

شیئر: