یورپ کے دل میں واقع ایک ایسا ملک بھی ہے جس کی نہ اپنی کرنسی ہے، نہ ایئرپورٹ اور نہ ہی فوج، لیکن اس کے باوجود یہ دنیا کے امیر ترین اور پرامن ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
برطانوی اخبار ’دی مرر‘ کے مطابق لیختن شٹائن اپنی منفرد ریاستی ساخت، مضبوط معیشت اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
سعودی عرب خوبصورت ملک، سیاحت کی خواہش ہے، نوعمر برطانوی ہوابازNode ID: 593381
سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع لیختن شٹائن رقبے کے لحاظ سے دنیا کے چھوٹے ترین ممالک میں شامل ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریباً 160 مربع کلومیٹر (62 مربع میل) جبکہ آبادی تقریباً 40 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
ملک کا دارالحکومت وادوز ہے، تاہم سب سے زیادہ آبادی والا شہر شان ہے۔
لیختن شٹائن ایک آئینی بادشاہت ہے، جہاں شاہی خاندان اب بھی ملکی نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
لیختن شٹائن میں کوئی بین الاقوامی یا مقامی ایئرپورٹ موجود نہیں۔
سیاح عموماً سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترتے ہیں، جو لیختن شٹائن سے تقریباً 115 کلومیٹر دور ہے۔ وہاں سے ٹرین، بس یا گاڑی کے ذریعے چند گھنٹوں میں ملک پہنچا جا سکتا ہے۔
دی مرر کے مطابق زیورخ سے وادوز تک کا سفر برف پوش پہاڑوں، دریائے رائن اور انگوروں کے باغات کے خوبصورت مناظر سے بھرپور ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لیختن شٹائن اپنی کرنسی بھی جاری نہیں کرتا۔
ملک میں سوئس فرانک استعمال ہوتا ہے کیونکہ کئی دہائیوں سے لیختن شٹائن اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان کسٹمز اور مالیاتی اتحاد قائم ہے جس کے تحت دونوں ممالک معاشی اور تجارتی شعبوں میں قریبی تعاون کرتے ہیں۔
امیر ترین ممالک میں کیوں؟
ورلڈ بینک اور دیگر عالمی معاشی اداروں کے اعدادوشمار کے مطابق لیختن شٹائن فی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیا کے خوشحال ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
اس کی معیشت کا بڑا حصہ بینکاری، مالیاتی خدمات، سرمایہ کاری، جدید مینوفیکچرنگ، انجینیئرنگ اور برآمدات پر مشتمل ہے۔ یہاں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد مقامی آبادی سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ سازگار کاروباری ماحول اور ٹیکس نظام ہے۔
لیختن شٹائن کی ایک اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کی اپنی مستقل فوج نہیں۔













