Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آزاد کشمیر انتخابات کے بعد ن لیگ ن اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے: کیا وفاق میں اتحاد خطرے میں ہے؟

آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج آنے کے چند گھنٹوں کے اندر پاکستان کی دو بڑی اتحادی جماعتوں کے درمیان محتاط سیاسی تعلق ایک بار پھر کھلی محاذ آرائی میں بدل گیا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں کھڑے ہو کر ریاست سے سوال کیا کہ اسے پاکستان کے قومی مفاد اور مسلم لیگ ن کے سیاسی مفاد میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
جواب میں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے پیپلزپارٹی کو دھاندلی کا شور مچانے کے بجائے شکست کھلے دل سے تسلیم کرنے کا مشورہ دیا اور بات کو آزاد کشمیر سے نکال کر سندھ کی سڑکوں، ہسپتالوں اور 17 سالہ حکمرانی تک لے گئیں۔
یوں آزاد کشمیر کی صرف 13 نشستوں پر ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات کا تنازع پولنگ سٹیشنوں، نتائج اور مبینہ دھاندلی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ دونوں جماعتیں وفاق میں ایک ہی حکومتی بندوبست کا حصہ ہیں، لیکن آزاد کشمیر کی انتخابی مہم نے یاد دلایا ہے کہ ان کے درمیان روایتی سیاسی رقابت ختم نہیں ہوئی۔

آخری مرتبہ اتنی تلخی کب سامنے آئی تھی؟

فروری 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کے مقابل میدان میں تھیں۔ بلاول بھٹو نے لاہور سے انتخاب لڑ کر مسلم لیگ ن کو اس کے سیاسی مرکز میں چیلنج کیا تھا اور دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کی وفاقی اور صوبائی کارکردگی کو انتخابی موضوع بنایا۔ تاہم کسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد دونوں نے حکومت سازی کا معاہدہ کر لیا۔
شہباز شریف وزیراعظم بنے، آصف علی زرداری کے لیے صدارت کی راہ ہموار ہوئی اور پیپلزپارٹی نے وفاقی کابینہ میں شامل ہوئے بغیر حکومت کو پارلیمانی حمایت فراہم کی۔
اس اتحاد کے باوجود دونوں جماعتوں کے اختلافات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے۔ آخری بڑی لفظی جنگ ستمبر اور اکتوبر 2025 میں پنجاب کے سیلاب متاثرین، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، دریائے سندھ کے پانی اور نئی نہروں کے معاملے پر ہوئی تھی، جب مریم نواز، بلاول بھٹو اور دونوں جماعتوں کے ترجمان کئی روز تک ایک دوسرے کو جواب دیتے رہے۔ بعد میں اعلیٰ سطح کے رابطوں کے نتیجے میں کشیدگی کم ہوگئی۔ اس اعتبار سے جولائی 2026 کی موجودہ محاذ آرائی تقریباً نو مہینے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان پہلی اتنی شدید اور براہ راست عوامی چپقلش کے طور پر سامنے آئی ہے جبکہ اس کی انتخابی زبان فروری 2024 کی مہم سے مشابہ ہے۔

 آزاد کشمیر کا انتخاب: پرانی رقابت کے لیے نیا میدان

 آزاد کشمیر میں جولائی 2026 کے انتخابات تین مرحلوں میں ہو رہی ہیں۔ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ غیرحتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے نو اور پیپلزپارٹی نے چار نشستیں حاصل کیں۔
 لیکن دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی نتائج آنے کے بعد اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ اس کی بنیاد انتخابی مہم کے آخری ہفتے میں پڑ چکی تھی۔
21  جولائی کو مظفرآباد کے خورشید حسن خورشید سٹیڈیم میں مسلم لیگ ن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ کشمیر سے ان کی محبت ایسی ہے کہ ان کا دل چاہتا ہے وہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم بن جائیں۔
 یہ بظاہر ایک انتخابی مذاق تھا، لیکن بلاول بھٹو نے اگلے روز میرپور کے جلسے میں اسے سنجیدہ سیاسی حملے میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ایک ایسے شخص کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنانا چاہتی ہے جو رائے ونڈ کا رہائشی اور تین مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم رہ چکا ہے۔
 بلاول بھٹو نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے آئینی انتظام میں ایسی تبدیلی چاہتی ہے جس سے پاکستان کے وزیراعظم کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم مقرر کرنے کا اختیار مل جائے۔

’یہ کشمیر ہے، کشمور نہیں‘

24 جولائی کو میرپور میں مسلم لیگ ن کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے بلاول بھٹو کو نام لے کر جواب دیا کہ ’بلاول برخوردار یہ کشمیر ہے، کشمور نہیں، یہ میرپور ہے، میرپورخاص نہیں۔‘
اس ایک جملے میں مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی کے سندھ میں سیاسی مرکز اور آزاد کشمیر میں اس کے انتخابی دعوے دونوں کو ہدف بنایا۔ اگرچہ نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو برا نہ مانیں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان صحت مند چھیڑ چھاڑ ہونی چاہیے، لیکن کشمور اور میرپورخاص کا حوالہ واضح طور پر پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکمرانی اور سیاسی اثرورسوخ پر طنز تھا۔
اسی جلسے میں نواز شریف اور مریم نواز نے آزاد کشمیر کے لیے ترقیاتی منصوبوں، الیکٹرک بسوں، موبائل ہسپتالوں اور پنجاب جیسے انفراسٹرکچر کے وعدے کیے۔
پیپلزپارٹی نے ان اعلانات کو انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی اور سرکاری وسائل کے ذریعے ووٹروں پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا۔ دس الیکٹرک بسوں کے اعلان کے خلاف پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن سے بھی رجوع کیا اور اسے انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔
 یہاں سے تنازع دو الگ بیانیوں میں تقسیم ہوگیا۔ مسلم لیگ ن کہہ رہی تھی کہ آزاد کشمیر کے عوام پنجاب جیسی ترقی، سڑکیں، ہسپتال اور جدید ٹرانسپورٹ چاہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا مؤقف تھا کہ وفاق اور پنجاب میں حکمران جماعت ترقیاتی اعلانات اور ریاستی وسائل کے ذریعے آزاد کشمیر کے ووٹروں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔

’ کشمیر ہو یا کشمور، حقوق کا سودا نہیں ہوگا‘

 26 جولائی کو بلاول بھٹو نے ایک ویڈیو پیغام میں نواز شریف کے ’کشمیر، کشمور نہیں والے جملے کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ہو یا کشمور، میرپور ہو یا میرپورخاص، وہاں کے عوام اپنے حقوق، اپنی حکمرانی اور اپنے مستقبل کے فیصلوں کا اختیار کسی دوسرے شہر یا صوبے کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں۔
 بلاول بھٹو نے اس جغرافیائی تقابل کو الٹ کر سیاسی حقوق کے مشترکہ سوال میں بدلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح مسلم لیگ ن کو کشمور اور میرپورخاص میں مسترد کیا گیا، اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی اسے شکست ہوگی۔
اس مرحلے تک دونوں جماعتوں کے درمیان سخت جملے ضرور آ چکے تھے، لیکن یہ اب بھی بڑی حد تک روایتی انتخابی نوک جھونک تھی۔ اصل تصادم پولنگ اور نتائج کے بعد سامنے آیا۔

پہلے مرحلے کے نتائج اور دھاندلی کا الزام

 میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر 27 جولائی کو ووٹنگ ہوئی۔ پولنگ کے دوران بعض حلقوں میں جھڑپوں، تشدد، انتخابی عمل میں تعطل اور انٹرنیٹ کی بندش کی شکایات سامنے آئیں۔ غیرحتمی نتائج میں مسلم لیگ ن نو نشستوں کے ساتھ واضح طور پر آگے رہی، جبکہ پیپلزپارٹی نے چار نشستیں حاصل کیں۔
 پیپلزپارٹی نے نتائج کو محض انتخابی شکست کے طور پر قبول کرنے کے بجائے ریاستی مداخلت کا معاملہ بنایا۔ بلاول بھٹو نے 28 جولائی کو مظفرآباد میں پیپلزپارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ سٹیشنوں پر حملے ہوئے، ووٹ چرانے کی کوشش کی گئی اور انٹرنیٹ بند رکھا گیا۔
لیکن ان کا سب سے سخت جملہ وہ تھا جس نے موجودہ تنازع کو آزاد کشمیر کی مقامی سیاست سے نکال کر وفاقی اتحاد اور ریاستی غیر جانب داری کے سوال سے جوڑ دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان کا قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا مسلم لیگ ن کا مفاد۔‘
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی قومی مفاد میں ریاستِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگی لیکن کسی ایک سیاسی جماعت کے مفادات کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت نہیں کرے گی۔ بلاول بھٹو نے انتخابات کو تین مرحلوں میں کرانے کے انتظام پر بھی سوال اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ اس سے مسلم لیگ ن کو اپنے امیدواروں اور وسائل کو مرحلہ وار استعمال کرنے کا فائدہ پہنچا۔
انہوں نے آزاد کشمیر کے انتخابی تشدد، مبینہ مداخلت اور انٹرنیٹ کی بندش کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
 یہ الزام عام انتخابی دھاندلی کی شکایت سے زیادہ سنگین تھا۔ بلاول بھٹو نے دراصل یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا ریاستی ادارے غیر جانب دار ہیں یا وفاق میں حکمران جماعت کے سیاسی مفاد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ایک ایسی جماعت کے سربراہ کی جانب سے یہ الزام زیادہ اہم تھا جو خود شہباز شریف کی وفاقی حکومت کو پارلیمانی حمایت فراہم کرتی ہے اور موجودہ حکومتی نظام کا حصہ ہے۔

 مریم نواز کا جواب: رونا بند کریں، شکست تسلیم کریں

بلاول بھٹو کے مظفرآباد میں بیان کے چند گھنٹوں بعد مریم نواز نے ایک ویڈیو بیان میں جواب دیا انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کا فیصلہ ریاست نے نہیں بلکہ عوام نے کیا ہے اور پیپلزپارٹی کو دھاندلی کا شور مچانے کے بجائے کھلے دل سے اپنی شکست تسلیم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا، پیپلزپارٹی کو کھلے دل سے شکست تسلیم کرنی چاہیے تھی۔‘
 ان کے مطابق پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان میں کامیابی حاصل کی تو مسلم لیگ ن اور وزیراعظم شہباز شریف نے اسے مبارک باد دی، لیکن آزاد کشمیر میں شکست کے بعد پیپلزپارٹی نے نتائج پر سوال اٹھا دیا۔
 مریم نواز نے پیپلزپارٹی کے الزام کے جواب میں آزاد کشمیر کے انتخابی انتظام کی نوعیت کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات سے پہلے نگران حکومت قائم نہیں ہوتی اور پولنگ کے وقت وہاں مسلم لیگ ن کی حکومت موجود نہیں تھی۔ اس لیے پیپلزپارٹی کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ مسلم لیگ ن نے اپنی حکومت کے ذریعے انتخابی عمل کو کنٹرول کیا۔
تاہم مریم نواز کا جواب انتخابی الزامات کی تردید تک محدود نہ رہا۔ انہوں نے بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی کو سندھ میں ان کی حکومت کی کارکردگی کے ذریعے ہدف بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی تقریباً 17 برس سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے، لیکن آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں وہ سندھ کا کوئی ایسا ترقیاتی منصوبہ پیش نہیں کر سکی جسے وہاں کے لوگوں کے لیے نمونہ بنایا جا سکے۔ یوں آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پر شروع ہونے والی بحث پنجاب اور سندھ کی کارکردگی کے براہ راست مقابلے میں بدل گئی۔
ان کا ایکس پر آخری بیان ٹویٹ کی شکل میں آیا کہ ’پیپلزپارٹی جو دھاندلی کی باریک واردات کی ماسٹر ہے، دھاندلی کا رونا رو رہی ہے۔ قیامت کتنے بجے ہے؟‘
 مریم نواز اور بلاول بھٹو کے بیانات کے بعد دونوں جماعتوں کے دیگر رہنماؤں نے بھی محاذ سنبھال لیا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود پنجاب میں ’جعلی مینڈیٹ‘ کے ذریعے حکومت کر رہی ہیں اور اب مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کا مینڈیٹ بھی چھیننا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے وفاقی وزیر احسن اقبال نے بلاول بھٹو کے بیانات کو غیر جمہوری قرار دیا اور کہا کہ انتخابی شکست کے بعد ریاستی اداروں پر الزام عائد کرنا مناسب سیاسی رویہ نہیں۔ اس طرح چند گھنٹوں میں تنازع دو مرکزی رہنماؤں سے نکل کر دونوں جماعتوں کی مکمل ابلاغی جنگ میں بدل گیا۔

کیا وفاقی اتحاد خطرے میں ہے؟

مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے موجودہ سیاسی تعلق کی خاصیت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حریف بھی ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورت بھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورت حال میں بھی ان دونوں جماعتوں کا ایک دوسرے کے بغیر گزارہ نہیں۔ سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ ’موجودہ لڑائی اسی طرح ہی چلتی رہے گی۔ کیونکہ ایک طرح سے تحریک انصاف کی کمی کو پورا کر رہے ہیں۔ صرف اس صورت میں اتحاد خطرے میں پڑ سکتا ہے اگر پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ کوئی نیا انتخابی اتحاد بنانے کا سوچتی ہے تو اس صورت حال میں یہ کوئی قابل عمل بات ہو سکتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ اتحاد کو میرے خیال میں کوئی خطرہ نہیں کیونکہ دوسری کسی بھی صورت میں دونوں ہی اقتدار سے ہی نکل جائیں گی۔ یعنی کوئی ایک نکلتا ہے تو دونوں کا اقتدار ختم ہو گا۔ ایک کے پاس صدارت ہے اور ایک کے پاس وازارت عظمی۔‘ جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا موجود لڑائی سنجیدہ ہے؟ تو مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ ’لڑائی تو سنجیدہ نہیں ہے لیکن اس کے نتائج سنجیدہ ضرور ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو صورت حال کسی ایسی طرف بھی جا سکتی ہے کہ پھر کسی کے کنٹرول میں نہ رہے۔‘ 

شیئر: