Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تعلیم میں مصنوعی ذہانت: سعودی عرب کو عالمی قیادت کی جانب لے جانے والی ایک جامع تبدیلی

مملکت نے مصنوعی ذہانت کو تعلیم کے شعبے میں کامیابی سے ضم کیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
گزشتہ دو برس کے دوران سعودی عرب کے نظامِ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت سے اِس شعبے میں انقلابی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔
اِن تبدیلیوں کی بنیادی وجہ عمومی تعلیم کے ہر شعبے میں مصنوعی ذہانت کو لازمی مضمون کے طور پر نصاب میں شامل کرنا تھا۔ نتیجتاً مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ کی تربیت کی گئی اور معیار اور کارکردگی کو جانچنے اور اِس کا جائزہ لینے کے لیے نگرانی کا ایک فریم ورک بھی قائم کیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ورلڈ بینک اور مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس میں یہ بات اجاگر کی گئی ہے کہ سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کو تعلیم کے شعبے میں کامیابی سے ضم کیا ہے۔ جن اداروں کے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ رپورٹس تیار ہوئی ہیں اُن میں تعلیم و تربیت کا جائزہ کمیشن (ای ٹی ای سی)، وزارتِ تعلیم اور ہیومن کیپیبیلٹی ڈیویلپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔ یہ تینوں ادارے سعودی وژن 2030 کے انیشیٹیو کے تحت قائم کیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، عالمی تبدیلیوں کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں شامل اُن ممالک میں سے ایک ہے جو تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ذمہ دارانہ جدت کو آگے بڑھانے میں علاقائی اور بین الاقوامی حوالہ سمجھے جاتے ہیں۔
سٹیریٹیجک فریم ورک
تعلیم میں فنی تبدیلی کے لیے ہیومن کیپیبیلٹی ڈیویلپمنٹ پروگرام کے چار سٹیرٹیجک اساسی اجزا سے رہنمائی لے جا رہی ہے۔
ان اجزا میں پہلا جُز ’مضبوط شناخت‘ ہے جو اقدار، قومی شناخت اور عربی زبان کی تقویت کا ذمہ دار ہے۔

دوسرے میں ’بنیادوں کی استواری‘ میں تعلیمی قابلیت اور مستقبل کے ہنر سیکھنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ تیسرا عُنصر ’بھرپور تیاری‘ ہے جو تعلیم نتائج کو لیبر مارکیٹ کے اہداف سے ہم آہنگ کرتا ہے جبکہ چوتھی جہت میں ’قیادت کی تجدید‘ کے ذریعے جدت و اختراع اور اونٹرپرنیئرشپ کو فروغ دیا جائے گا۔
گزشہ سال اگست میں چوبیسویں حکومتی پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ تعلیم یوسف البنیان نے اعلان کیا تھا کہ 19 سے زیادہ سٹریٹیجک ہدف حاصل کر لیے گئے ہیں جن میں نصاب کو بہتر بنانا، اساتذہ کی تربیت، مصنوعی ذہانت کو تعلیمی شعبے میں پیوست کرنا اور تکینیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کو وسعت دینا شامل تھا۔
طلبہ کی استعداد میں اضافہ اور اساتذہ کی تربیت
مصنوعی ذہانت کے نصاب کو تدریجی عمل کے تحت ترتیب دیا گیا ہے جس سے عمومی تعلیم کے تمام شعبوں میں چھ ملین سے زیادہ طلبہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اِس کا آغاز ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے محفوظ اور اخلاقی استعمال کے بارے میں آگاہی سے ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ طلبہ کی عمر کو سامنے رکھ کر اور پروگرامنگ کے ماحول میں رہتے ہوئے، انھیں مصنوعی ذہانت کے سادہ نظام کو سمجھنے کے قابل بناتا ہے۔
گزشتہ سال 13 ہزار  سے زیادہ اساتذہ نے مصنوعی ذہانت اور اِس کے عملی اطلاق میں خصوصی تربیت حاصل کی۔ علاوہ ازیں، نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشنل پرفیشنل ڈیویلپمنٹ کے پلیٹ فارم سے چار لاکھ 70 ہزار  سے زیادہ سے زیادہ تربیت حاصل کرنے والوں کو فائدہ پہنچا۔

وزارتِ تعلیم نے اساتذہ کو عملی آلات سے بھی لیس کیا ہے جن میں معین تربیتی پلیٹ فارم بھی ہے جو اسباق کی تیاری، کلاس رُوم کی سرگرمیوں اور امتحانات میں مدد فراہم کرتا ہے۔
مدرستی پورٹل میں مصنوعی ذہانت کے معاون نظام کو کامیابی سے شامل کر لیا گیا ہے اور سعودی ڈیٹا اینڈ اے آئی اتھارٹی اور نیشنل ای لرنگ سینٹر کے تعاون سے تخلیقی مصنوعی ذہانت کی رہنما گائڈ بھی جاری کر دی گئی ہے۔
عالمی جامعات سےشراکت داریاں
چھ بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے شراکت کے نتیجے میں سعودی عرب میں 80 ڈیجیٹل سٹارٹ اپس کی سرپرستی کی گئی جبکہ جامعات کی بنیاد پر سامنے آنے والے 60 سٹارٹ اپس کو معاونت فراہم کرتے ہوئے انھیں سرمایہ کاری اور فنڈنگ دینے والے 84 اداروں سے منسلک کیا گیا۔

 

شیئر: