’دنیا کا ذہین ترین‘ اے آئی ماڈل جی پی ٹی 6 آسٹرا کیا کچھ کر سکتا ہے؟
’دنیا کا ذہین ترین‘ اے آئی ماڈل جی پی ٹی 6 آسٹرا کیا کچھ کر سکتا ہے؟
جمعرات 10 ستمبر 2026 15:32
اوپن اے آئی نے مصنوعی ذہانت کا نیا فلیگ شپ ماڈل ’جی پی ٹی 6 آسٹرا‘ متعارف کرایا ہے۔(فوٹو:اوپن اے آئی)
اوپن اے آئی نے مصنوعی ذہانت کا نیا فلیگ شپ ماڈل ’جی پی ٹی 6 آسٹرا‘ متعارف کرایا ہے، جو پیچیدہ مسائل حل کرنے، کوڈنگ، تحقیق اور کمپیوٹر پر مختلف کام انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ دی ٹیک ریوولوشنسٹ کے مطابق آسٹرا کی سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ یہ صرف سوالات کے جواب دینے کے بجائے ویب سائٹس، ایپلی کیشنز، کوڈ اور کاروباری فائلوں کے ساتھ براہِ راست کام کر سکتا ہے۔
نئے ماڈل کی محدود اداروں کے لیے فراہمی تین ستمبر سے شروع ہوئی، جبکہ بعد میں چیٹ جی پی ٹی پلس، پرو، بزنس اور انٹرپرائز صارفین اور ڈویلپرز کے لیے اس کی رسائی بڑھانے کا اعلان کیا گیا۔
نیا ماڈل طویل اور کئی مراحل پر مشتمل کام مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور کام کرنے کے انداز میں 10 اہم تبدیلیاں سامنے آتی ہیں۔
کمپیوٹر پر کام خود انجام دینے کی صلاحیت
جی پی ٹی 6 آسٹرا صارف کی ہدایت پر بعض حالات میں خود کمپیوٹر پر کام کر سکتا ہے۔ اس میں آن لائن فارم بھرنا، سی آر ایم ریکارڈز اپ ڈیٹ کرنا، کیلنڈر ترتیب دینا، تحقیق کرنا، سافٹ ویئر انسٹال اور ٹیسٹ کرنا اور ویب سائٹس بنانا شامل ہے۔
یوں چیٹ جی پی ٹی کا کردار مشورہ دینے والے معاون سے کام مکمل کرنے والے آپریٹر تک بڑھ جاتا ہے تاہم اس کی عملی صلاحیت دستیاب ٹولز اور اکاؤنٹ کی اجازتوں پر منحصر ہو گی۔
طویل کمپیوٹر ٹاسکس تیزی سے مکمل کرنا
اوپن اے آئی کے مطابق آسٹرا نے او ایس ورلڈ 2.0 ٹیسٹ میں 72.6 فیصد سکور حاصل کیا، جبکہ جی پی ٹی 5.6 سول نے 65.7 فیصد سکور کیا۔
آسٹرا نے یہ کام تقریباً 40 منٹ میں مکمل کیے، جبکہ سابقہ ماڈل کو تقریباً 75 منٹ لگے۔(فوٹو:اوپن اے آئی)
آسٹرا نے یہ کام تقریباً 40 منٹ میں مکمل کیے، جبکہ سابقہ ماڈل کو تقریباً 75 منٹ لگے، یعنی کام مکمل کرنے کے وقت میں 47 فیصد کمی آئی۔ مائنڈ 2 ویب کے ٹیسٹ میں بھی آسٹرا نے کام 1.9 گنا تیزی سے مکمل کیے۔
دستاویزات، پریزنٹیشنز اور سپریڈ شیٹس میں کم اصلاح
آسٹرا کاروباری دستاویزات، پریزنٹیشنز اور اسپریڈ شیٹس تیار کرتے وقت موجودہ ٹیمپلیٹس، تحریری انداز اور بصری طرز کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ اس سے فارمیٹنگ اور معمولی اصلاحات کے لیے درکار اضافی وقت کم ہو سکتا ہے۔
نئی ہدایات کے باوجود اصل مقصد برقرار رکھنا
آسٹرا نئی ہدایات کو پہلے سے موجود شرائط اور مجموعی مقصد کے ساتھ جوڑ کر کام جاری رکھتا ہے۔
یہ معمول کی کمی دستیاب معلومات کی بنیاد پر پوری کر سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اہم سوالات کی وضاحت بھی طلب کر سکتا ہے۔ کوڈیکس میں صارف کے جواب کا انتظار کرتے ہوئے دوسرے کام پر بھی پیش رفت جاری رکھی جا سکتی ہے۔
آسٹرا کے ساتھ کوڈیکس میں ایک تجرباتی نظام شامل ہے جس میں مستقل نوٹس اور سابقہ سیاق و سباق تلاش کرنے کی سہولت موجود ہے۔(فوٹو:اوپن اے آئی)
کوڈنگ کے دوران پرانی معلومات محفوظ رکھنا
آسٹرا کے ساتھ کوڈیکس میں ایک تجرباتی نظام شامل ہے جس میں مستقل نوٹس اور سابقہ سیاق و سباق تلاش کرنے کی سہولت موجود ہے۔
اس کے ذریعے پہلے کی ضروریات، ٹیسٹ کے نتائج اور ٹولز سے حاصل معلومات دوبارہ تلاش کی جاسکتی ہیں۔ یہ سہولت ابتدا میں اختیاری ہے اور بعد میں ڈیفالٹ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
کوڈنگ سے مکمل سافٹ ویئر انجینئرنگ تک
اوپن اے آئی کے مطابق آسٹرا اس کا اب تک کا سب سے مضبوط سافٹ ویئر انجینئرنگ ماڈل ہے۔
یہ بڑے کوڈ بیس کو سمجھنے، ڈیٹا بیس میں تبدیلیاں کرنے، ٹرمینل پر کام کرنے، کوڈ میں ترمیم، ٹیسٹ چلانے اور نتائج کی وضاحت جیسے کام کرسکتا ہے۔ اس میں سوچنے کی مختلف سطحیں دستیاب ہیں، جبکہ اے پی آئی میں ’نو ریزننگ‘ کا آپشن درج نہیں کیا گیا۔
آسٹرا اوپن اے آئی کا پہلا ماڈل ہے جس نے سائبر سکیورٹی میں انتہائی اہم جگہ حاصل کی ہے۔(فوٹو:اوپن اے آئی)
تحقیق اور خصوصی سافٹ ویئر میں زیادہ مدد
آسٹرا میں ویب براؤزنگ، ڈیٹا تجزیے اور کمپیوٹر استعمال کرنے کی صلاحیتیں یکجا کی گئی ہیں، جس سے سائنسی ڈیٹا کا جائزہ لینے، خصوصی سافٹ ویئر استعمال کرنے اور گراف بنانے میں مدد ملتی ہے۔
سائبر سکیورٹی میں زیادہ طاقت، مگر زیادہ پابندیاں
آسٹرا اوپن اے آئی کا پہلا ماڈل ہے جس نے سائبر سکیورٹی میں انتہائی اہم جگہ حاصل کی ہے۔
حفاظتی پابندیوں کے بغیر ایکسپلوئٹ بینچ میں اس کا سکور 100 فیصد رہا، جبکہ جی پی ٹی 5.6 سول کا 78.5 فیصد تھا۔
اوپن اے آئی کے مطابق آسٹرا نے اندرونی جائزے میں دو پہلے سے نامعلوم کمزوریاں بھی تلاش کیں، تاہم عوامی ورژن بعض جدید سائبر درخواستوں سے انکار کرتا ہے۔
اوپن اے آئی کے اے پی آئی میں اس کی قیمت 10 لاکھ ان پٹ ٹوکن کے لیے 10 ڈالر اور آؤٹ پٹ کے لیے 50 ڈالر ہے۔(فوٹو:اوپن اے آئی)
ہر کام کے لیے سب سے سستا ماڈل نہیں
آسٹرا کی زیادہ صلاحیتوں کے ساتھ اس کی لاگت بھی زیادہ ہے۔
اوپن اے آئی کے اے پی آئی میں اس کی قیمت 10 لاکھ ان پٹ ٹوکن کے لیے 10 ڈالر اور آؤٹ پٹ کے لیے 50 ڈالر ہے، جبکہ جی پی ٹی 5.6 سول کی تشہیری قیمت 4 اور 20 ڈالر ہے۔
2 لاکھ 72 ہزار سے زیادہ ان پٹ ٹوکن والے پرامپٹس پر اضافی شرحیں لاگو ہوتی ہیں۔ اس لیے معمول کے کاموں کے لیے کم قیمت ماڈلز زیادہ موزوں ہوسکتے ہیں، جبکہ پیچیدہ کاموں میں آسٹرا زیادہ فائدہ دے سکتا ہے۔
جی پی ٹی 6 آسٹرا کیا نہیں بدلتا؟
آسٹرا کی سیاق و سباق سمجھنے کی حد 10 لاکھ 5 ہزار ٹوکن ہی ہے، جس میں زیادہ سے زیادہ 9 لاکھ 22 ہزار ان پٹ اور ایک لاکھ 28 ہزار آؤٹ پٹ ٹوکن شامل ہیں۔ ماڈل متن اور تصاویر کو ان پٹ کے طور پر قبول کرکے متنی نتائج فراہم کرتا ہے۔
ریئل ٹائم اے پی آئی، فائن ٹیوننگ، آواز تیار کرنا اور براہ راست ویڈیو بنانا اس ماڈل کا حصہ نہیں ہیں۔ زیادہ خودمختاری کے باوجود انسانی نگرانی ضروری رہے گی، کیونکہ کمپیوٹر پر کیے گئے کام حقیقی اکاؤنٹس کو متاثر کر سکتے ہیں اور حساس کاموں میں غلطی کا امکان موجود رہتا ہے۔