انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو ٹیسٹ میچ میں 9 چھکے لگا کر ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے والے رضااللہ کون ہیں؟
جمعہ 11 ستمبر 2026 22:57
ثوبان افتخار راجہ -اردو نیوز، اسلام آباد
رضااللہ نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نو چھکوں اور چار چوکوں کے ساتھ 81 رنز بنائے (فوٹو: گیٹی)
انگلینڈ کے خلاف اپنے ڈیبیو میچ میں نو چھکے لگا کر نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی کا ریکارڈ اپنے نام کرنے والے رضااللہ مشوانی نے اپنے بڑے بھائی کو ٹیپ بال کرکٹ کھیلتے دیکھ کر کھیلنے کا آغاز کیا تھا۔
رضااللہ مشوانی کی پیدائش 5 اپریل 2005 کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر کے علاقے نیہگ میں ہوئی تھی تاہم بعد ازاں ان کا خاندان سنہ 2007 میں مردان منتقل ہو گیا تھا۔
رضااللہ مشوانی نے کرکٹ کی ابتدائی تربیت کسی بڑے سٹیڈیم میں نہیں بلکہ مردان کی گلیوں اور کھلے میدانوں میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ٹیپ بال کرکٹ سے حاصل کی۔
وہ بتاتے ہیں کہ بڑے بھائی کو مقامی ٹیپ بال ٹورنامنٹس میں فاسٹ بولنگ کرتے دیکھ کر انہیں بھی تیز گیند بازی کا شوق پیدا ہوا۔ تقریباً تین سال تک سٹریٹ اور ٹیپ بال کرکٹ کھیلنے کے بعد ان کے والد اور بھائیوں نے ان کی غیر معمولی رفتار کو محسوس کیا اور انہیں ہارڈ بال کرکٹ کی طرف آنے کی ترغیب دی۔
بعد ازاں رضااللہ مشوانی نے مردان کی ایک کرکٹ اکیڈمی سے باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ ان کی رفتار نے جلد ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں توجہ حاصل کی اور انڈر 19 سطح پر مردان کی نمائندگی کے بعد وہ ایبٹ آباد ریجن کی انڈر 19 ٹیم کا حصہ بنے۔ پاکستان یوتھ ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی۔
سینئر کرکٹ میں قدم رکھتے ہی رضااللہ مشوانی کو ایک بڑا دھچکا بھی لگا۔ سنہ 2024 میں مردان ڈسٹرکٹ ٹیم کے لیے اپنے دوسرے میچ میں انہیں کہنی کی شدید انجری کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور کلب کرکٹ میں واپسی کی۔ ایم آئی ٹی سلوشنز کے لیے کھیلتے ہوئے انہوں نے واپسی کے پہلے سیزن میں 28 اور اگلے سیزن میں 27 وکٹیں حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
رضااللہ مشوانی کے کیریئر میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب پشاور ریجن کے کوچ رفعت اللہ نے انہیں بطور مہمان کھلاڑی موقع دیا۔ انہوں نے اس موقع کو دونوں ہاتھوں سے قبول کیا اور گیند کے ساتھ ساتھ بیٹنگ میں بھی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہی میچ میں سنچری اور نصف سنچری اسکور کی۔
2025-26 کا فرسٹ کلاس سیزن رضااللہ مشوانی کے لیے بریک تھرو ثابت ہوا۔ ’ساحر ایسوسی ایٹس‘ کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ پریذیڈنٹ ٹرافی اور قائداعظم ٹرافی میں شاندار بولنگ کی اور صرف پانچ میچز میں 30 وکٹیں حاصل کیں۔ اس دوران انہوں نے مسلسل دو پانچ وکٹوں کے کارنامے بھی انجام دیے۔
ان کی تیز رفتار ترقی نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دروازے بھی کھول دیے اور 2026 میں انہیں راولپنڈیز نے سکواڈ میں شامل کیا۔ ٹی20 کرکٹ میں بھی انہوں نے اپنی رفتار اور جارحانہ انداز سے متاثر کیا۔
رضااللہ مشوانی عام طور پر 140 سے 145 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرتے ہیں جبکہ ان کی زیادہ سے زیادہ رفتار 148 کلومیٹر فی گھنٹہ یعنی 92 میل فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر ہونے کے ساتھ وہ دائیں ہاتھ سے نچلے نمبروں پر جارحانہ بیٹنگ بھی کرتے ہیں۔
ان کے کھیل کا سب سے بڑا رول ماڈل آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز ہیں۔ رضااللہ مشوانی کمنز کی بولنگ کا بغور مطالعہ کرتے ہیں اور ان کی نسبت سے شرٹ نمبر 30 بھی پہنتے ہیں۔
ستمبر 2026 میں انگلینڈ کے خلاف برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں رضااللہ مشوانی کو اچانک پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ ان کا کال اپ اس قدر اچانک تھا کہ انہیں سفر کے لیے پاسپورٹ تک بنوانا پڑا اور ہنگامی بنیادوں پر سفری دستاویزات اور ویزا کا انتظام کیا گیا۔
ٹیسٹ ڈیبیو پر رضااللہ مشوانی نے اپنے پہلے ہی اوور میں انگلینڈ کے تجربہ کار بلے باز جو روٹ کو ایل بی ڈبلیو کرکے پہلی بین الاقوامی وکٹ حاصل کی۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 23 اوورز میں 148 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔
تاہم ان کے ڈیبیو کا سب سے یادگار لمحہ بیٹنگ میں آیا۔ نویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے رضااللہ مشوانی نے 63 گیندوں پر 81 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی، جس میں نو چھکے شامل تھے۔ اس کارکردگی کے ذریعے انہوں نے ٹیسٹ ڈیبیو پر ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا عالمی ریکارڈ برابر کیا، جس میں نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی بھی شامل ہیں۔
رضااللہ مشوانی نے اپنے ریکارڈ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، میں کوشش کرتا ہوں جو نیچرل ہے اسی پر رہوں، میرا پلان تھا کہ اپنی اننگز کو تھوڑا لمبا لے کر جاؤں اور اس میں کامیاب ہوا، یہ ریکارڈ بنانے میں میرا کوئی کمال نہیں ہے، سب کچھ خدا کی مرضی ہے، مجھے ڈر بلکل بھی نہیں لگ رہا تھا، جب آپ اپنے ملک کے لیے کھیلتے ہو تو کوئی ڈر نہیں لگتا۔‘
کرکٹ تجزیہ کار ابوبکر بن طلعت کہتے ہیں کہ ’رضا اللہ کا پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں آج بھی ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، کمی صرف درست ٹیلنٹ کو تلاش کرنے، اسے موقع دینے اور میرٹ پر سلیکشن کی ہے۔ پاکستان کی حالیہ ٹیسٹ کارکردگی کے بعد یہ سوال اٹھ رہے تھے کہ کیا ہماری ٹیسٹ کرکٹ ختم ہو رہی ہے اور کیا ہم انگلینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ لیکن رضا اللہ نے اپنی بولنگ اور بیٹنگ سے ثابت کیا کہ پاکستان کے پاس اب بھی صلاحیت موجود ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’البتہ ایک میچ کی شاندار کارکردگی کے بعد یہ بحث شروع نہیں ہونی چاہیے کہ رضا اللہ کو فوری طور پر تینوں فارمیٹس میں کھلایا جائے۔ پاکستان میں ماضی میں بھی کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کو وائٹ بال، خصوصاً ٹی20 کرکٹ میں زیادہ استعمال کیا گیا، جس سے ان کی ریڈ بال کرکٹ، فٹنس اور کھیل کی ترجیحات متاثر ہوئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ رضا اللہ جیسے ٹیلنٹ کو کیسے محفوظ رکھا جائے، اس کا ورک لوڈ کیسے مینیج کیا جائے اور اسے مکمل انٹرنیشنل کرکٹر بننے کے لیے کیسے تیار کیا جائے۔‘
ابوبکر بن طلعت کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ میں ایسے سینکڑوں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔ ضرورت ایک ایسے نظام کی ہے جہاں انتخاب میرٹ پر ہو اور ریڈ بال کے لیے ریڈ بال کی کارکردگی کو ترجیح دی جائے۔ رضا اللہ اس بات کی بہترین مثال ہیں کہ اگر ٹیلنٹ کو موقع ملے تو پاکستان آج بھی عالمی کرکٹ کو بڑے کھلاڑی دے سکتا ہے۔‘
