انگلینڈ کے خلاف اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میچ میں نو چھکے لگا کر نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی کا ریکارڈ برابر کرنے والے رضا اللہ مشوانی نے اپنے بڑے بھائی کو ٹیپ بال کرکٹ کھیلتا دیکھ کر کھیل کا آغاز کیا تھا۔
رضا اللہ مشوانی کی پیدائش پانچ اپریل سنہ 2005 کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر کے علاقے نیہگ میں ہوئی تھی تاہم بعد ازاں ان کا خاندان سنہ 2007 میں مردان منتقل ہو گیا تھا۔
رضا اللہ مشوانی نے کرکٹ کی ابتدائی تربیت کسی بڑے سٹیڈیم میں نہیں بلکہ مردان کی گلیوں اور کھلے میدانوں میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ٹیپ بال کرکٹ کھیل کر حاصل کی۔
مزید پڑھیں
وہ بتاتے ہیں کہ بڑے بھائی کو مقامی ٹیپ بال ٹورنامنٹس میں فاسٹ بولنگ کرتے دیکھ کر انہیں بھی تیز گیند بازی کا شوق پیدا ہوا۔ قریباً تین سال تک سٹریٹ اور ٹیپ بال کرکٹ کھیلنے کے بعد ان کے والد اور بھائیوں نے ان کی غیر معمولی رفتار کو محسوس کیا اور انہیں ہارڈ بال کرکٹ کی طرف آنے کی ترغیب دی۔
بعد ازاں رضا اللہ مشوانی نے مردان کی ایک کرکٹ اکیڈمی سے باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ ان کی رفتار نے جلد ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں توجہ حاصل کی اور انڈر 19 سطح پر مردان کی نمائندگی کے بعد وہ ایبٹ آباد ریجن کی انڈر 19 ٹیم کا حصہ بنے۔ پاکستان یوتھ ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی۔
سینیئر کرکٹ میں قدم رکھتے ہی رضا اللہ مشوانی کو ایک بڑا دھچکہ بھی لگا۔ سنہ 2024 میں مردان ڈسٹرکٹ ٹیم کے لیے اپنے دوسرے میچ میں انہیں کہنی کی شدید انجری کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور کلب کرکٹ میں واپسی کی۔ ایم آئی ٹی سلوشنز کے لیے کھیلتے ہوئے انہوں نے واپسی کے پہلے سیزن میں 28 اور اگلے سیزن میں 27 وکٹیں حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
رضا اللہ مشوانی کے کیریئر میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب پشاور ریجن کے کوچ رفعت اللہ نے انہیں بطور مہمان کھلاڑی موقع دیا۔ انہوں نے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا اور گیند کے ساتھ ساتھ بیٹنگ میں بھی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہی میچ میں سینچری اور نصف سینچری سکور کی۔
سنہ 2025-26 کا فرسٹ کلاس سیزن رضا اللہ مشوانی کے لیے بریک تھرو ثابت ہوا۔ ’ساحر ایسوسی ایٹس‘ کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ پریذیڈنٹ ٹرافی اور قائداعظم ٹرافی میں شاندار بولنگ کی اور صرف پانچ میچز میں 30 وکٹیں حاصل کیں۔ اس دوران انہوں نے مسلسل دو مرتبہ پانچ پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔

روز بروز بہتر ہوتی کارکردگی نے ان پر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دروازے بھی کھول دیے اور 2026 میں انہیں راولپنڈیز نے سکواڈ میں شامل کیا۔ ٹی20 کرکٹ میں بھی انہوں نے اپنی تیز رفتار بولنگ اور بیٹنگ سے مبصرین کو متاثر کیا۔
رضا اللہ مشوانی عام طور پر 140 سے 145 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرتے ہیں جبکہ ان کی زیادہ سے زیادہ رفتار 148 کلومیٹر فی گھنٹہ یعنی 92 میل فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ دائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ کرنے والے رضا اللہ نچلے نمبروں پر جارحانہ بیٹنگ بھی کرتے ہیں۔
ان کے سب سے بڑے رول ماڈل آسٹریلوی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز ہیں۔ رضا اللہ مشوانی کمنز کی بولنگ کا بغور مطالعہ کرتے ہیں اور ان کی نسبت سے شرٹ نمبر 30 بھی پہنتے ہیں۔
ستمبر 2026 میں انگلینڈ کے خلاف برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں رضا اللہ مشوانی کو اچانک پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل ہونے کا موقع ملا۔
ٹیسٹ ڈیبیو پر رضا اللہ مشوانی نے اپنے پہلے ہی اوور میں انگلینڈ کے کپتان اور تجربہ کار بلے باز جو روٹ کو ایل بی ڈبلیو کر کے پہلی بین الاقوامی وکٹ حاصل کی۔
Applauded for a fantastic effort
Razaullah is a fan favourite after his incredible 81 on debut#ENGvPAK | #PakistanCricket pic.twitter.com/vvRP2Lc9AU
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) September 11, 2026
انہوں نے مجموعی طور پر پہلی اننگز میں 23 اوورز میں 148 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔
تاہم ان کے ڈیبیو کا سب سے یادگار لمحہ بیٹنگ میں آیا۔ برمنگھم ٹیسٹ میں نویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے رضا اللہ مشوانی نے 63 گیندوں پر 81 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی، جس میں نو چھکے اور چار چوکے شامل تھے۔ اس کارکردگی کے ذریعے انہوں نے ٹیسٹ ڈیبیو کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی عالمی ریکارڈ برابر کیا۔
رضا اللہ مشوانی اپنے ریکارڈ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، میں کوشش کرتا ہوں جو نیچرل گیم ہے اسی پر رہوں، میرا پلان تھا کہ اپنی اننگز کو تھوڑا لمبا لے کر جاؤں اور اس میں کامیاب ہوا، یہ ریکارڈ بنانے میں میرا کوئی کمال نہیں ہے، سب کچھ خدا کی مرضی ہے، بیٹنگ کے دوران مجھے ڈر بالکل بھی نہیں لگ رہا تھا، جب آپ اپنے ملک کے لیے کھیلتے ہو تو کوئی ڈر نہیں ہوتا۔‘
انگلینڈ کے ساتھ ٹیسٹ کے دنوں میں یہ افواہیں بھی سامنے آئیں کہ رضا اللہ کے پاس پاسپورٹ بھی نہیں تھا لیکن انہوں نے ایسے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔
رضاء اللہ نے کہا کہ ’سب سے پہلے تو پاسپورٹ موجود نہ ہونے سے متعلق بات غلط ہے۔ میرا پاسپورٹ ایک سال پہلے بنا ہوا تھا۔ میں ایک ایک ہفتہ پہلے وہ جمع کرایا اور اس کے بعد باقی پراسس ہوا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں میرے 100 رنز بھی ہیں 50 بھی۔ تو میں نے کہا تھا کہ میں یہ کر سکتا ہوں تو اللہ پاک نے اس کا مثبت رزلٹ دیا۔‘
کرکٹ تجزیہ کار ابوبکر بن طلعت نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’رضا اللہ کا پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں آج بھی ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، کمی صرف درست ٹیلنٹ کو تلاش کرنے، اسے موقع دینے اور میرٹ پر سلیکشن کی ہے۔‘













