Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنوبی طائف کی سیاحتی شاہراہ: مملکت کے دلکش ترین سفری راستوں میں سے ایک

اس شاہراہ پر تاریخی دیہات موجود ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
طائف کے جنوبی جانب میسان کمشنری کو جانے والا سیاحتی راستہ مملکت کے سب سے دلکش سفری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ قدرتی مناظر، ثقافتی ورثے اور زرعی وسائل کا ایک بھر پور امتزاج پیش کرتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ راستہ متعدد پہاڑی قصبوں اور دیہات سے گزرتا ہے۔ اس کا آغاز ’بنی سعد، میسان اور ثقیف‘ سے ہوتا ہے۔ بنی مالک اور القریع سے ہوتا ہوا عسیر ریجن کی شمالی حدود تک جاتا ہے۔
راستے میں سروات پہاڑی سلسلے کی ڈھلوانیں نظر آتی ہیں جہاں بلند و بالا پہاڑ، سرسبز وادیاں اور سیڑھی نما کھیت کے دلکش مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
شاہراہ کے اطراف میں جنوبی طائف اور میسان کمشنری کے بلند علاقوں کے موسمی پھلوں کے باغات واقع ہیں۔ ان میں انگور، انار اوربرشومی یہاں کی خاص زرعی پیداوار ہیں۔
اس شاہراہ پر متعدد تاریخی دیہات موجود ہیں جن میں ’الکلادا گاؤں‘ نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر پتھرسے بنے قدیم قلعے اور فصیلیں علاقے کی صدیوں پر محیط تہذیبی اور تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سیاحتی تجربے کو ثقافتی رنگ سے ہم آہنگ کرتی ہے۔

علاقے کے ٹورگائیڈ سامی الحارثی نے بتایا ’یہ شاہراہ مملکت کے متنوع ترین سیاحتی راستوں میں سے ایک ہے جہاں قدرتی حسن، ثقافتی ورثہ اور زرعی زندگی ایک ہی جغرافیائی علاقے میں دکھائی دیتے ہیں۔‘
وزیٹرز تاریخی دیہات، پہاڑی نظاروں، کھیتوں اور دیہی بازاروں کے درمیان آسانی سے سفر کرتے ہوئے مسلسل بدلتے ہوئے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

الحارثی کے مطابق علاقے میں موسمِ گرما کے دوران درجہ حرارت 18 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے جبکہ موسمی بارشیں، پہاڑوں، وادیوں اور باغات کی خوبصورتی میں مزید اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ 
ان خصوصیات کے باعث یہ علاقہ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے، قدرتی مقامات کی سیر اور تاریخی ورثے کی تلاش میں آنے والوں کی پسندیدہ منزل ہے۔

 

شیئر: