Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قنطاس کے اے 380 طیاروں کی ریٹائرمنٹ، کیا سپر جمبو طیاروں کا دور ختم ہونے والا ہے؟

اے 380 طیارے کو دنیا بھر میں مسافروں اور ہوا بازی کے شوقین افراد میں خاص مقبولیت حاصل رہی ہے (فائل فوٹو: گیٹی)
آسٹریلوی فضائی کمپنی ’قنطاس‘ نے اپنے پورے ’ایئربس اے 380‘ بیڑے کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد دنیا کے سب سے بڑے مسافر طیارے کے مستقبل پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سی این این کے مطابق قنطاس اگست میں اعلان کر چکی ہے کہ وہ اپنے 10 ’اے 380‘ طیاروں کو سنہ 2028 سے ریٹائر کرنا شروع کرے گی جو پہلے طے شدہ شیڈول سے تقریباً چار سال پہلے ہے۔ کمپنی کے مطابق طیاروں کی دیکھ بھال اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات اس فیصلے کی اہم وجوہات ہیں۔
’اے 380 طیارے‘ کو دنیا بھر میں مسافروں اور ہوا بازی کے شوقین افراد میں خاص مقبولیت حاصل رہی ہے۔ اس ڈبل ڈیکر طیارے میں پانچ سے زائد مسافروں کی گنجائش ہو سکتی ہے جبکہ اس کی کشادگی، کم شور، استحکام اور آرام دہ سفر اسے دیگر مسافر طیاروں سے منفرد بناتے ہیں۔
ہوا بازی کے تجزیاتی ادارے سیریم کے مطابق ’اس وقت دنیا بھر میں صرف ایک سو 71 ’اے 380‘ طیارے سروس میں ہیں جبکہ سنہ 2010 کی دہائی کے آخر میں فعال طیاروں کی تعداد 230 سے زیادہ تھی۔ ایئربس نے بھی سنہ 2021 میں ’اے 380‘ کی پیداوار بند کر دی تھی کیونکہ نئے آرڈرز میں نمایاں کمی آگئی تھی۔
کورونا کی وبا کے دوران تو ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ’اے 380‘ کا دور مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ ’ایئر فرانس‘ اور ’تھائی ایئر ویز‘ سمیت کئی فضائی کمپنیوں نے اپنے ’اے 380‘ بیڑے مستقل طور پر ریٹائر کر دیے۔ تاہم بعد میں چھوٹے طیاروں کی پیداوار میں تاخیر اور فضائی سفر کی بحالی کے باعث کئی ’اے 380‘ دوبارہ فضا میں آ گئے۔
ماہرین کے مطابق اب بھی ’اے 380‘ کا مستقبل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تاہم اس کا استعمال محدود ہوتا جا رہا ہے۔ ایمرٹس اس طیارے کی سب سے بڑی آپریٹر ہے اور اس کے پاس 101 ’اے 380‘ طیارے فعال جبکہ مزید 15 سٹوریج میں ہیں۔
ایمرٹس کے صدر ٹم کلارک کے مطابق ’کمپنی اے 380 کو 2040 کی دہائی کے آغاز تک استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اپنے موجودہ طیاروں کے کیبن اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانے پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔‘
جرمن ایئرلائن لفتھانزا سمیت بعض دیگر کمپنیاں بھی اپنے اے 380 طیارے مزید کئی سال چلانے کا ارادہ رکھتی ہیں جبکہ سنگاپور ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ ’اے 380‘ اب بھی اس کے مقبول ترین طیاروں میں شامل ہے۔

سنگاپور ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ ’اے 380‘ اب بھی اس کے مقبول ترین طیاروں میں شامل ہے (فائل فوٹو: گیٹی)

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اے 380‘ کا استعمال مستقبل میں زیادہ تر مخصوص اور انتہائی مصروف روٹس تک محدود ہو جائے گا اور بالآخر یہ طیارہ ممکنہ طور پر ایمرٹس کے بیڑے تک محدود رہ جائے گا۔
دوسری جانب لگژری فضائی سفر کا انداز بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ خلیجی ایئرلائنز نے ’اے 380‘ کے ذریعے فرسٹ اور بزنس کلاس میں نئی سہولیات متعارف کرائی تھیں جن میں ایمرٹس کا دورانِ پرواز شاور اور اتحاد ایئرویز کی تین کمروں پر مشتمل ’دی ریزیڈنس‘ بھی شامل تھی۔
اب دنیا کی دیگر فضائی کمپنیاں بھی پریمیم سفر کے لیے جدید طیاروں میں بہتر سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ قنطاس بھی ’اے 380‘ کی جگہ ایئربس ’اے 350-1000‘ طیارے شامل کر رہی ہے جن میں فرسٹ، بزنس اور پریمیم اکانومی کلاس کی نشستوں کا تناسب زیادہ ہوگا۔
یوں قنطاس کا فیصلہ اس بات کی علامت ضرور ہے کہ ’اے 380‘ کا عالمی دور اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے تاہم اس دیو قامت طیارے کے شائقین کو ابھی کچھ عرصے تک اسے دنیا کے بڑے فضائی مراکز پر اڑتے دیکھنے کا موقع ملتا رہے گا۔

شیئر: