Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی: جماعت اسلام کا پیٹرولیم لیوی اور ایندھن کی مہنگی قیمتوں کے خلاف آج سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع

پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت جماعتِ اسلامی (جے آئی) آج اتوار کو پیٹرولیم لیوی اور ایندھن کی بلند قیمتوں کے خلاف احتجاج کے لیے دارالحکومت اسلام آباد کی جانب اپنا ’لانگ مارچ‘ شروع کرے گی، جبکہ اسلام آباد پولیس کے حکام نے شہر میں امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا ہے۔
جماعتِ اسلامی نے قبل ازیں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ 20 ستمبر کو اپنے لاکھوں حامیوں کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی اور حکومت سے پیٹرولیم لیوی مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ یہ ایندھن پر عائد کیا جانے والا ٹیکس ہے جو اس وقت وفاقی حکومت کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔
پاکستانی حکام نے احتجاج سے قبل اسلام آباد کے ریڈ زون کو بند کرنے کے لیے شپنگ کنٹینرز پہنچا دیے ہیں۔ ریڈ زون میں پاکستان کی اہم ترین انتظامی اور عدالتی عمارتیں واقع ہیں، جبکہ یہاں متعدد غیر ملکی سفارت خانے بھی قائم ہیں۔
جماعتِ اسلامی کے امیر نعیم الرحمٰن نے ہفتے کی رات اعلان کیا کہ حکومت اور جماعت کے درمیان مذاکرات کے پانچویں دور میں بھی کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد لانگ مارچ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوگا۔
انہوں نے کراچی میں جماعتِ اسلامی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کل یہاں کراچی کینٹ سٹیشن سے ایک تاریخی مارچ شروع ہوگا۔ یہ مارچ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔
نعیم  الرحمٰن نے کہا کہ ’مارچ کراچی سے سندھ کے شہر روہڑی جائے گا اور وہاں سے ٹرین کے ذریعے ملتان پہنچے گا۔‘
امیرِ جماعتِ اسلامی کے مطابق ملتان سے ہزاروں کارکن سڑک کے راستے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں جماعتِ اسلامی کے کارکن بھی اتوار کو بابِ خیبر یادگار سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔
پاکستانی حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے (0.41 ڈالر) اور ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے (0.36 ڈالر) ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کی جنگ اور سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جماعتِ اسلامی گزشتہ ماہ سے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے مطالبے پر لاہور، پشاور، کراچی اور ملک بھر کے درجنوں دیگر مقامات پر باقاعدگی سے دھرنے دے رہی ہے۔
جماعتِ اسلامی کے احتجاج سے حکومت کو ایک اور چیلنج کا سامنا متوقع ہے، کیونکہ یہ احتجاج سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک اور مارچ کے ساتھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وہ بھی دارالحکومت کی جانب مارچ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی کا منصوبہ ہے کہ وہ 27 ستمبر کو دارالحکومت میں لاکھوں حامیوں کو جمع کر کے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گی کہ جیل میں قید سابق وزیراعظم کو رہا کیا جائے۔
اسلام آباد: حکام کا سکیورٹی جائزہ
دوسری جانب اسلام آباد کے چیف کمشنر اور پولیس چیف نے ہفتے کو دارالحکومت کے اہم داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی اور امن و امان کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق حکام نے شہر کے مختلف علاقوں کا معائنہ کیا تاکہ پولیس کی تعیناتی، ٹریفک کے انتظامات اور کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکموں کی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
چیف کمشنر نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس بات پر زور دیا کہ احتجاج کے دوران شہریوں، تاجروں، کاروباری افراد، پیشہ ور افراد اور سرکاری ملازمین کو غیر ضروری رکاوٹ کے بغیر اپنی قانونی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل ہونا چاہیے۔

پاکستانی حکام نے احتجاج سے قبل اسلام آباد کے ریڈ زون کو بند کرنے کے لیے شپنگ کنٹینرز پہنچا دیے ہیں (فوٹو: ڈیلی ڈان)

یہ احتجاج وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے واضح طور پر خبردار کیے جانے کے بعد ہو رہا ہے۔ انہوں نے جمعے کو کہا تھا کہ اسلام آباد میں اپوزیشن کے طے شدہ احتجاج کے دوران اگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی تو اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اہلکاروں کو واضح ’رولز آف انگیجمنٹ‘ دے دیے گئے ہیں۔
انہوں نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اس مرتبہ ہم اپنے جوانوں کو بہت واضح رولز آف انگیجمنٹ دے رہے ہیں اور اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ آپ اگر ان پر فائرنگ کریں گے تو وہ خاموش رہیں گے۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رواں ہفتے جاری ہونے والے ایک فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر عوامی مقامات کو اس طرح بند کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں جس سے شہریوں کی نقل و حرکت یا سکولوں اور ہسپتالوں تک رسائی میں رکاوٹ پیدا ہو۔
عدالت نے صوبائی حکومتوں کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ سیاسی جلسے جلوسوں کے انعقاد کے لیے عوامی فنڈز، سرکاری افسروں، گاڑیوں یا ریاستی مشینری کے دیگر ذرائع استعمال نہ کریں، جبکہ حکام کو اسلام آباد کے رہائشیوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کا حکم بھی دیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی ہدایت کر دی گئی ہے اور حکام قانونی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس فیصلے کی خلاف ورزی کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کو روکیں گے۔

شیئر: