Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جماعت اسلامی کا لانگ مارچ شروع، ’یومیہ 120 ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے‘

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں آئندہ ہونے والے احتجاج اور مظاہروں سے روزانہ کی بنیاد پر قریباً 120 ارب روپے کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔
وزیرخزانہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جماعت اسلامی نے اتوار کو اسلام آباد کی جانب اپنے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔
جماعت اسلامی کا مقصد حکومت پر پٹرولیم لیوی کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے جسے وہ ایک ناانصافی پر مبنی ’غنڈا ٹیکس‘ قرار دیتی ہے تاکہ عوام کو مہنگائی کے شدید دباؤ سے کچھ ریلیف مل سکے۔
حکومتِ پاکستان اس وقت پیٹرول پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکسز اور ڈیوٹیز عائد کرتی ہے۔ امریکہ ایران جنگ اور سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت مسلسل پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھاتی رہی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حکومت کی معاشی کامیابیوں کو گنواتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے تخمینہ لگایا ہے کہ سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے سے اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔‘
وزیر خزانہ نے کہا ’ہم نے بہت مستند تحقیق کی بنیاد پر یہ تخمینہ لگایا ہے کہ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کے اندازے کے مطابق سب سے زیادہ نقصان سروسز (خدمات) کے شعبے کو پہنچے گا جس میں مالیاتی خدمات، مواصلات، ٹرانسپورٹ، ریٹیل، ہول سیل اور ہاسپٹلٹی کے شعبے شامل ہیں۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا ’اس شعبے میں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 86 ارب روپے (310.7 ملین ڈالر) کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔‘
جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کا کراچی سے آغاز
جماعتِ اسلامی پیٹرولیم لیوی اور ایندھن کی بلند قیمتوں کے خلاف احتجاج کے لیے دارالحکومت اسلام آباد کی جانب اپنا ’لانگ مارچ‘ شروع کر دیا ہے جبکہ اسلام آباد پولیس کے حکام نے شہر میں امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا ہے۔
جماعتِ اسلامی نے قبل ازیں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ 20 ستمبر کو اپنے لاکھوں حامیوں کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی اور حکومت سے پیٹرولیم لیوی مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ یہ ایندھن پر عائد کیا جانے والا ٹیکس ہے جو اس وقت وفاقی حکومت کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔
پاکستانی حکام نے احتجاج سے قبل اسلام آباد کے ریڈ زون کو بند کرنے کے لیے شپنگ کنٹینرز پہنچا دیے ہیں۔ ریڈ زون میں پاکستان کی اہم ترین انتظامی اور عدالتی عمارتیں واقع ہیں، جبکہ یہاں متعدد غیر ملکی سفارت خانے بھی قائم ہیں۔
جماعتِ اسلامی کے امیر نعیم الرحمان نے سنیچر کی رات اعلان کیا کہ حکومت اور جماعت کے درمیان مذاکرات کے پانچویں دور میں بھی کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد لانگ مارچ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوگا۔
انہوں نے کراچی میں جماعتِ اسلامی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کل یہاں کراچی کینٹ سٹیشن سے ایک تاریخی مارچ شروع ہوگا۔ یہ مارچ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔‘
نعیم  الرحمان نے کہا کہ ’مارچ کراچی سے سندھ کے شہر روہڑی جائے گا اور وہاں سے ٹرین کے ذریعے ملتان پہنچے گا۔‘
امیرِ جماعتِ اسلامی کے مطابق ملتان سے ہزاروں کارکن سڑک کے راستے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں جماعتِ اسلامی کے کارکن بھی اتوار کو بابِ خیبر یادگار سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔
جماعتِ اسلامی گزشتہ ماہ سے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے مطالبے پر لاہور، پشاور، کراچی اور ملک بھر کے درجنوں دیگر مقامات پر باقاعدگی سے دھرنے دے رہی ہے۔
جماعتِ اسلامی کے احتجاج سے حکومت کو ایک اور چیلنج کا سامنا متوقع ہے کیونکہ یہ احتجاج سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک اور مارچ کے ساتھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وہ بھی دارالحکومت کی جانب مارچ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی کا منصوبہ ہے کہ وہ 27 ستمبر کو دارالحکومت میں لاکھوں حامیوں کو جمع کر کے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گی کہ جیل میں قید سابق وزیراعظم کو رہا کیا جائے۔
اسلام آباد: حکام کا سکیورٹی جائزہ
دوسری جانب اسلام آباد کے چیف کمشنر اور پولیس چیف نے سنیچر کو دارالحکومت کے اہم داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی اور امن و امان کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق حکام نے شہر کے مختلف علاقوں کا معائنہ کیا تاکہ پولیس کی تعیناتی، ٹریفک کے انتظامات اور کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکموں کی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
چیف کمشنر نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس بات پر زور دیا کہ احتجاج کے دوران شہریوں، تاجروں، کاروباری افراد، پیشہ ور افراد اور سرکاری ملازمین کو غیر ضروری رکاوٹ کے بغیر اپنی قانونی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل ہونا چاہیے۔

پاکستانی حکام نے احتجاج سے قبل اسلام آباد کے ریڈ زون کو بند کرنے کے لیے شپنگ کنٹینرز پہنچا دیے ہیں (فوٹو: ڈیلی ڈان)

یہ احتجاج وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے واضح طور پر خبردار کیے جانے کے بعد ہو رہا ہے۔ انہوں نے جمعے کو کہا تھا کہ اسلام آباد میں اپوزیشن کے طے شدہ احتجاج کے دوران اگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی تو اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اہلکاروں کو واضح ’رولز آف انگیجمنٹ‘ دے دیے گئے ہیں۔
انہوں نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اس مرتبہ ہم اپنے جوانوں کو بہت واضح رولز آف انگیجمنٹ دے رہے ہیں اور اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ آپ اگر ان پر فائرنگ کریں گے تو وہ خاموش رہیں گے۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رواں ہفتے جاری ہونے والے ایک فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر عوامی مقامات کو اس طرح بند کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں جس سے شہریوں کی نقل و حرکت یا سکولوں اور ہسپتالوں تک رسائی میں رکاوٹ پیدا ہو۔
عدالت نے صوبائی حکومتوں کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ سیاسی جلسے جلوسوں کے انعقاد کے لیے عوامی فنڈز، سرکاری افسروں، گاڑیوں یا ریاستی مشینری کے دیگر ذرائع استعمال نہ کریں، جبکہ حکام کو اسلام آباد کے رہائشیوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کا حکم بھی دیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی ہدایت کر دی گئی ہے اور حکام قانونی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس فیصلے کی خلاف ورزی کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کو روکیں گے۔

شیئر: