Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثیوں کی سعودی دارالحکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی شدید مذمت

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے تیز کر دیے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
یمن کے حوثی باغیوں کو اُس وقت شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا جب ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ نے سعودی دارالحکومت ریاض پر حملہ کیا۔
عرب نیوز کے مطابق یمنی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی سربراہی میں قائم اتحاد نے کہا کہ سنیچر کو ریاض کی جانب آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی مار گرایا گیا۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے تیز کر دیے ہیں۔ یہ گروپ سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کرنے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔
کویت نے سعودی عرب کے سب سے بڑے شہر کے خلاف حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنانے کی بھی شدید مذمت کی۔ کویتی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
مصر نے بھی کہا کہ حوثیوں کا حملہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ مصری وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں سعودی دارالحکومت میں پیش آنے والے واقعے کی ’شدید مذمت‘ کی۔
بحرین نے بھی ایران کے حمایت یافتہ گروہ کی جانب سے شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کے ذریعے کشیدگی میں اضافے کی مذمت کی اور ان کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیا۔
اُردن نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام اور اس کے علاقوں کے تحفظ کے لیے خطرہ اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں، شہری مقامات کو نشانہ بنانے اور ان حملوں سے خطے کی سلامتی اور استحکام کو لاحق خطرے کی مذمت کی۔
لبنان کی وزارتِ خارجہ و تارکینِ وطن نے بھی میزائل حملے کی شدید مذمت کی۔
مسلم ورلڈ لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل اور تنظیمِ مسلم علما کے چیئرمین شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے کہا کہ یہ کارروائیاں تمام مذہبی اقدار کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اور انسانی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ ہفتے کے روز میزائل کو روکنے کی کارروائی جنگی اصولوں کے مطابق کی گئی اور میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جس میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔

حوثی اس وقت صنعا اور یمن کے شمالی و مغربی علاقوں کے ایک بڑے حصے پر قابض ہیں (فوٹو: روئٹڑز)

انہوں نے کہا کہ اتحاد کی قیادت کو بین الاقوامی انسانی قانون اور رائج بین الاقوامی قواعد کے مطابق مزید حوثی حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری سمجھے جانے والے تمام اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
ہفتے کی علی الصبح سعودی سول ڈیفنس نے ریاض اور قریبی شہر الخرج میں ممکنہ خطرے کے حوالے سے دو انتباہات جاری کیے۔ دونوں انتباہات کے بعد خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا گیا۔
حوثی اِس وقت صنعا اور یمن کے شمالی و مغربی علاقوں کے ایک بڑے حصے پر قابض ہیں، اور انہوں نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے خلاف حملوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
جمعرات کو حوثیوں کے ایک ڈرون کے ملبے کے طائف میں گرنے سے ایک یمنی شہری ہلاک جبکہ ایک سعودی خاتون اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔ پاکستانی شہری کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔ ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا گیا تھا۔ واقعے میں کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
یہ واقعہ سعودی فضائی دفاع کی جانب سے مکہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو روکنے کے دو روز بعد پیش آیا۔ حکام کے مطابق یہ ڈرون مقدس شہر کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ سعودی حکام نے اس کوشش کو کشیدگی میں بڑے اضافے سے تعبیر کیا۔
سعودی حکام کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں حوثیوں کے جنوبی سعودی عرب پر حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور توانائی سے متعلق تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
تازہ لڑائی 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ایک بڑی کشیدگی کو ظاہر کرتی ہے جس کے باعث یمن میں جاری لڑائی بڑی حد تک رُک گئی تھی۔

شیئر: