Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کے ریستوران میں فائرنگ سے متعدد ہلاک، ’حملہ آور مارا گیا‘

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرک کا پتہ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ میں ایک ریسٹورنٹ کے اندر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص بھی مرنے والوں میں شامل ہے جبکہ یہ واقعہ سنیچر کو ریاست ایڈاہو کے شہر بوائز میں واقعے اِن اینڈ آؤٹ نام کے ریستوران میں پیش آیا۔
پولیس چیف میتھیو ہِکس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک حملہ آور کی شناخت نہیں ہو سکی ہے جبکہ محرک کے بارے میں بھی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا، تاہم اس بارے میں مزید معلومات کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
 ان کے مطابق ’ہمیں یقین ہے کہ لوگوں کے لیے اب خطرے کی کوئی بات نہیں ہے، ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ واقعے میں کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔‘
ان کی بات چیت سے قبل ٹوئن فالس کاؤنٹی کے کشمنر برینٹ رینکے کا کہنا تھا کہ پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایک عینی شاہد خاتون لین کوہن کا کہنا ہے کہ وہ قریبی سٹاپ پہ کھڑے تھے، اس وقت ایک شخص نظر آیا جس کے باس اے آر طرز کی رائفل تھی، جس پر ایک اسی وقت ایک شخص نے پستول سے فائرنگ شروع کر دی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہی اس نے رائفل سے فائرنگ شروع کر دی، جس پر افراتفری پھیل گئی اور لوگ باہر کی طرف بھاگنے لگے۔
رپورٹ کے مطابق واقعہ ایک مصروف شاپنگ ایریا میں پیش آیا اور وقت وہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ موجود ہے۔ پولیس کی جانب سے لوگوں سے کہا گیا ہے جو کوئی بھی وہاں موجود تھا اور حملے کے حوالے سے کچھ معلومات رکھتا ہے تو پولیس سے رابطہ کر کے فراہم کرے۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ شہر ٹائن فالز کے ایک فاسٹ فوڈ ریستوران میں پیش آیا۔
شہر کے پبلک انفارمیشن آفسیر جوش پامر کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ مسلح شخص مارا جا چکا ہے، اس لیے لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
پولیس حملے کے محرک کا پتہ چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔
واقعے کی ویڈیو فوٹیج میں ایک شخص کو اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ لوگ بھی افراتفری میں بھاگتے نظر آتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر واقعے میں ایک ہی مسلح شخص کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں تاہم مزید تحقیقات بھی کی جا رہی ہے ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ دوسرے لوگ بھی ملوث ہوں۔

شیئر: