Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوات خودکش دھماکہ: مرنے والوں کی تعداد 15 ہو گئی، پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا

دھماکہ اتوار کو اس وقت ہوا تھا جب پولیس سٹیشن کے قریب ایک احتجاجی مظاہرہ ہو رہا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
سوات میں پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے جبکہ نشانہ بننے والے پانچ پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
پیر کی صبح ترجمان سوات پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ نمازِ جنازہ پولیس ٹریننگ سکول میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔
بیان کے مطابق ’شہید ہونے والوں میں اے ایس آئی ہاشم خان، کانسٹیبل خالد خان، عثمان غنی، امین اللہ اور وطن خان شامل تھے۔‘
نماز جنازہ میں ایڈیشنل آئی جی پی سی ٹی ڈی جواد قمر، کشمنر ملاکنڈ مسعود احمد، آر پی او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’آبائی علاقوں کی طرف روانگی سے قبل پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہدا کی سلامی بھی پیش کی۔‘
خیال رہے اتوار کو خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس سٹیشن کے باہر خودکش دھماکہ ہوا تھا، جس میں اس وقت کی اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
دھماکے کے بعد ڈی آئی جی مالاکنڈ سید فدا حسین نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ’خودکش حملہ آور پولیس سٹیشن کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے حملہ آور کو روکا تو اس نے گیٹ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘
اسی طرح ڈی پی او سوات کا کہنا تھا کہ علاقے میں ممکنہ سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ 
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی سوات کے تھانہ کبل کے قریب خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو  تھانے کے اندر جانے سے روکا۔ 
اطلاعات کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب قریب ہی میں علاقے میں امن و امان کی خراب صورت حال کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ ہو رہا تھا جبکہ دھماکے کے بعد ایسی کئی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں زخمی اہلکاروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

شیئر: