بلوچستان: سپریم کورٹ کے جعلی احکامات پر عمر قید کے دو قیدیوں کی رہائی کا انکشاف
بلوچستان: سپریم کورٹ کے جعلی احکامات پر عمر قید کے دو قیدیوں کی رہائی کا انکشاف
جمعرات 17 ستمبر 2026 10:39
زین الدین احمد، -اردو نیوز، کوئٹہ
عبدالسلام اور امان اللہ کو منشیات کیسز میں 25، 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے دو قیدیوں کی سپریم کورٹ کے جعلی احکامات پر رہائی کا انکشاف ہوا ہے۔
واقعہ ضلع ژوب کی سینٹرل جیل میں پیش آیا جہاں منشیات کے کیس میں عمر قید کاٹنے والے دو افراد قید تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے یہ واقعہ قریباً 15 ماہ پرانا ہے تاہم مقدمہ اب درج کیا گیا ہے کیونکہ جیل انتظامیہ کی جانب سے ہونے والی اندرونی انکوائری مکمل ہونے کے بعد اب پولیس کو درخواست بھیجی گئی ہے۔
مفرور قیدیوں اور ان کی مدد کرنے والوں کے خلاف سرکاری و عدالتی دستاویزات میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 466، 468 اور 471 ، 223 اور 225اے کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
یہ دفعات عدالتی یا سرکاری احکامات میں جعلی سازی، جعلی دستاویز کی تیاری، انہیں اصل ظاہر کر کے استعمال کرنے اور سرکاری ملازم کی غفلت یا لاپرواہی سے قیدی کے فرار سے متعلق ہیں۔
ایس پی ژوب عبدالصبور کاکڑ نے ایف آئی آر کے اندراج کی تصدیق کرتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ پولیس نے مفروروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سراغ لگایا جا رہا ہے کہ اس جعل سازی میں کون کون ملوث تھا، ملزمان کو مدد کس نے اور کس طرح فراہم کی اور جعلی احکامات کہاں تیار کیے گئے۔
ژوب جیل کے سپرنٹنڈنٹ چٹھہ خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے رہائشی عبدالسلام اور کوئٹہ کے علاقے سملی کے رہائشی امان اللہ کو 2018 کے منشیات کیسز میں 25، 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور دونوں قیدیوں کو اکتوبر 2024 میں سینٹرل جیل ژوب منتقل کیا گیا تھا۔
جیل سپرنٹنڈنٹ چٹھہ خان سومرو کی مدعیت میں 30 اگست کو سٹی تھانہ ژوب میں درج ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ 29 مئی 2025 کو مغرب کے وقت ایک نامعلوم شخص نے جیل کے مین گیٹ پر تعینات اہلکار کو دو خاکی لفافے دیے۔
جیل حکام کا کہنا ہے کہ جعلی عدالتی احکامات پیش کیے گئے تھے (فوٹو: آئی سٹاک)
ایف آئی آر کے مطابق ان لفافوں میں آٹھ آٹھ قطعات پر مشتمل سپریم کورٹ سے منسوب رہائی کے جعلی احکامات موجود تھے جن کی بنیاد پر 30 مئی 2025 یعنی اگلے روز دونوں قیدیوں کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔
بعد میں واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کرائی گئی جس میں یہ احکامات جعلی ثابت ہوئے جس کے بعد قانونی کارروائی شروع کی گئی۔
جیل سپرنٹنڈنٹ چٹھہ خان کے مطابق ’احکامات جعلی ثابت ہونے کے بعد فرار ہونے والے دونوں قیدیوں، ان کے نامعلوم سہولت کاروں اور جعلی دستاویزات تیار اور مہیا کرنے والوں اور دیگر ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا اور پولیس سے مزید قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔‘
جیل حکام کے مطابق مبینہ غفلت اور لاپرواہی پر سابق سپرنٹنڈنٹ جیل حبیب اللہ، ڈیٹا انٹری آپریٹر سدا گل اور کلرک عبدالجلیل کو معطل کر دیا گیا۔ جیل اہلکاروں کا کردار متعین کرنے کے لیے ایک الگ باقاعدہ انکوائری بھی جاری ہے۔