وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سکیورٹی پر مامور کانسٹیبل کے مبینہ اغوا کا مقدمہ، پی ٹی آئی رہنما اور کارکن نامزد
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سکیورٹی پر مامور کانسٹیبل کے مبینہ اغوا کا مقدمہ، پی ٹی آئی رہنما اور کارکن نامزد
جمعرات 17 ستمبر 2026 13:15
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
پولیس کے مطابق کانسٹیبل مقدس علی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی سکیورٹی اور امن و امان کی ڈیوٹی پر تعینات تھے (فوٹو: سہیل آفریدی ایکس)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع وزیرآباد میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سکیورٹی پر مامور پولیس کانسٹیبل کو مبینہ طور پر اغوا کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور سرکاری سامان و نقدی چھیننے کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
تھانہ صدر وزیرآباد میں درج ایف آئی آر کے مطابق مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 382، 365، 353، 186، 341، 431، 148، 149 اور 188 شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر میں پی ٹی آئی رہنما محمد احمد چٹھہ اور فیاض احمد چٹھہ سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں 65 معلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ 25 سے 30 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ واقعہ 16 ستمبر کو سہ پہر تقریباً 4 بج کر 45 منٹ پر محفوظ گارڈن کے قریب پیش آیا جہاں کانسٹیبل مقدس علی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی سکیورٹی اور امن و امان کی ڈیوٹی پر تعینات تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق اس مقام پر پی ٹی آئی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے نادرا دفتر کے سامنے سڑک بند کر رکھی تھی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین کو راستہ کھولنے کے لیے کہا گیا تو تلخ کلامی ہوئی اور اس کے بعد بعض افراد نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق محمد احمد چٹھہ نے مبینہ طور پر کارکنوں کو پولیس کے خلاف کارروائی کے لیے اکسایا جس کے بعد ملزمان نے پولیس اہلکاروں کو دھکے دیے اور گالم گلوچ اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے ’محمد احمد چھٹہ نے کہا کہ آج موقع بنا ہوا ہے پولیس کو پی ٹی آئی سے زیادتی کا مزہ چھکا دیں۔ ملزمان گالم گلوچ کرتے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے ہم پر حملہ آور ہوگئے اور دھکے مارے۔‘
پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ فیاض احمد چٹھہ، ایک مسلح گن مین اور دیگر افراد نے کانسٹیبل مقدس علی کو مبینہ طور پر مکوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
سہیل آفریدی کے مطابق مذکورہ شخص ان کے قریب آیا تھا اور سکیورٹی اہلکاروں نے اسے پکڑ لیا تھا (فوٹو: سہیل آفرید ایکس)
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مقدس علی کو ایک شخص رفیق کے گھر لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر ان سے سرکاری وائرلیس سیٹ، پرس، سروس کارڈ، شناختی کارڈ اور دیگر کاغذات کے علاوہ 9700 روپے نقدی چھین لی گئی۔ پولیس کے مطابق کانسٹیبل کے کپڑے بھی پھاڑ دیے گئے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیرآباد میں ان کی سکیورٹی ٹیم نے ایک مشتبہ مسلح شخص کو دھر لیا ہے جو مبینہ طور پر انہیں قتل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
سہیل آفریدی کے مطابق مذکورہ شخص ان کے قریب آیا تھا اور سکیورٹی اہلکاروں نے اسے پکڑ لیا تھا۔ ان کے مطابق اس شخص کے قبضے سے پستول بھی برآمد ہوئی تھی اور اسے پولیس کے حوالے کیا گیا۔
تاہم گوجرانوالہ پولیس نے سہیل آفریدی کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔ پولیس کے مطابق جس شخص کو وزیراعلیٰ کی سکیورٹی ٹیم نے مشتبہ حملہ آور سمجھ کر پکڑا تھا وہ کانسٹیبل مقدس علی تھے جو خود وزیراعلیٰ کی سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ کانسٹیبل کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پولیس کے مطابق مقدس علی نے اپنی شناخت بھی ظاہر کی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ کانسٹیبل کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں پولیس نے مداخلت کرکے انہیں سکیورٹی ٹیم سے واپس چھڑیا۔
اب پولیس کی جانب سے اسی واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے مبینہ اغوا، تشدد، سرکاری اہلکار کو فرائض سے روکنے، سرکاری سامان اور نقدی چھیننے، سڑک بند کرنے، ہنگامہ آرائی اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔