پمز آتشزدگی، بچ جانے والی واحد بچی بھی 22 روز بعد انتقال کر گئی
پمز آتشزدگی، بچ جانے والی واحد بچی بھی 22 روز بعد انتقال کر گئی
جمعرات 17 ستمبر 2026 11:48
صالح سفیر عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد
26 اگست کو پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے 14 بچے ہلاک ہوئے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں آتشزدگی کے واقعے میں بچنے والی واحد نوزائیدہ بچی بھی انتقال کر گئی۔
ہسپتال انتظامیہ نے جمعرات کو نوزائیدہ بچی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ 26 اگست کو آتشزدگی کے المناک حادثے کے بعد شعبہ نوزائیدہ بچوں میں دوبارہ داخل کی جانے والی یہ بچی قریباً 22 روز زیرِ علاج رہی۔
واضح رہے اس واحد نوزائیدہ بچی کو ہسپتال کی سٹاف نرس رضیہ نورین نے اپنی جان پر کھیل کر بچایا تھا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی 37 دن کی اس نوزائیدہ بچی کو 26 اگست کو صبح سات بجے آگ لگنے کے حادثے کے بعد دوبارہ پمز میں داخل کیا گیا تھا، جو نرسری کے 15 بچوں میں سے اس المناک واقعے میں محفوظ رہنے والی واحد بچی تھی۔
’پھیپھڑوں سے خون بہنے جیسے شدید طبی مسائل تھے‘
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کے شعبہ نوزائیدہ بچوں کے جاری کردہ سرٹیفکیٹ کے مطابق نوزائیدہ بچی کی موت 17 ستمبر 2026 کو رات 12 بج کر پانچ منٹ پر ہوئی۔
سرٹیفکیٹ میں درج طبی تفصیلات کے مطابق بچی کی پیدائش وقت سے پہلے ہوئی تھی اور اس کا وزن بھی انتہائی کم تھا جبکہ وہ نوزائیدہ بچوں کے شدید انفیکشن کے علاوہ خون کے بہاؤ اور جمنے کی پیچیدگیوں اور پھیپھڑوں سے خون بہنے جیسے شدید مسائل کا شکار تھی۔
واقعے کے بعد انکوائری رپورٹ میں تانتظامی غفلت، تکنیکی نقائص اور حفاظتی تدابیر کے فقدان کی نشاندہی کی گئی تھی (فوٹو: پمز)
سرٹیفکیٹ کے مطابق ’ان طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے دل اور سانس کا نظام مکمل طور پرناکارہ ہو جانا بچی کی وفات کی بنیادی وجہ بنا، جس کے بعد ضروری قانونی کارروائی اور دستاویزات پر دستخط کے بعد بچی کی میت والد کے سپرد کر دی گئی ہے۔‘
ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے محمد وقاص اور ان کی اہلیہ آصفہ کی بچی کا علاج پمز ہسپتال میں جاری تھا۔
’نرس نے ایک ہی بچی کو بچایا تھا‘
واضح رہے پمز کے چلڈرن ہسپتال کی گائنی نرسری میں 26 اگست کو آگ لگنے کے واقعے میں 14 بچوں کی موت واقع ہوئی تھی۔
ان میں سے صرف ایک ہی بچی کو پمز کی نرس رضیہ نورین نے اپنی جان پر کھیل کر بچایا تھا، جس پر ان کو وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ایک کروڑ روپے کا انعام بھی دیا گیا تھا۔
آتشزدگی کی انکوئری رپورٹ
آتشزدگی کے واقعے پر سامنے آنے والی تحقیقاتی رپورٹ میں انتظامی غفلت، تکنیکی نقائص اور حفاظتی تدابیر کے فقدان کی نشاندہی کی گئی تھی۔
وزیراعظم شبہاز شریف نے اسی بچی کو بچانے پر نرس رضیہ نورین کو انعام سے نوازا تھا (فوٹو: پی ایم آفس)
رپورٹ میں آتشزدگی، ایک سے زیادہ مقامات پر آگ لگنے، آئیسکو کی جانب سے کسی بیرونی برقی خرابی اور آگ لگنے سے قبل آکسیجن کے اخراج کے امکانات کی تائید نہیں کی گئی۔ اسی طرح انکیوبیٹر یا وارمر کو آگ لگنے کا ذریعہ قرار دینے کے شواہد بھی نہیں ملے۔
مزید برآں وارڈ میں آگ بجھانے والے آلات کی عدم دستیابی يا عدم فعالی، ہنگامی انخلا کا واضح پلان نہ ہونا اور عملے کی تربیت میں کمی اس المیے کے نقصانات بڑھانے کی وجہ بنی۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا تھا کہ تمام عوامی ہسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ بلا تاخیر کروایا جائے اور نرسری جیسے حساس وارڈز میں خودکار ہنگامی سسٹمز کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے پمز انتظامیہ کے ذمہ دار افسران، بشمول ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ای ڈی)، کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کی واضح سفارش کی تھی، تاہم واقعے کے 22 روز بعد بھی کسی نامزد افسر کے خلاف باقاعدہ فوجداری کارروائی کا آغاز نہیں ہو سکا ہے۔