سپریم کورٹ کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم
سپریم کورٹ کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم
جمعرات 17 ستمبر 2026 12:54
صالح سفیر عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد
جمعرات کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ سزا معطلی درخواست منظور کی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔
جمعرات کو جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے دو، دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے بدلے ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے خلاف ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ یہ ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت درخواست پر حتمی فیصلہ آنے تک کے لیے منظور کی جا رہی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ’ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دونوں وکیل ہیں، اس لیے ہم ان کا احترام کر رہے ہیں، تاہم انہیں بھی کہہ دیں کہ وہ عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں۔ ایک وکیل اور ایک عام آدمی میں واضح فرق ہوتا ہے۔‘
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی ضمانت کی مخالفت کی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے موقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ نے ابھی سزا کے خلاف کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا، جبکہ ٹرائل کورٹ میں صفائی کے سات مواقع فراہم کیے گئے تھے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو زیر سماعت کیس کے فیصلے تک ضمانت دی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ قانون کی دفعہ 426 کے تحت سزا معطلی کا مناسب عدالتی فورم ہائی کورٹ ہی ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں پراسیکیوشن کو اخری موقع دے رکھا ہے۔
اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ’ہائی کورٹ کے جج صاحب آرڈر میں سپریم کورٹ کا حکم لکھتے ہیں تو کیس ملتوی ہو جاتا ہے پھر جب سپریم کورٹ میں کیس آتا ہے تو ہائی کورٹ میں نئی تاریخ آ جاتی ہے۔‘
جسٹس نعیم اختر افغان نے مزید ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اپنے انداز میں سپریم کورٹ کو کام کرنے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ’سپریم کورٹ کے پہلے حکم کے بعد کیا پیش رفت ہوئی، وہ بتا دیں۔‘
وکیل صفائی فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ 12 مئی کو آپ نے پہلا حکم جاری کیا تھا اور اس میں کیس کو دو ہفتوں کے اندر طے کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
وکیل فیصل صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی مختلف سماعتوں کی آرڈر شیٹس بھی عدالت میں پڑھ کر سنائیں۔
دوران سماعت عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی رانا اسد کو بیٹھنے کی ہدایت کی۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ پہلے وکیل فیصل صدیقی کے دلائل سنیں گے جس پر وکیل فیصل صدیقی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بالکل یہ بیٹھ جائیں، لیکن تھکا تو انہوں نے ہمیں دیا ہے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی (فائل فوٹو)
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ’سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کہتے تھے کہ صرف جج یا وکیل کے فوت ہونے کی صورت میں ہی کیس ملتوی ہو سکتا ہے مگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کیس کو متعدد مرتبہ ملتوی کیا۔ ہماری جلد سماعت کی درخواست کو بھی ہائی کورٹ رجسٹرار آفس نے مسترد کر دیا تھا اور ہائی کورٹ میں جو کچھ ہوا وہ ہمارے لیے ایک سرپرائز تھا۔‘
اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ’آج کل تو سرپرائزز کا ہی دور ہے۔‘
بعد ازاں عدالت نے دو، دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک سزا معطلی کی درخواستیں منظور کر لیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 24 جنوری کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹ کے ایک مقدمے میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے دونوں کو پیکا کی مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی تھی، جس کے بعد ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے سات فروری 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس میں عدالت سے سزا معطلی کی استدعا کی گئی تھی۔