Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: تین سالہ بچی کا 60 سالہ شخص سے’نکاح‘ ، وزیراعلیٰ کا نوٹس، والد گرفتار

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چمن کی رہائشی تین سالہ بچی کا ایک 60 سالہ شخص سے ’نکاح‘ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور بچی کے والد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ معاملہ بچی کی بڑی بہن شکریہ بی بی کے قتل کے بعد منظرِ عام پر آیا جنہیں قریباً دس روز قبل کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں قتل کیا گیا تھا۔
گرفتار والد کے اعترافی بیان میں کیا سامنے آیا؟
ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی کے مطابق کم سن بچی ببو کے والد عبدالباقی کو چمن سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کی کڑیاں کچلاک میں شکریہ بی بی کے قتل سے ملتی ہیں جن کی بھی کم عمری میں شادی کرائی گئی تھی۔
عبدالباقی نے گرفتاری سے چند روز قبل ایک مقامی وی لاگر کو پشتو زبان میں دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ قریباً دو سال قبل انہوں نے اپنی 13 سالہ سوتیلی بیٹی شکریہ بی بی کا رشتہ 15 لاکھ روپے ’ولور‘ کے عوض چمن کے رہائشی کامران عرف عبدالستار ادوزئی سے طے کیا تھا اور یہ رقم انہوں نے مکان خریدنے کے لیے استعمال کی تھی۔
عبدالباقی کے بقول شادی کے بعد شکریہ بی بی پر تشدد کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اس کے سسر (کامران کے والد) کی جانب سے مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ خاندان کی ایک اور کم سن بیٹی کا رشتہ بھی اسی سُسر سے کرایا جائے۔ 
ان کے مطابق مجبوراً انہوں نے اپنی تین سالہ بیٹی کا نکاح شکریہ بی بی کے ساٹھ سالہ سسر کے ساتھ 25 لاکھ روپے کے عوض طے کر دیا۔
عبدالباقی کے مطابق سسر اپنے ساتھ باقاعدہ ایک مولوی بھی لایا تھا جس نے تین سالہ بچی کا ’نکاح‘ پڑھایا۔
عبدالباقی کے مطابق کچھ عرصے بعد سسر نے دوبارہ مطالبہ کیا کہ تین سالہ بچی کے بجائے خاندان کی ایک تیسری  قدرے بڑی (لگ بھگ سات آٹھ سال)کی بیٹی کا رشتہ اس سے کرایا جائے اور اسی مطالبے کو منوانے کے لیے شکریہ بی بی پر مسلسل تشدد کیا جاتا رہا تاکہ وہ اپنے والدین کو اس نئی ’سودے بازی‘ پر مجبور کرے۔
عبدالباقی کا کہنا ہے کہ یہ تمام فیصلے غربت کے دباؤ میں کیے گئے تاہم چمن پولیس کے ڈی ایس پی عبدالجبار نے بتایا کہ بچی انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے اس کا والد عبدالباقی نشے کا عادی ہے۔
ان کے مطابق عبدالباقی نے اپنے بڑے بھائی کی وفات کے بعد ان کی بیوہ سے شادی کر لی تھی۔ مقتولہ شکریہ بی بی دراصل ان کے مرحوم بھائی کی بیٹی تھیں جبکہ باقی بیٹیاں عبدالباقی کی حقیقی اولاد ہیں۔
عبدالباقی نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں بتایا کہ انہوں نے غربت کے باعث ’ولور‘ کی رقم کے حصول کے لیے اپنی سوتیلی بیٹی (بھتیجی) شکریہ بی بی کی شادی کرائی، اور بعد ازاں سسرال والوں کے دباؤ پر اپنی حقیقی بیٹی کا رشتہ بھی اسی خاندان میں طے کر دیا۔
’ولور‘ کیا ہے اور اس کا غلط استعمال کیسے ہوتا ہے؟
’ولور‘ پشتون معاشرے میں صدیوں پرانا ایک سماجی رواج ہے جس کے تحت رشتہ طے ہونے پر دولہے کا خاندان دلہن کے خاندان کو ایک مقررہ رقم ادا کرتا ہے۔ روایتی طور پر اسے حقِ مہر یا خاندانی حیثیت کے تحفظ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور بیش تر خاندان یہ رقم بیٹی کے جہیز یا مستقبل کی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں۔
تاہم اس رسم پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔
ناقدین کے مطابق بعض اوقات ولور کے نام پر اتنی بھاری رقم طلب کی جاتی ہے کہ یہ عملاً بچیوں کی ’خرید و فروخت‘ کی صورت اختیار کر لیتی ہے خاص طور پر ایسے کیسز میں جہاں کم سن بچیوں کا رشتہ بڑی عمر کے، معذور یا پہلے سے شادی شدہ مردوں سے محض بھاری رقم کے عوض طے کیا جائے۔
 ماہرین اور سماجی کارکن اس رجحان کو انسانی سمگلنگ اور جبری شادی کے زمرے میں شمار کرتے ہیں خاص طور پر جب رشتہ بچی کی مرضی یا عمر کو نظرانداز کرتے ہوئے محض کسی مجبوری یا لالچ کی بنیاد پر طے کیا جائے۔
 اس کے علاوہ بھاری ولور کی وجہ سے  غریب خاندانوں کے لڑکوں کی شادیوں میں تاخیر ہوتی ہے جبکہ لڑکی کو بعد میں سسرال میں ’خریدے جانے‘ کے طعنے اور بدسلوکی کے واقعات بھی عام ہیں۔
بلوچستان کے پشتون اکثریتی علاقوں میں حالیہ برسوں میں مقامی جرگوں اور سماجی رہنماؤں کی جانب سے بڑھتے ہوئے ولور اور اس کے غلط استعمال کے خلاف آواز بھی اٹھائی گئی ہے جس میں ولور نہ لینے اور شادی کے اخراجات کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
معاملہ کیسے بے نقاب ہوا؟
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب قریباً دس روز قبل کوئٹہ کے علاقے کچلاک کے قریب کلی سملی میں پولیس کو شکریہ بی بی کی ہلاکت کی اطلاع ملی۔
لیڈی ڈاکٹر کے معائنے میں مقتولہ کے جسم پر شدید تشدد کے نشانات پائے گئے۔ پولیس نے قتل کے الزام میں شکریہ بی بی کے شوہر کامران عرف عبدالستار کو گرفتار کر لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم کامران نے ابتدائی بیان میں اعتراف کیا کہ اس نے بیوی کو گھر کے دروازے سے باہر جھانکنے پر غصے میں آ کر لوہے کے سریے سے وار کر کے ہلاک کیا اور بعد میں لباس تبدیل کروا کر ہسپتال لے گیا۔
پولیس نے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا اور مزید تفتیش سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دی گئی۔
لواحقین کے بیان کے مطابق شکریہ بی بی کی شادی قریباً دو سال قبل تیرہ برس کی عمر میں کی گئی تھی۔
پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ ملزم کامران پر اپنی سابقہ ساس (پہلی بیوی کی والدہ) کے قتل کا مقدمہ بھی درج ہے۔
شکریہ بی بی کی والدہ نے ایک انٹرویو میں الزام لگایا کہ ملزم مسلسل ان کی بیٹی پر تشدد کرتا تھا اور باقی گھر والوں کو بھی قتل کی دھمکیاں دیتا رہا جبکہ اس کا والد (سسر) بھی خاندان پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ تین سالہ بچی کی بجائے خاندان کی تیسری بیٹی کا رشتہ اس کے ساتھ جلد از جلد طے کر دیا جائے۔
وزیراعلیٰ کا نوٹس اور حکومتی موقف
سوشل میڈیا پر تین سالہ بچی کے ’نکاح‘ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوٹس لے لیا جس کے بعد بچی کے باپ کو گرفتار کیا گیا تاہم جس ساٹھ سالہ شخص سے بچی کا نکاح طے کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ تاحال گرفتار نہیں ہو سکا۔
وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند نے بیان میں کہا کہ اس معاملے میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور پولیس و ضلعی انتظامیہ کو مرکزی ملزم سمیت دیگر ممکنہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات تیز کرنے جبکہ بچی کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔‘
قانون کیا کہتا ہے؟
بلوچستان اسمبلی نے گزشتہ سال نومبر میں اپوزیشن مذہبی جماعت جے یو آئی کے احتجاج اور مخالفت کے باوجود کم عمری کی شادیوں کی ممانعت سے متعلق قانون منظور کیا تھا جس کے تحت 18 سال سے کم عمر کا کوئی بھی فرد ’بچہ‘ تصور کیا جاتا ہے۔
قانون کے مطابق اگر کوئی 18 سال سے زائد عمر کا مرد کسی کم سن بچی سے شادی کرے تو اسے دو سے تین سال قید اور ایک سے دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
کم عمری کی شادی کرانے، اس کی ترغیب دینے یا فروغ دینے والے بشمول والدین یا سرپرست کو بھی اسی نوعیت کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
نکاح خواں یا نکاح رجسٹرار کو بھی ایک سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ 
قانون کے مطابق یہ جرم قابلِ دست اندازی پولیس، ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ قرار دیا گیا ہے یعنی فریقین باہمی رضامندی سے مقدمہ ختم نہیں کرا سکتے۔
طبی و سماجی ماہرین کم عمری میں شادی کو بچوں کی جسمانی و ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر امین اللہ خلجی کا کہنا ہے کہ 18 سال سے کم عمر میں شادی نہ صرف بچیوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ حمل میں پیچیدگی، ماں و بچے کی اموات، تشدد اور نفسیاتی صدمے کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ 
ماہر قانون قمر النساء ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ’قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور منفی  رواجوں کے خلاف مقامی سطح پر شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔‘

 

شیئر: