Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انگلینڈ میں ’تباہ کن‘ ٹیسٹ سیریز کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم اب کہاں کھڑی ہے؟

کپتان بابر اعظم سات سال بعد پاکستان کی ڈومیسٹک ریڈ بال کرکٹ میں واپسی کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے اختتام کے بعد پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ صائم ایوب سی پی ایل میں جمیکا کنگز مین کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں، محمد عباس کاؤنٹی چیمپئن شپ میں ڈربی شائر کے لیے انگلینڈ میں ہی رُک گئے ہیں جبکہ کپتان بابر اعظم سات سال بعد پاکستان کی ڈومیسٹک ریڈ بال کرکٹ میں واپسی کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت کسی ایک ٹیم کی واپسی نہیں بلکہ انفرادی کھلاڑیوں کے انفرادی راستے ہیں۔
’کرک انف‘ کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے لیے ایک تباہ کن تجربہ ثابت ہوا۔ پاکستان کو انگلینڈ کی سرزمین پر پہلی مرتبہ ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا۔ سیریز میں آخری ٹیسٹ کے اختتام سے قبل ایک مختصر مرحلے کے علاوہ کوئی خاص سنسنی پیدا نہ ہوسکی۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے 16 میں سے 11 پوائنٹس واپس لیے جانے کے بعد پاکستان پہلے ہی آخری نمبر پر موجود تھا، اب اس کے پوائنٹس کا تناسب صرف 4.63 فیصد رہ گیا ہے۔
دورۂ انگلینڈ پر جانے والے سکواڈ کے قریباً نصف کھلاڑی دو ہفتوں کے اندر ٹیم سے باہر ہوگئے اور یوں مزید سات کھلاڑی سلیکشن کے ذریعے سکواڈ کا حصہ بنے۔ قائم مقام کپتان کو ہٹا دیا گیا، وکٹ کیپر کو تحقیقات کے لیے وطن واپس بلایا گیا اور کوچنگ سٹاف بھی تبدیل ہوگیا۔
پاکستان اب ٹیلنٹ کو لامحدود وسائل کے طور پر استعمال کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ سلمان علی آغا اس کی واضح مثال ہیں۔ انگلینڈ میں فارم کی خرابی کے باعث انہیں صرف 12 دن بعد وطن واپس بھیج دیا گیا، لیکن دورہ ختم ہونے کے اگلے ہی روز انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں ٹرپل سینچری بنا دی۔ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آیا نیا ٹیلنٹ موجود نہیں یا پھر ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ کے معیار میں بہت بڑا فرق ہے۔
اس صورت حال میں اذان اویس، سعود شکیل اور عبداللہ شفیق جیسے کھلاڑی امید کی کرن دکھاتے ہیں۔ اذان اویس کی کارکردگی میں مسلسل بہتری کے آثار ہیں، سعود شکیل نے شارٹ بال کے خلاف زیادہ اعتماد دکھایا جبکہ عبداللہ شفیق کے پاکستانی پچز پر اعداد و شمار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ رضا اللہ بھی اس وقت توجہ کا مرکز ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف میچ میں ڈیبیو کرنے والے رضا اللہ بھی اس وقت توجہ کا مرکز ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بابر اعظم کے مستقبل پر بحث جاری ہے، لیکن اعداد و شمار ان کے حق میں ہیں۔ قریباً چار سال سے ٹیسٹ سینچری نہ بنانے کے باوجود اکتوبر 2024 میں واپسی کے بعد وہ 22 اننگز میں آٹھ نصف سینچریاں اور قریباً 39 کی اوسط سے رنز بنا چکے ہیں۔ پاکستان کا کوئی دوسرا بیٹر ان دونوں اعدادوشمار میں ان سے بہتر نہیں۔
محمد عباس کا معاملہ بھی اہم ہے۔ انگلینڈ میں پاکستان کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بولر ہونے کے باوجود ہوم کنڈیشنز میں ان کا کردار سوال بن سکتا ہے، کیونکہ پاکستان گذشتہ دو سیزنز سے سپن بولرز کے لیے موافق پچز پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ تاہم نومبر میں سری لنکا اور اس کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف یہی حکمت عملی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
پاکستان کو اگلی سیریز سے پہلے کسی نہ کسی شکل میں ایک ٹیم تشکیل دینا ہوگی، لیکن انگلینڈ کے دورے نے یہ واضح کردیا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں اکثر ہر کھلاڑی اپنی بقا کی جنگ خود لڑ رہا ہے۔ اور جب ٹیم پوائنٹس ٹیبل کے آخری حصے میں ہو تو ہر حریف ایک قدرتی شکاری بن جاتا ہے۔

شیئر: