کرکٹر محمد رضوان کے خلاف ’آن لائن سٹے بازی اور جوئے کی انکوائری جاری‘، ایجنسی نے کیا تفصیلات مانگیں؟
جمعرات 17 ستمبر 2026 19:12
رضوان نے اس کارروائی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا (فوٹو: گیٹی)
پاکستان کے دو معروف کرکٹرز محمد رضوان اور امام الحق سے متعلق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی انکوائری سے متعلق تفصیلات منظرعام پر آگئیں۔
این سی سی آئی اے نے محمد رضوان کو جاری کیے گئے ایک نوٹس میں کہا ہے کہ ایجنسی پاکستان کرکٹ میں ’آن لائن بیٹنگ اور جوئے‘ سے متعلق انکوائری کر رہی ہے اور اس سلسلے میں ان کا بیان ریکارڈ کرنا مطلوب ہے۔
رضوان نے اس کارروائی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں این سی سی آئی اے سے رجوع کرنے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس معاملے میں امام الحق بھی این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں سے تفصیلی سوال نامے کے ذریعے معلومات طلب کی گئی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے دوران ٹیم میں تبدیلیاں کی گئیں اور محمد رضوان اور امام الحق سمیت بعض کھلاڑیوں کو ٹیسٹ سکواڈ سے ریلیز کر دیا گیا۔ اس کے بعد دونوں کرکٹرز سے متعلق این سی سی آئی اے کی طلبی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ابتدائی طور پر اس کارروائی کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم سے مبینہ معلومات یا مواد کے لیک ہونے کے معاملے سے جوڑا گیا تاہم بعد میں عدالت میں پیش کیے گئے این سی سی آئی اے کے نوٹس، جس کی کاپی اردو نیوز کے پاس دستیاب ہے، میں انکوائری کا تعلق آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے بتایا گیا۔
رضوان کو نوٹس میں کیا کہا گیا؟
این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر لاہور کی جانب سے محمد رضوان کو جاری کیے گئے نوٹس میں تعزیراتی ضابطے کی دفعہ 160 کے تحت انکوائری میں پیش ہونے اور بیان ریکارڈ کرانے کے لیے کہا گیا۔
نوٹس کے مطابق ایجنسی پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ رضوان سے کہا گیا کہ وہ انکوائری کے سلسلے میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔ نوٹس میں یہ بھی درج ہے کہ اگر وہ پیش نہ ہوئے تو اسے اس طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں کچھ نہیں ہے۔
سوالنامے میں مالی معاملات بھی شامل
بعد میں این سی سی آئی اے کی جانب سے محمد رضوان کو دیا گیا پانچ صفحات پر مشتمل سوال نامہ بھی لاہور ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا جس کی کاپی اردو نیوز نے حاصل کر لی ہے۔ اس سوالنامے میں رضوان سے ان کی ولدیت، تاریخ پیدائش، جائے پیدائش، اہلیہ اور بچوں سے متعلق معلومات طلب کی گئی ہیں۔
ایجنسی نے گزشتہ دس برس کے دوران ان کے زیر استعمال رہنے والے فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ان کی آمدن کے مختلف ذرائع کے بارے میں سوالات کیے گئے ہیں جن میں تنخواہ، کرائے، کاروبار اور زرعی آمدن شامل ہیں۔ رضوان سے بینک میں موجود رقم سے حاصل ہونے والے منافع، گھریلو اخراجات اور بچوں کے تعلیمی اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
سوالنامے میں جائیداد سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔ ان سے وراثتی جائیداد، اس کی منتقلی اور اس کے ثبوت کے علاوہ گزشتہ پانچ برس میں جائیداد کی خرید و فروخت کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ اسی طرح گزشتہ پانچ برس میں کیے گئے بین الاقوامی اور اندرون ملک سفری دوروں، ان کے اخراجات اور قیام کی مدت سے متعلق معلومات بھی طلب کی گئی ہیں۔ رضوان سے گزشتہ پانچ برس کے تمام بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور اگر کسی سے قرض لیا گیا ہو تو اس کی تفصیلات فراہم کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔
رضوان کا مؤقف کیا ہے؟
محمد رضوان کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ انہیں آٹھ ستمبر کو این سی سی آئی اے کا نوٹس موصول ہوا۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہیں اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ان پر آن لائن بیٹنگ یا جوئے سے متعلق اصل الزام کیا ہے۔
ان کے مطابق این سی سی آئی اے میں پیشی کے دوران انہوں نے متعدد مرتبہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تفصیل جاننے کی کوشش کی لیکن انہیں اس حوالے سے واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
رضوان نے اپنے جواب میں بین الاقوامی کرکٹ میں کرپشن سے متعلق تحقیقات کے لیے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ موجودہ بین الاقوامی کرکٹر ہیں، اس لیے اگر ان کے خلاف کرکٹ سے متعلق کرپشن کا کوئی الزام موجود ہے تو اسے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ’اگر ان کے خلاف کوئی ایسا الزام ہے تو انہیں اس کی تفصیل فراہم کی جائے تاکہ وہ انکوائری کا حصہ بن سکیں اور اپنا دفاع کر سکیں۔‘
لاہور ہائی کورٹ میں کیا ہوا؟
محمد رضوان کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی جہاں این سی سی آئی اے کے وکیل اسسٹنٹ اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر نے ایجنسی کا سوال نامہ عدالت کے سامنے پیش کیا۔ رضوان کے وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے موکل کو اپنے خلاف الزام کی واضح تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری جاری ہے اور رضوان سے مطلوبہ معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ عدالت نے رضوان کی درخواست مسترد کر دی اور انہیں این سی سی آئی اے سے رجوع کرکے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ہدایت کی۔
اب معاملہ کہاں کھڑا ہے؟
فی الحال محمد رضوان اور امام الحق دونوں سے این سی سی آئی اے نے معلومات طلب کی ہیں اور انکوائری کا عمل جاری ہے۔ محمد رضوان نے اپنے جواب میں اپنے خلاف الزام کی تفصیلات طلب کی ہیں جبکہ عدالت سے رجوع کرنے کے بعد انہیں ایجنسی کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ امام الحق کے بارے میں دستیاب معلومات کے مطابق وہ این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہو کر اپنا جواب جمع کرا چکے ہیں۔
