پاکستان کے دو سینیئر کرکٹرز محمد رضوان اور امام الحق سے متعلق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی انکوائری سے متعلق تفصیلات منظرِعام پر آگئیں۔
این سی سی آئی اے نے محمد رضوان کو جاری کیے گئے ایک نوٹس میں کہا ہے کہ ایجنسی پاکستان کرکٹ میں ’آن لائن بیٹنگ اور جوئے‘ سے متعلق انکوائری کر رہی ہے اور اس سلسلے میں ان کا بیان ریکارڈ کرنا مطلوب ہے۔
محمد رضوان نے اس کارروائی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں این سی سی آئی اے سے رجوع کرنے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں
اس معاملے میں امام الحق بھی این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں سے تفصیلی سوال نامے کے ذریعے معلومات طلب کی گئی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے دوران ٹیم میں تبدیلیاں کی گئیں اور محمد رضوان اور امام الحق سمیت بعض کھلاڑیوں کو ٹیسٹ سکواڈ سے ریلیز کر دیا گیا۔ اس کے بعد دونوں کرکٹرز سے متعلق این سی سی آئی اے کی طلبی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ابتدائی طور پر اس کارروائی کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم سے مبینہ معلومات یا مواد کے لیک ہونے کے معاملے سے جوڑا گیا، تاہم بعد میں عدالت میں پیش کیے گئے این سی سی آئی اے کے نوٹس (جس کی کاپی اردو نیوز کے پاس دستیاب ہے) میں انکوائری کا تعلق آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے بتایا گیا۔
محمد رضوان کو نوٹس میں کیا کہا گیا؟
این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر لاہور کی جانب سے محمد رضوان کو جاری کیے گئے نوٹس میں تعزیراتی ضابطے کی دفعہ 160 کے تحت انکوائری میں پیش ہونے اور بیان ریکارڈ کرانے کے لیے کہا گیا۔
نوٹس کے مطابق ایجنسی پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جُوئے سے متعلق معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ رضوان سے کہا گیا کہ وہ انکوائری کے سلسلے میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔ نوٹس میں یہ بھی درج ہے کہ اگر وہ پیش نہ ہوئے تو اسے اس طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں کچھ نہیں ہے۔
سوال نامے میں مالی معاملات بھی شامل
بعد میں این سی سی آئی اے کی جانب سے محمد رضوان کو دیا گیا پانچ صفحات پر مشتمل سوال نامہ بھی لاہور ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا جس کی کاپی اردو نیوز نے حاصل کر لی ہے۔ اس سوال نامے میں رضوان سے ان کی ولدیت، تاریخ پیدائش، جائے پیدائش، اہلیہ اور بچوں سے متعلق معلومات طلب کی گئی ہیں۔

ایجنسی نے گذشتہ دس برس کے دوران ان کے زیر استعمال رہنے والے فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔ اس کے علاوہ گذشتہ پانچ برس کے دوران ان کی آمدن کے مختلف ذرائع کے بارے میں سوالات کیے گئے ہیں جن میں تنخواہ، کرائے، کاروبار اور زرعی آمدن شامل ہیں۔ رضوان سے بینک میں موجود رقم سے حاصل ہونے والے منافع، گھریلو اخراجات اور بچوں کے تعلیمی اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
سوال نامے میں جائیداد سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔ ان سے وراثتی جائیداد، اس کی منتقلی اور اس کے ثبوت کے علاوہ گذشتہ پانچ برس میں جائیداد کی خرید و فروخت کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ اسی طرح گزشتہ پانچ برس میں کیے گئے بین الاقوامی اور اندرون ملک سفری دوروں، ان کے اخراجات اور قیام کی مدت سے متعلق معلومات بھی طلب کی گئی ہیں۔ رضوان سے گزشتہ پانچ برس کے تمام بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور اگر کسی سے قرض لیا گیا ہو تو اس کی تفصیلات فراہم کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔
محمد رضوان کا مؤقف کیا ہے؟
محمد رضوان کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ انہیں آٹھ ستمبر کو این سی سی آئی اے کا نوٹس موصول ہوا۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہیں اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ان پر آن لائن بیٹنگ یا جوئے سے متعلق اصل الزام کیا ہے۔
ان کے مطابق این سی سی آئی اے میں پیشی کے دوران انہوں نے متعدد مرتبہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تفصیل جاننے کی کوشش کی لیکن انہیں اس حوالے سے واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
محمد رضوان نے اپنے جواب میں بین الاقوامی کرکٹ میں کرپشن سے متعلق تحقیقات کے لیے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ موجودہ بین الاقوامی کرکٹر ہیں، اس لیے اگر ان کے خلاف کرکٹ سے متعلق کرپشن کا کوئی الزام موجود ہے تو اسے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔













