Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وہ وائرل ویڈیوز جنہوں نے ہزاروں افراد کو سپین تک جان لیوا سمندری سفر پر اُکسایا

گذشتہ ہفتے سپین کے زیرِ انتظام علاقے سیوتا میں غیر قانونی تارکین وطن کا بڑا ہجوم وائرل ویڈیوز کے نتیجے میں پہنچا۔ ابتدا چند درجن نوجوانوں سے ہوئی لیکن جلد ہی یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی اور اس دوران 80 سے زائد افراد ڈوب گئے یا بھگدڑ میں ہلاک ہوئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس ہجوم کی ایک بڑی وجہ سپین کی سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا جس میں کہا گیا کہ سمندر میں پکڑے جانے والے مہاجرین کو فوراً واپس نہیں دھکیلا جا سکتا۔
اس فیصلے کی غلط تشریحات پھیلیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ جو بھی سیوتا پہنچے گا اسے واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات اور ویڈیوز نے مزید لوگوں کو اپنی قسمت آزمانے پر مجبور کیا۔
مقامی میڈیا ادارہ ایل فارو دے سیوتا نے مہاجرین کی آمد کو اجاگر کیا، لیکن ان کی فوٹیج نے غیر ارادی طور پر مزید نوجوانوں کو سرحد پار کرنے کی ترغیب دی۔ بعد میں انفلوئنسرز نے بھی ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں وہ تیر کر سیوتا پہنچتے دکھائی دیے۔ کچھ گمراہ کن ویڈیوز بھی سامنے آئیں جنہیں لاکھوں بار دیکھا گیا۔
واٹس ایپ گروپس نے بھی کردار ادا کیا، جہاں ہزاروں لوگوں کو فوری حرکت کرنے کی ترغیب دی گئی۔
سپینش حکام کے مطابق ایک دن میں 70 ہزار سے زیادہ افراد غیر قانونی طور پر سیوتا میں داخل ہوئے۔ تاہم بھوک اور مشکلات کے باعث زیادہ تر واپس جانے پر مجبور ہوئے، جبکہ ہزاروں افریقی اور نابالغ بچے پھنسے رہے جنہیں ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔
ایک مراکشی نوجوان مونیم بلہاج نے کہا کہ ’ہم نے وہاں جا کر غلطی کی۔ وہاں صرف بھوک تھی۔‘

 

شیئر: