سپین میں ہزاروں تارکین کی آمد: یورپی یونین بحران سے دوچار، رُکن ممالک کی ایک دوسرے پر الزام تراشی
سپین میں ہزاروں تارکین کی آمد: یورپی یونین بحران سے دوچار، رُکن ممالک کی ایک دوسرے پر الزام تراشی
ہفتہ 1 اگست 2026 10:28
یورپی یونین کے رکن ممالک میں مہاجرین کے داخلے کے خدشات نے سفارتی تناؤ کو جنم دیا ہے (فوٹو: اے پی)
فرانس اور اٹلی نے سنیچر کو تقریباً 60 ہزار افراد کے سپین کے شمالی افریقہ میں واقع انکلیو میں داخل ہونے کے بعد سرحدی کنٹرول سخت کر دیا ہے، جس سے حالیہ برسوں میں یورپی یونین کے لیے مہاجرین کا ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
اس انکلیو کے علاقائی صدر خوان خیسس ویواس نے صحافیوں کو بتایا کہ مہاجرین مراکش سے سیوتا میں داخل ہوئے، تاہم جمعے کی شام تک حکام کا کہنا تھا کہ 48 ہزار سے زائد افراد واپس جا چکے ہیں۔
سیوتا میں داخل ہونے کے لیے بہت سے افراد نے اس چھوٹی سرحدی رکاوٹ کے گرد تیر کر راستہ بنایا جو بحیرۂ روم میں آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کوشش میں کم از کم 34 افراد ہلاک ہو گئے۔
مہاجرین کی اس اچانک آمد نے بین الاقوامی بحران کو جنم دیا۔
فرانس نے سپین کے ساتھ اپنی سرحد پر چیکنگ سخت کر دی اور اعلان کیا کہ وہ سنیچر تک وہاں اپنی پولیس اور نیم فوجی اہل کاروں کی تعداد پانچ گنا بڑھا کر 334 اہلکار کر دے گا۔
اٹلی نے اعلان کیا کہ اس نے سپین کے ساتھ شینجن معاہدہ معطل کر دیا ہے، جس کے تحت سرحدوں کے درمیان بغیر ویزا آمد و رفت کی اجازت تھی۔
اطالوی حکام کے مطابق یہ معطلی ہفتے سے نافذ ہو کر ایک ماہ تک برقرار رہے گی۔
متعدد یورپی ممالک نے تجویز دی کہ شینجن فری موومنٹ زون میں سپین کی رکنیت معطل کی جائے، تاہم سپین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اس زون کا استحکام ’قائم‘ ہے۔
بحرِ اوقیانوس کے پار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دائیں بازو کی سخت گیر پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے اس صورتِ حال کو ہی بنیاد بنایا۔
سفارتی اثرات
یورپی یونین کے رکن ممالک میں مہاجرین کے داخلے کے خدشات نے سفارتی تناؤ کو جنم دیا ہے۔
یورپی کمیشن کی سربراہ ارسولا فان ڈیرلیین نے سیوتا کی صورتِ حال کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’ہم کسی کو بھی اپنے (یورپی) اتحاد میں ہمارے قوانین کی پاسداری کے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
اٹلی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سپین کے ساتھ شینجن معاہدہ معطل کر دیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
فن لینڈ اور ڈنمارک نے جمعے کے روز اٹلی کے اقدامات کی حمایت کی، جبکہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے مطالبہ کیا کہ مراکش ’غیر قانونی مہاجرین کو فوری طور پر واپس لے۔‘
فرانس اور برطانیہ نے کہا کہ وہ مہاجرین کی اچانک آمد سے نمٹنے میں سپین کی مدد کے لیے تیار ہیں، لیکن فرانس نے ساتھ ہی اپنی سرحدی نگرانی بھی مزید سخت کر دی ہے۔
پرتگال کے وزیر اعظم لوئس مونٹی نیگرو نے کہا کہ وہ سرحدی کنٹرول مزید مضبوط کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ایسا محسوس نہیں کیا کہ سپین کو شینجن زون سے معطل کرنے کی کوئی ضرورت ہو۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ’یہ کسی ملک پر لاکھوں لوگوں کے حملے جیسا لگتا ہے، اور اگر ریپبلکن منتخب نہ ہوئے تو یہی چیز ہمارے ساتھ بھی ہو گی، بلکہ اس سے بھی بدتر اور کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر۔‘
سپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے خدشات کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ’سیوتا اور میلیلا سے سپین کے مرکزی حصے تک سفر شناختی چیک کے بغیر ممکن نہیں‘، انہوں نے یہ بات سپین کے ان دونوں شمالی افریقی علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کی۔
انہوں نے کہا کہ ’اس دانستہ طور پر پھیلائی جانے والی اُلجھن کو ختم ہونا چاہیے۔‘