Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مراکش سے سینکڑوں تارکین رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے سپین کے شہر سیوتا میں داخل

جمعرات کو مراکش سے سینکڑوں تارکینِ وطن سپین کے شمالی افریقی علاقے سیوتا میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ مزید سینکڑوں افراد بھی وہاں پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس صورتِ حال کے بعد سپین نے سیوتا میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سیوتا میں سپینش حکومت کے وفد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’تیر کر سیوتا پہنچنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والے نو تارکینِ وطن کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔‘
مراکش سے شمالی افریقہ میں واقع سپین کے شہروں سیوتا اور ملیلہ میں تارکینِ وطن کے داخل ہونے کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ایک حساس سیاسی مسئلہ رہا ہے، کیونکہ مختلف اوقات کے دوران ہزاروں افراد سرحد عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسری جانب اٹلی نے جمعرات کو مطالبہ کیا کہ سپین کو یورپ کے شینگن زون سے معطل کیا جائے، جس پر سپینش حکومت نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے میڈرڈ میں تعینات اٹلی کے سفیر کو طلب کر لیا۔
اے ایف پی کے نمائندوں نے دیکھا کہ بڑی تعداد میں بالغ افراد اور بچے تیر کر سپین کے شہر سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور اکثریت کے کپڑے بھی بھیگے ہوئے تھے۔
سرحدی باڑ کے قریب ساحل پر تیراکی کے استعمال شدہ فلوٹ اور کپڑے بھی بِکھرے پڑے تھے۔
سپین کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مسلح افواج کو سِول گارڈز کی معاونت کے لیے تعینات کیا جائے گا تاکہ بوقتِ ضرورت وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیوتا شہر میں امن و امان برقرار رکھ سکیں۔‘
وزارت داخلہ نے یہ نہیں بتایا کہ 18.5 مربع کلومیٹر کے اس علاقے میں کتنے فوجی تعینات کیے جائیں گے، البتہ یہ کہا گیا کہ وہاں تعینات سول گارڈز کی موجودہ تعداد 80 سے قریباً دو گنا کر دی جائے گی۔
سپین کی حکومت نے یہ اعلان بھی کیا کہ غوطہ خور ٹیمیں اور کوسٹ گارڈز کے بحری جہاز بھی سیوتا بھیجے جائیں گے۔

شیئر: