پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: موٹروے کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا
موٹروے ایم ون پر مصری بانڈہ کے قریب دو گروپوں کے درمیان تصادم اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد کرنل شیر خان انٹرچینج پر جاری احتجاج رات گئے ہی ختم کروا دیا گیا جس کے بعد تمام موٹرویز کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کے پیشِ نظر خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والی موٹروے ’ایم ون‘ کو کرنل شیر خان انٹرچینج سے ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے ترجمان ثاقب وحید نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’گزشتہ شب فائرنگ کے واقعے کے بعد مقتول کے لواحقین نے لاش سڑک پر رکھ کر کرنل شیر خان انٹرچینج کے قریب موٹروے کو بند کر دیا تھا۔ تاہم مقامی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مذاکرات کے بعد یہ معاملہ رات گئے ہی حل کر لیا گیا تھا۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت کرنل شیر خان انٹرچینج سمیت تمام موٹرویز پر ٹریفک کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی بھی مقام پر کوئی بندش نہیں ہے۔
ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ ’مستقبل میں بھی اگر کسی احتجاج کے باعث موٹروے کی بندش کا معاملہ سامنے آتا ہے تو اس کا فیصلہ موٹروے پولیس نہیں بلکہ مقامی انتظامیہ صورتحال کا جائزہ لے کر کرتی ہے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے احتجاج اور سکیورٹی کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے موٹروے ’ایم 16‘ سوات ایکسپریس وے کو بھی بند کردیا گیا ہے۔
حکام کی جانب سے مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور روانہ ہونے سے قبل موٹروے پولیس ایڈوائزری کی تازہ ترین صورتِ حال لازمی معلوم کریں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے مطالبات کے حق میں 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور مہنگائی کے خلاف کراچی سے روانہ ہونے والا جماعت اسلامی کا لانگ مارچ بذریعہ ٹرین ملتان اور پھر وہاں سے بذریعہ سڑک اسلام آباد پہنچے گا۔
پی ٹی آئی اور جماعتِ اسلامی کے لانگ مارچ کو روکنے اور امن و امان کی صورتِ حال کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کر رکھے ہیں۔
حکومت نے وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے اور شہر میں کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس اور ریلیوں پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔
دوسری جانب سندھ پولیس کے 2 ہزار اہلکار پیر کو ریل کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئے۔سندھ پولیس کی نفری کو پولیس لائن، فیصل مسجد اور ڈپلومیٹک انکلیو میں ٹھہرایا جائے گا۔
اسلام آباد میں مظاہرین کا داخلہ روکنے کے لیے شہر کے اندرونی اور بیرونی راستوں پر ایک ہزار سے زائد کنٹینرز بھی رکھ دیے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں 8 ڈی آئی جیز کی نگرانی میں مجموعی طور پر 22 ہزار سے زائد اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا جبکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے مقام اٹک پر 30 ہزار اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
