Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہنگو میں جھڑپ، دو فوجی افسران سمیت 6 اہلکار جان سے گئے، 8 شدت پسند ہلاک

بیان میں کہا گیا سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں (فوٹو: روئٹرز)
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اتوار کو خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے کانوائے اور شدت پسندوں (خوارج) کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 8 شدت پسند ’خوارج‘ مارے گئے، جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران دو فوجی افسران سمیت چھ اہلکار جان سے گئے۔
بیان کے مطابق کیپٹن ابو ذر فاروق کا تعلق گوجرانوالہ جبکہ لیفٹیننٹ شیراز بابر چکوال کے رہائشی تھے انہوں نے اپنے دستوں کی قیادت فرنٹ لائن سے کی، بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان دی۔ ان کے ساتھ چار اور جوان بھی شہید ہوئے ہیں۔
علاقے میں موجود دیگر شدت پسندوں کی تلاش اور ان کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں اس عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں۔
یاد رہے گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے بم دھماکے اور مسلح حملے میں 31 افراد ہلاک ہوئے جن میں 16 پولیس اہلکار شامل ہیں۔
آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز کی مسجد پر دھماکے کے بعد دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش کو پولیس اور سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا جس کے نتیجے میں تمام 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

 

 

 

 

شیئر: