سعودی عرب کی حوثیوں کے بحری ناکہ بندی کے دعوے کی شدید مذمت
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق جہازوں کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کریں گے( فوٹو: عرب نیوز)
سعودی حکام نے پیر کی رات حوثیوں کے فوجی ترجمان کی جانب سے اس دعوے کی شدید مذمت کی ہے کہ حوثی ملیشیا نے مملکت کے خلاف بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
مملکت نے حوثیوں کے ان الزامات کی بھی مذمت کی جس میں کہا گیا کہ مملکت نے یمنی عوام کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
پیر کی شب وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’سعودی عرب نے گزشتہ برسوں کے دوران یمن کی قانونی حکومت کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل، بجٹ کی سپورٹ اور بجلی گھروں کو چلانے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے کام کیا ہے تاکہ یمنی عوام کے مصائب کو کم کیا جا سکے۔‘
وزارت نے بیان میں یمنیوں اور یمنی انفراسٹرکچر پر کیے جانے والے حوثیوں کے حملوں کا ذکر کیا جن میں 30 دسمبر 2020 کو عدن ہوائی اڈے پر کیا گیا حملہ شامل ہے، جس میں درجنوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، اس کے علاوہ 21 اکتوبر 2022 کو جنوبی یمن میں تیل برآمد کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے بھی شامل ہیں۔
وزارت نے بیان میں مزید کہا کہ حوثیوں نے ایسے دیگر حملے بھی کیے جن کا مقصد یمنی حکومت کی تیل فروخت کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کرنا تھا۔ تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی حکومت کی کل آمدنی کا تقریباً 60 فیصد بنتی ہے اور اس کا براہِ راست اثر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی پر پڑتا ہے۔
وزارت کے بیان کے مطابق، جون 2024 میں حوثی ملیشیا نے یمنیہ ایئرویز کے چار طیارے بھی قبضے میں لے کر روک لیے جو جدہ سے یمنی حجاج کو وطن واپس لا رہے تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے یمن کو وسیع تر علاقائی تنازع میں گھسیٹ لیا ہے اور بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس کے نتیجے میں یمنی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا، ان کے سفر میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور ملک کی معاشی صورتحال مزید بگڑ گئی، خصوصاً ان علاقوں میں جو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول ہیں۔

وزارت نے مزید کہا کہ حوثیوں نے صنعا ہوائی اڈے سے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے لیے پیش کی جانے والی تمام تجاویز کو مسترد کر دیا، وہ یمنی شہریوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب وہ سعودی عرب پر جھوٹے الزامات عائد کرکے ملک کو درپیش معاشی مشکلات اور اپنے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’سعودی عرب کا مقصد ہمیشہ یمن میں قیام امن اور یمنی عوام کے مصائب کا خاتمہ رہا ہے۔‘
گزشتہ برسوں کے دوران سعودی عرب نے یمن میں قیام امن کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ جس میں وہ روڈ میپ شامل ہے جسے یمنی حکومت نے قبول کر لیا تھا جبکہ حوثی ملیشیا اسے تسلیم کرنے کے بجائے اپنے مذموم ایجنڈے اور مقاصد کے لیے وسیع علاقائی تنازعات میں شامل ہوئی جس سے اس کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں یمنیوں کے مصائب میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
مملکت نے یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی سپورٹ جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے جن میں سرفہرست یمن سے متعلق قرارداد 2216 اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادی سے متعلق قرارداد 2722 شامل ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’سعودی عرب، بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے سمندری قانون کے مطابق اپنے جہازوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘
علاوہ ازیں یمن میں عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ ’عرب اتحاد نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے اپنے تجارتی جہازوں کے لیے حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔‘
ترجمان نے دھمکیوں کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور سمندری قزاقی کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’آبنائے باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف تمام حوثی دھمکیوں کا فوری اور موثر جواب دیا جائے گا۔‘

’یمنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی بندش سے متعلق دعوے حوثیوں کے بے بنیاد پروپیگنڈے اور یمنی حکومت اور پڑوسی ممالک کے خلاف ان کی اشتعال انگیزی کا حصہ ہیں۔‘
ان کے مطابق ’حوثیوں کی جانب سے بندرگاہوں کے محاصرے کا یہ بیانیہ سراسر جھوٹا ہے۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں خوراک، تجارتی سامان، ایندھن اور تعمیراتی مواد جانے والے 300 سے زائد جہاز شمالی یمن کی بندرگاہوں الحدیدہ، الصلیف اور راس عیسیٰ پر پہنچے۔‘
انہوں نے کہا کہ صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش کا سبب خود حوثی ملیشیا ہے۔ اسی نے یمنیہ ایئرویز کے طیاروں کے بیڑے کو تباہ کیا اور ہوائی اڈے سے آنے اور جانے والی پروازیں دوبارہ بحال کرنے کے لیے پیش کی جانے والی تمام تجاویز کو مسترد کر دیا۔
