Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بحری ناکہ بندی: سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے دعوے کی شدید مذمت

سعودی حکام نے پیر کو حوثیوں کے فوجی ترجمان کی جانب سے اس دعوے کی  شدید مذمت کی ہے کہ حوثی ملیشیا نے مملکت کے خلاف بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
مملکت نے حوثیوں کے ان الزامات کی بھی مذمت کی جس میں کہا گیا کہ مملکت نے یمنی عوام کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ’مملکت نے گزشتہ سالوں سے یمن کی قانونی حکومت کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل، یمنی حکومت کے بجٹ کی سپورٹ اور بجلی گھروں کو چلانے کے لیے پٹرولیم  مصنوعات کی فراہمی کے لیے کام کیا ہے، تاکہ یمنی عوام کے مصائب کو کم کیا جا سکے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’2026 کی پہلی ششماہی میں خوراک، تجارتی سامان، ایندھن اور تعمیراتی مواد جانے والے 300 سے زائد جہاز شمالی یمن کی بندرگاہوں الحدیدہ، السلیف اور راس عیسی پر پہنچے ہیں۔‘
وزارت نے  بیان میں یمنیوں اور یمنی انفراسٹرکچر پر کیے جانے والے حوثیوں کے حملوں کو اجاگر کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’سعودی عرب کا مقصد ہمیشہ یمن میں قیام امن اور یمنی عوام کے مصائب کا خاتمہ رہا ہے۔‘
گزشتہ برسوں کے دوران یمن میں قیام امن کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کوششوں کی سپورٹ کی ہے۔ جس میں وہ روڈ میپ شامل ہے جسے یمنی حکومت نے قبول کرلیا تھا جبکہ حوثی ملیشیا اسے تسلیم کرنے کے بجائے اپنے مذموم ایجنڈے اور مقاصد کے لیے وسیع علاقائی تنازعات میں شامل ہوئی جس سے اس کے زیر کنٹرول علاقوں میں یمنیوں کے مصائب میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
وزارت نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کے نفاذ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
 مملکت نے یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی سپورٹ جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’سعودی عرب، بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے سمندری قانون کے مطابق اپنےجہازوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘
علاوہ ازیں یمن میں عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ ’عرب اتحاد نے باب المندب سے گزرنے والے اپنے جہازوں کے لیے حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔‘

شیئر: