Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کی بن گویر کے مسجدِ اقصیٰ میں داخلے کی مذمت، ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار

وزارت خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب نے اتوار کے روز اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کی آباد کاروں کے ایک گروپ کے ہمراہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی شدید مذمت کی اور اسے ’کھلی خلاف ورزی‘ اور ’دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیزی‘قرار دیا۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ بن گویر اور آباد کاروں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی حفاظت میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بولا۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینیوں اور مقدس مقامات کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات، غیر قانونی اور انتہا پسندانہ طرزِ عمل، نیز تشدد پر اکسانے کی کارروائیوں کو مسترد کرتا ہے۔
وزارت نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے کیونکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق، بن گویر نے اتوار کو سخت سکیورٹی حصار میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے کے صحن کا دورہ کیا۔ یہ دورہ یہودی کیلنڈر کے مقدس ترین دن یومِ کپور کے موقع پر کیا گیا۔
حالیہ ہفتوں کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہے کہ بن گویر مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے اور بظاہر اس کے مشرقی حصے میں تالمودی دعائیں ادا کیں۔

شیئر: