انڈونیشیا میں ڈوبنے والے جہاز کے 100 سے زیادہ لاپتہ مسافروں کی تلاش تاحال جاری
انڈونیشیا میں ڈوبنے والے جہاز کے 100 سے زیادہ لاپتہ مسافروں کی تلاش تاحال جاری
پیر 21 ستمبر 2026 7:26
13 ستمبر کو ہونے والے واقعے میں 10 افراد ہلاک اور 130 کے قریب لاپتہ ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈونیشیا کی ریسکیو ایجنسی کا کہنا ہے کہ مسافر جہاز ڈوبنے کے بعد لاپتہ ہونے والے 100 سے زائد افراد کی تلاش کا کام پیر کو بھی جاری رکھا جائے گا جبکہ واقعے میں اب تک 10 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 13 ستمبر کی صبح جاوا سمندر میں خراب موسم کی وجہ سے ورگو ٹرانسپورٹ ایٹ نامی جہاز الٹنے کے بعد ڈوب گیا تھا جس میں عملے کے 30 ارکان سمیت 243 افراد سوار تھے اور وہ جاوا کے شہر سورابایا سے بنجرماسین کے لیے 20 گھنٹے طویل سفر کے لیے روانہ ہوا تھا۔
قومی امدادی ادارے کے ایک عہدیدار آئی پوتو سودایانا نے اتوار کو جکارتہ میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’امید ہے کہ کل جائے حادثہ موسم سازگار ہو گا اور جہاز میں پھنسے مزید افراد کو باہر نکالا جا سکے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو کی جانے والی امدادی سرگرمیاں پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے متاثر ہوئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیر کو ادارہ جہاز کے اندر ریموٹ کے ذریعے دور سے کنٹرول ہونے والی ایک گاڑی بھیجے گا جس سے غوطہ خوروں کو رہنمائی اور امدادی آپریشن میں مدد ملے گی۔
جمعے کو غوطہ خوروں نے تین افراد کی لاشیں جہاز سے نکالی تھیں جبکہ اتوار کو بھی ایک لاش نکالی گئی۔
واقعے کے بعد ہونے والے ریسکیو آپریشن کے دوران 108 افراد کو بچا لیا گیا تھا تاہم 125 مسافر ابھی تک لاپتہ ہیں۔
حکام کی جانب سے سنیچر کو بتایا گیا تھا کہ جہاز کو دوبارہ سیدھا کرنے کے لیے ہونے والے آپریشن میں ابھی مزید وقت لگے گا اس لیے امدادی اداروں کی جانب سے بڑی تعداد میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش اور ریکوری آپریشن میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں 108 مسافروں کو بچا لیا گیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
پچھلے ہفتے ہونے والے واقعے میں رابطہ منقطع سے قبل کپتان نے اطلاع دی تھی کہ پانی کے شدید بہاؤ کی وجہ سے جہاز ایک طرف جھک رہا ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق جہاز کا محل وقوع بحرِ جاوا میں اپنی منزل سے تقریباً 150 کلومیٹر دور تھا۔
اے ایف پی کے مطابق انڈونیشیا میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران بحری حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔ 17 ہزار سے زائد جزیروں پر مشتمل ملک میں روزمرہ نقل و حمل اور سیاحت کا دارومدار زیادہ تر بحری سفر پر ہے۔ تاہم حفاظتی تدابیر کے ناقص انتظامات اور اچانک بدلتا موسم اکثر و بیشتر ایسے خوفناک حادثات کا سبب بنتے ہیں۔
اس واقعے سے ایک روز قبل بھی آنک کراکاٹاؤ آتش فشاں کے قریب 8 افراد کو لے جانے والی تیز رفتار بوٹ لاپتہ ہو گئی تھی، جس میں مقامی اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے 5 صحافی بھی شامل تھے۔ یہ ٹیم آتش فشاں کے دھماکے کی کوریج کے لیے جا رہی تھی۔
اسی طرح اگست میں بالی اور لومبوک کے درمیان سفر کرنے والے ایک مسافر جہاز میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک اور 5 لاپتہ ہو گئے تھے، جبکہ 211 افراد کو بچایا گیا تھا۔
سلایار جزیرے کے قریب 70 سے زائد مسافروں کو لے جانے والی ایک اور کشتی ڈوبنے کا شکار ہوئی تھی۔