Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پروجیکٹ پاناما‘ کی کہانی: کیا اے آئی کی تربیت کے لیے لاکھوں کتابیں کاٹی جا رہی ہیں؟

اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے دنیا بھر میں لاکھوں نایاب اور آؤٹ آف پرنٹ کتابیں خرید کر سکین کی جا رہی ہیں۔ (فوٹو:گیٹی امیجز)
مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز کی تربیت کے لیے دنیا بھر میں لاکھوں نایاب اور آؤٹ آف پرنٹ کتابیں خرید کر سکین کی جا رہی ہیں۔ کتابوں کی بائنڈنگ کاٹ کر انہیں ضائع کیے جانے کے عمل پر کتاب فروشوں، مصنفین اور ناشروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے نایاب کتابیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہیں۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ فور زیرو فور کے مطابق ایک چھوٹے کتاب فروش نے بتایا کہ اپریل میں اچانک ان کی کتابوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور جہاں وہ پہلے ہفتے میں تقریباً 20 کتابیں فروخت کرتے تھے، وہیں اب سینکڑوں کتابیں فروخت ہونے لگیں، جن میں زیادہ تر غیر معروف، نایاب اور آؤٹ آف پرنٹ کتابیں شامل تھیں۔
کتاب فروش نے کہا کہ ’اس سے مجھے مالی فائدہ بھی ہوا اور وہ پرانا ذخیرہ بھی فروخت ہوگیا جس کے فروخت ہونے کے امکانات کم تھے۔ خاص طور پر میرے پاس بیرون ملک سے آئی ہوئی اور غیر ملکی زبانوں کی کتابیں موجود تھیں۔‘
’لیکن دوسری طرف مجھے اس بات پر خوشی نہیں کہ ان کتابوں کا انجام کیا ہو رہا ہے اور مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ غیر معمولی کتابوں کو ضائع کیا جا رہا ہے۔‘
یورپ کے مختلف ممالک میں نایاب کتابوں کے فروخت کنندگان بھی اسی طرح کی غیر معمولی خریداری کی درخواستیں موصول ہونے کی اطلاع دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ان درخواستوں کے پیچھے امریکہ میں قائم مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں ہیں۔
نیدرلینڈز کے شہر ہارلیم میں قدیم اور نایاب کتابوں کے تاجر پیٹر ڈی فریز کو حال ہی میں سنگاپور کی کمپنی ٹو زیرو سیون سیون اے آئی (2077 اے آئی) کی ایک خاتون کی جانب سے ای میل موصول ہوئی، جس نے اپنا نام نیٹلی بتایا۔
ای میل میں لکھا گیا تھا کہ کمپنی مختلف زبانوں کی کتابیں جمع کرنے کے ایک نئے منصوبے پر کام کر رہی ہے تاہم فی الحال زیادہ توجہ انگریزی زبان کی کتابوں پر ہے۔
ای میل کے ساتھ تقریباً تین ہزار انگریزی زبان کی کتابوں کی فہرست بھی منسلک تھی، جو بین الاقوامی معیاری کتابی نمبر (آئی ایس بی این) کے مطابق ترتیب دی گئی تھی۔ ان میں پریوں کی کہانیوں، لوک داستانوں، سائنسی موضوعات، تکنیکی رہنماؤں اور دیگر تخصصی کتابوں سمیت مختلف موضوعات شامل تھے۔

کمپنی مختلف زبانوں کی کتابیں جمع کرنے کے ایک نئے منصوبے پر کام کر رہی ہے (اے ایف پی)

نیدرلینڈز، سوئٹزرلینڈ، سپین اور جرمنی کے ذرائع ابلاغ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ وہاں کے کتاب فروشوں کو تقریباً اسی نوعیت کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
کتاب فروشوں کا کہنا ہے کہ چونکہ ان کتابوں کی نوعیت انتہائی غیر معروف اور تخصصی تھی، اس لیے ان کا مقصد نہ ذاتی ذخیرہ بنانا تھا اور نہ ہی دوبارہ فروخت، بلکہ غالب امکان یہی ہے کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اے آئی کمپنیاں پرانی کتابوں کی طرف کیوں جا رہی ہیں؟
اب تک بڑے لینگوئج ماڈلز، جن پر چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کام کرتے ہیں، ان کی تربیت انٹرنیٹ پر موجود مواد، لائسنس یافتہ کتابوں اور مضامین، کمپیوٹر کوڈ کے ذخائر اور انسانی فیڈبیک کی مدد سے کی جاتی رہی ہے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر دستیاب معیاری مواد بڑی حد تک استعمال ہو چکا ہے جبکہ ویب پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کم معیار کے مواد کی مقدار بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں اب 2022 سے پہلے شائع ہونے والی ایسی کتابوں کی طرف رخ کر رہی ہیں جنہیں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی آمیزش سے پاک سمجھا جاتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ لاکھوں انتہائی قیمتی کتابیں آج بھی کبھی ڈیجیٹل شکل میں منتقل نہیں کی گئیں (فوٹو:اے ایف پی)

دنیا کا سب سے بڑا کتابی ڈیٹا بیس ہونے کا دعویٰ کرنے والی کمپنی ’آئی ایس بی این ڈی بی‘ اب مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو ایک ہی آرڈر میں 10 لاکھ تک کتابیں فراہم کرنے کی پیشکش کرتی ہے، جن میں پرانی، نایاب اور تخصصی کتابیں بھی شامل ہوتی ہیں۔
کمپنی اپنی ویب سائٹ پر لکھتی ہے کہ ’مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے دنیا کا بہترین مواد کتابوں کی الماریوں میں موجود ہے۔‘
کمپنی کے مطابق بڑے لینگوئج ماڈلز کے دور سے پہلے شائع ہونے والی مطبوعہ کتابیں ساخت کے اعتبار سے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی آمیزش سے محفوظ ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ لاکھوں انتہائی قیمتی کتابیں آج بھی کبھی ڈیجیٹل شکل میں منتقل نہیں کی گئیں اور وہ صرف طباعتی صورت میں موجود ہیں۔ یہ کتابیں لائبریریوں، پرانی کتابوں کی دکانوں اور آؤٹ آف پرنٹ فہرستوں میں بکھری ہوئی ہیں اور کمپنی انہیں بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں تک پہنچا سکتی ہے۔

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے این تھروپک اور مصنفین کے درمیان 1.5 ارب امریکی ڈالر کے تاریخی تصفیے کی منظوری دی (فوٹو:اے ایف پی)

’پروجیکٹ پاناما‘ کیا تھا؟
گوگل کی حمایت یافتہ مصنوعی ذہانت کی کمپنی این تھروپک، جو کلاڈ نامی مصنوعی ذہانت کا ماڈل تیار کرتی ہے، اور میٹا، جو فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک ہے، اس سے قبل امریکہ میں لاکھوں پائریٹڈ کتابیں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کے الزام میں مقدمات کا سامنا کر چکی ہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے مصنفین کی جانب سے دائر کاپی رائٹ کے اجتماعی مقدمے میں این تھروپک اور مصنفین کے درمیان 1.5 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 42 کھرب 60 ارب پاکستانی روپے) کے تاریخی تصفیے کی منظوری دی جو اس نوعیت کے مقدمات میں پہلا تصفیہ ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق این تھروپک نے 2024 کے آغاز میں خاموشی سے پروجیکٹ پاناما کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا، جس کے تحت لاکھوں استعمال شدہ کتابیں خریدی گئیں، ان کی بائنڈنگ کاٹ کر صفحات کو صنعتی درجے کے تیز رفتار سکینرز سے سکین کیا گیا اور بعد میں کتابیں ضائع کر دی گئیں۔
کمپنی کی اندرونی دستاویزات میں اس منصوبے کو ’’دنیا کی تمام کتابوں کو سکین کرنے کی ہماری کوشش‘‘ قرار دیا گیا تھا، جبکہ یہ بھی لکھا گیا تھا کہ کمپنی نہیں چاہتی کہ اس منصوبے کے بارے میں عوام کو معلوم ہو۔

ایلون مسک نے کہا کہ انہوں نے اپنی اے آئی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ نایاب کتابوں کو محفوظ رکھتے ہوئے ان کی بائنڈنگ کاٹے بغیر سکین کیا جائے (فوٹو:اے ایف پی)

امریکی عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی کتاب کی ایک ڈیجیٹل نقل تیار کرکے اصل طباعتی نسخہ ختم کر دیا جائے تو امریکی قانون کے تحت اسے فیئر یوز کے اصول کے مطابق ’تبدیلی پر مبنی استعمال‘ تصور کیا جا سکتا ہے۔
 مخالفت اور خدشات
آئی ایس بی این ڈی بی کا کہنا ہے کہ این تھروپک نے یہ منصوبہ اس لیے خفیہ رکھا کیونکہ قانونی حیثیت کے باوجود عوامی تاثر منفی ہو سکتا تھا۔ کمپنی کے مطابق کتاب محض معلومات کی ترسیل کا ذریعہ ہے، اور معلومات منتقل ہونے کے بعد باقی رہ جانے والا کاغذ ری سائیکل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب سپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے اس طریقہ کار کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی اے آئی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ نایاب کتابوں کو محفوظ رکھتے ہوئے ان کی بائنڈنگ کاٹے بغیر سکین کیا جائے۔
آسٹریلیا میں کتاب فروشوں نے وزیراعظم انتھونی البانیزی سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت آسٹریلوی کتابوں کو اس عمل سے محفوظ بنایا جائے۔

ڈان البنگر نے کہا کہ تنظیم کو خاص طور پر نایاب اور تاریخی اہمیت رکھنے والی کتابوں کے ہمیشہ کے لیے غائب ہونے پر تشویش ہے (فوٹو:گیٹی امیجز)

آسٹریلین اینڈ نیوزی لینڈ ایسوسی ایشن آف اینٹی کویریئن بک سیلرز کی صدر ڈان البنگر نے کہا کہ تنظیم کو خاص طور پر نایاب اور تاریخی اہمیت رکھنے والی کتابوں کے ہمیشہ کے لیے غائب ہونے پر تشویش ہے، کیونکہ بہت سی کتابوں میں حاشیوں پر لکھے گئے نوٹس، تاریخی شواہد، جلد میں محفوظ مسودات اور مصنفین کے دستخط جیسے ایسے شواہد موجود ہوتے ہیں جنہیں صرف اصل کتاب میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح آسٹریلین بک سیلرز ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹیو سوزانا بووین نے کہا کہ کتابوں کے مواد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال کرنے سے اہم قانونی اور اخلاقی سوالات جنم لیتے ہیں اور اس سے تخلیقی کام کا اصل سیاق و سباق بھی متاثر ہوتا ہے۔
جبکہ آسٹریلین پبلشرز ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹیو پیٹریزیا دی بیاس ڈائسن کے مطابق اے آئی کمپنیوں کی جانب سے کتابیں حاصل کرنے کی بڑھتی ہوئی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ معیاری کتابیں مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے لیے انتہائی قیمتی ہیں، اس لیے مصنفین اور ناشروں کو مناسب اجازت، لائسنسنگ اور منصفانہ معاوضہ ملنا چاہیے۔
 

شیئر: