افغانستان میں ٹیکسی ڈرائیور طالبان حکومت کی جانب سے عائد موسیقی کی پابندی کے باوجود اپنی گاڑیوں میں گانے سننے لگے ہیں تاہم اخلاقی پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے کا خوف انہیں موسیقی کی آواز کم یا بند کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
دارالحکومت کابل کے ریستورانوں، کیفے اور دکانوں سے کبھی مسلسل موسیقی کی آوازیں سنائی دیتی تھیں، تاہم گذشتہ پانچ برسوں سے یہ آوازیں خاموش ہیں۔ اب ان کی جگہ صرف وہ مذہبی یا ملی نغمے سنائی دیتے ہیں جنہیں 2021 سے اقتدار میں موجود طالبان حکام کی حمایت حاصل ہے۔
مزید پڑھیں
تاہم روئین جیسے بعض ٹیکسی ڈرائیوروں نے افغان اور علاقائی لوک یا پاپ موسیقی سُننا شروع کر دی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کا خدشہ ہو تو وہ فوری طور پر موسیقی بند کر دیتے ہیں۔
روئین نے سکیورٹی خدشات کے باعث صرف اپنا پہلا نام بتاتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم جس بھی چیک پوسٹ سے گزرتے ہیں، موسیقی کی آواز کم کر دیتے ہیں یا مکمل طور پر بند کر دیتے ہیں تاکہ ان کے ساتھ کسی مشکل میں نہ پڑیں۔‘
عوامی مقامات پر موسیقی پر پابندی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے عائد کر رکھی ہے، جس کی اخلاقی پولیس سفید لمبے کوٹ پہنے شہر میں گشت کرتی ہے۔
وزارت کے ضوابط میں کہا گیا ہے کہ ’چونکہ موسیقی حرام ہے اور مسافروں کے لیے باعثِ اذیت بنتی ہے، اس لیے ڈرائیور موسیقی چلانے یا سننے سے گریز کریں۔‘
وزارت نے موسیقی سننے پر افغان شہریوں کو دی جانے والی سزاؤں سے متعلق اے ایف پی کے سوال کا جواب نہیں دیا، تاہم اس کے دیگر مختلف قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
روئین کا کہنا ہے کہ وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں کے پاس ’بہت زیادہ اختیارات‘ ہیں۔
انہوں نے اپنی آسمانی اور سفید رنگ کی ٹیکسی میں اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ موسیقی اونچی آواز میں سننے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔‘
کابل کی ٹریفک سے بھری سڑکوں اور گاڑیوں کے شور کے درمیان ٹیکسی چلاتے ہوئے روئین کا کہنا تھا کہ پابندی کے بعد موسیقی میں ان کی دلچسپی ’10 گنا بڑھ گئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مجھے یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ اگر میں صبح سویرے موسیقی نہیں سن سکتا تو کم سے کم آٹھ بجے تک میری موسیقی ضرور چل رہی ہو۔‘
افغانستان میں سنیما سمیت تفریح کی مختلف اقسام پر پابندی ہے۔ ایسے ماحول میں 28 سالہ ٹیکسی ڈرائیور کے لیے مسلسل موسیقی سننا ’احتجاج کی ایک شکل‘ بن گیا ہے۔

’ذہنی دباؤ‘ اور ہیڈفون پر پابندی
ایک اور ٹیکسی ڈرائیور نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ وہ صرف اس وقت موسیقی سنتے ہیں جب وہ اپنی گاڑی میں تنہا ہوں اور اردگرد دیگر گاڑیوں کا شور ہو۔
انہوں نے کہا کہ ’پہلے جب بھی کوئی شخص چاہتا، بلاخوف اور کسی دباؤ کے موسیقی سن سکتا تھا۔ اب صورت حال مختلف ہے۔۔۔ ذاتی طور پر میں موسیقی سنتا ہوں، مگر کچھ دباؤ کے ساتھ۔‘
32 سال کے ڈرائیور نے بتایا کہ یو ایس بی اور میموری کارڈ رکھنے کی وجہ سے اسے دو مرتبہ چیک پوسٹوں پر روکا جا چکا ہے۔
اس نے کہا کہ ’میں نے جھوٹ نہیں بولا، میں نے بتایا کہ اس میں موسیقی ہے اور انہوں نے اسے توڑ دیا۔‘
اس کا کہنا تھا کہ ’افغان ثقافت ختم نہیں ہونی چاہیے اور موسیقی ہمارے لوگوں کی ثقافت کا ایک حصہ ہے۔ ذاتی طور پر میں نہیں چاہتا کہ یہ ثقافت ختم ہو۔‘
موسیقی پر پابندی کے نفاذ کے دوران وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے صوبائی محکمے کبھی کبھار موسیقی کے آلات جلانے کی اطلاعات بھی جاری کرتے ہیں۔ وزارت کے ترجمان سیف الاسلام خیبر کے مطابق یہ معلوم نہیں کہ اب تک کتنے آلات ضبط کیے جا چکے ہیں۔
کابل میں مناسب عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام موجود نہ ہونے کے باعث شہری آمدورفت کے لیے کم خرچ مشترکہ ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں۔

عام طور پر دو مسافر ڈرائیور کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھتے ہیں، تین افراد پچھلی نشست پر ہوتے ہیں جبکہ بعض اوقات کوئی مسافر گاڑی کی کھلی ڈگی میں بھی سوار ہو جاتا ہے۔
ماسٹرز کے طالب علم شمس اللہ احمد نے اپنی یونیورسٹی کے قریب ٹیکسی کے انتظار کے دوران اے ایف پی سے گفتگو کی۔
29 سال کے احمد نے کہا کہ ’میں روزانہ موسیقی سننا پسند کرتا ہوں۔ جب بھی کسی جگہ جانا ہو تو کوشش کرتا ہوں کہ دیکھوں ٹیکسی میں موسیقی چلانے کا انتظام ہے یا نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں گاڑی میں موسیقی سننے کو ترجیح دیتا ہوں کیونکہ ہیڈفون لگانے پر لوگوں کی نظر پڑ سکتی ہے، جبکہ گاڑی میں آواز کم رکھ کر موسیقی سن لینا بھی کچھ نہ سننے سے بہتر ہے۔‘
اخلاقی پولیس کی جانب سے افغان شہریوں کے کانوں سے ہیڈفون نکال کر یہ جانچنے کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ آیا وہ موسیقی سن رہے ہیں یا نہیں۔
ٹیکسی ڈرائیور روئین ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کرتے ہیں جب ’ہم گانے سن سکتے تھے، رقص کر سکتے تھے اور خوشیاں منا سکتے تھے اور کوئی ہمیں نہیں روکتا تھا۔‘
گڑگڑاتے انجنوں کے شور کے درمیان روئین نے کہا کہ اب شہر ’اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، ایسا اندھیرا جس میں روشنی کی کوئی کرن نہیں۔‘












