Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جابرانہ نظام کے خلاف جدوجہد‘، پاکستانی وکیل جلیلہ حیدر کے لیے سویڈش رائٹ لائیولی ہوڈ ایوارڈ کا اعلان

سویڈش رائٹ لائیولی ہوڈ فاؤنڈیشن نے معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کو سال 2026 کا ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)
سویڈن میں قائم رائٹ لائیولی ہوڈ فاؤنڈیشن نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کی  ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کو سال 2026 کا ’رائٹ لائیولی ہوڈ‘ ایوارڈ' دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان بدھ کوسویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں کیا گیا جسےنوبیل انعام کا متبادل بھی قرار دیاجاتا ہے۔ 
رائٹ لائیولی ہوڈفائونڈیشن کے اسبھی قرار دیاجاتا ہے۔رواں سال کے دیگر ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں امریکی اے آئی ریسرچر ٹمنٹ گیبرو اور دو تنظیمیں جنوبی افریقہ کی ’رورل وومنز اسمبلی‘ اور جارجیا کی ’جارجین ینگ لائرز ایسوسی ایشن‘ شامل ہیں۔
فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سال 2026 کا رائٹ لائیولی ہوڈ ایوارڈ اِن خواتین اور خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی تنظیموں کو دیا جا رہا ہے جو دنیا میں مضبوط اور جابرانہ نظاموں ، خواتین کے خلاف پدرشاہی تشدد اور مصنوعی ذہانت(اے آئی) کی بے لگام ترقی کے خلاف کام کر رہی ہیں۔
بیان کے مطابق، ایوارڈ حاصل کرنےوالی ان خواتین اور تنظیموں میں یہ بات مشترک ہے کہ وہ ایسے نظاموں کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں جو لوگوں کو معاشرے میں پیچھے دھکیل دیتے ہیں اور اِس بات پر زور دیتی ہیں کہ انسان اور اس کی ضروریات کو دوبارہ اہمیت دی جائے۔
فاؤنڈیشن کی جیوری نے کہا کہ ’جلیلہ حیدر کو یہ اعزاز اپنی برادری کی پہلی خاتون وکیل کے طور پر نسلی، ریاستی اور مردانہ تسلط پر مبنی جبر کو چیلنج کرنے پر دیا گیا ہے۔‘
اپنے ایک بیان میں فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اولے وان اِکسکول کا کہنا ہے کہ جلیلہ حیدر نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک پاکستان کے پسے ہوئے طبقات کے تحفظ کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی اور اپنی قانونی جدوجہد کو عوامی تحریک کے ساتھ جوڑا۔
جلیلہ حیدر کا کہنا ہے کہ ’اُن کا ایمان ہے کہ انسانی حقوق آفاقی ہیں اور وہ سب کے لیے ہیں چاہے وہ بچہ ہو، مرد ہو، عورت ہو یا پھر خواجہ سرا اور چاہے اس کا تعلق کسی بھی نسل سے ہو۔  یہاں تک کہ ان نسلی گروہوں کے حقوق سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا جو میری اپنی برادری پر مظالم میں ملوث رہے ہیں۔‘
جلیلہ حیدر نے سال 2011 میں وکالت شروع کی۔ فاؤنڈیشن کے مطابق ان کی لا فرم نے اب تک سات ہزار سے زیادہ حساس مقدمات نمٹائے ہیں۔ وہ ایسے مقدمے بھی قبول کرتی رہیں جنہیں دوسرے وکلا خطرناک یا بے فائدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’کوئی وکیل یہ مقدمے لینے پر تیار نہیں تھا کیونکہ سب آگے چل کر جج یا سرکاری وکیل بننا چاہتے تھے لیکن انہوں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ وہ یہ مقدمات ضرور لڑیں گے۔‘

جلیلہ حیدر نے کہا کہ انسانی حقوق آفاقی ہیں اور یہ سب کے لیے ہیں چاہے اُس کا تعلق کسی بھی نسل یا گروہ سے ہو (فوٹو: رائٹ لائیولی ہوڈ فائونڈیشن)

فاؤنڈیشن کے بیان کے مطابق، ان کی لا فرم نے 600 سے زیادہ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی نقل و حرکت کی آزادی کی بحالی میں مدد فراہم کی۔ ان افراد پر سفری پابندیاں لگائی گئی تھیں یا ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے گئے تھے۔ یہ وہ سرکاری فہرست ہے جس میں شامل شخص بیرون ملک نہیں جا سکتا۔
جلیلہ حیدر کہتی ہیں کہ ’ اُن کا سب سے مشکل مقدمہ چھ سال چلا اور انہوں نے دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کا سامنا کرنے والے 15 بلوچ نوجوانوں کا دفاع کیا۔‘
انہوں نے  صرف سال 2025 میں بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کی گئی 30 خواتین کے مقدمات میں عدالت میں نمائندگی کی۔ ان کی لا فرم خواتین کو طلاق، بچوں کی تحویل اور وراثت کے مقدمات میں بھی مفت قانونی مدد بھی فراہم کرتی ہے۔ علاوہ ازیں،وہ جلاوطنی کا سامنا کرنے والے افغان پناہ گزینوں اور خواجہ سراؤں کی نمائندگی بھی کر چکی ہیں۔
 سال 2018میں جلیلہ حیدر نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف سات روزہ بھوک ہڑتال کی قیادت کی۔ فاؤنڈیشن کے مطابق ، ان کے اس احتجاج کے باعث اس وقت آرمی چیف اور ہزارہ خواتین کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے اور برادری پر حملوں میں نمایاں اور دیرپا کمی آئی۔
جلیلہ حیدر  کا کہنا ہے کہ  ان کے احتجاج کو میڈیا کوریج حاصل ہوگی۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ہزارہ خواتین کی کسی تحریک  کی قیادت سے اس سطح پر بات چیت ہوئی ہو۔

جلیلہ حیدر ’وومنز ڈیموکریٹک فرنٹ‘ کی بانی رُکن بھی ہیں (فوٹو: رائٹ لائیولی ہوڈ فاؤنڈیشن)

فاؤنڈیشن کے مطابق، انہوں نے بلوچستان کے پہلے ویمن مارچ کی قیادت میں اہم کردارادا کیا جس سے اس معاشرے میں خواتین کے حقوق پر کھل کر بحث شروع ہوئی۔
جلیلہ حیدر نے سال 2015 میں’وی دی ہیومنز‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم نے دہشت گردی کے واقعات میں مارے جانے والوں کی 400 سے زیادہ بیواؤں کو مالی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کی۔ تنظیم کی قالین بافی کی ورکشاپ میں خواتین کو روزگار اور برابر اُجرت اد ا کی جاتی ہے ۔ اُن کے بچوں کے لیے مفت ڈے کیئر اور تعلیم کا انتظام بھی ہے۔
فاؤنڈیشن کے بیان کے مطابق جلیلہ حیدر نے مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر بلوچستان میں 15 ہزار سے زیادہ سکول طالبات کو آن لائن ہراسانی اور ڈیٹا کے تحفظ کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے میں مدد کی۔
وہ سال 2019 کے ٹرانس جینڈر ایکٹ کی تیاری میں بھی مشاورت کا حصہ رہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کے قانون کی تیار ی میں بھی کردار ادا کیا، جس میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال رکھی گئی۔
فاؤنڈیشن کے مطابق جلیلہ حیدر کو اپنے کام کی وجہ سے حراست، سائبر ہراسانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا رہا۔ ان کا نام دو بار ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا۔
فاؤنڈیشن کے مطابق وہ سال 2016 میں کوئٹہ میں وکلا کے اجتماع کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے میں بال بال بچیں۔ اُس وقت وہ ایک ساتھی وکیل کے قتل پر تعزیت کے لیے جمع ہوئی تھیں جنہیں چند گھنٹے پہلے عدالت جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔
جلیلہ حیدر کا کہنا ہے کہ انہیں اگرعالمی پذیرائی حاصل نہ ہوتی تو وہ شاید آج زندہ نہ ہوتیں۔ انہیں اکثر’ریاست مخالف‘ کہا گیا لیکن اُن کا مؤقف ہے کہ اُن کی وفاداری پاکستان کے عوام اور آئین کی حکمرانی کے ساتھ ہے۔
جلیلہ حیدر کون ہیں؟
جلیلہ حیدر 10 دسمبر 1984 کو کوئٹہ میں ایک متوسط ہزارہ خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے مطابق ان کے والد ترقی پسند سوچ کے مالک تھے اور انہوں نے ہی ان کے ذہن میں وکیل بننے کا خواب ڈالا۔ جلیلہ جب 12 سال کی تھیں تو والد کا انتقال ہو گیا اور والدہ نے اکیلے چھ بچوں کی پرورش کی۔

جلیلہ حیدر کا ماننا ہے کہ انہیں اگر عالمی پذیرائی حاصل نہ ہوتی تو وہ شاید آج زندہ نہ ہوتیں (فوٹو: رائٹ لائیولی ہوڈ فائونڈیشن)

انہوں نے سال 2010 میں یونیورسٹی لا کالج کوئٹہ سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ اُن کا کہنا ہے کہ اپنے کالج کی پہلی ہزارہ خاتون ہونے کی وجہ سے انہیں آن لائن ہراسانی  کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
رائٹ لائیولی ہوڈ ایوارڈ سے پہلے بھی جلیلہ حیدر کو کئی بین الاقوامی اعزازات مل چکے ہیں۔ سال 2019 میں وہ بی بی سی کی 100 بااثر خواتین کی فہرست میں شامل ہوئیں۔ مارچ 2020 میں امریکی محکمۂ خارجہ نے انہیں ’انٹرنیشنل ویمن آف کریج ایوارڈ‘ دیا۔ 2023 میں انہیں دی ہیگ میں ویمن اِن لا کانفرنس کی جانب سے ’گلوبل جسٹیشیا ایوارڈ‘ ملا۔ وہ قبل ازیں سال 2015 میں پاکستان کی 50 بااثر خواتین کی فہرست ’نیوز وومن پاور 50‘ میں بھی شامل کی گئی تھیں۔
دیگر ایوارڈ یافتگان کون ہیں؟
جیوری کے مطابق ایوارڈ حاصل کرنے والوں دیگر افراد ٹمنٹ گیبرو اے آئی کی محققہ ہیں جن کا انتخاب مصنوعی ذہانت کی دنیا میں چند ہاتھوں میں جمع طاقت کو چیلنج کرنے کی بنیاد پر کیا گیا۔ جیوری نے اِن کے اس کام کو بھی سراہا جس میں وہ ایسی ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہی ہیں جو انصاف اور انسانی تجربات پر مبنی ہو۔

یہ ایوارڈ اب تک 82 ممالک کے207 افراد کو دیا جا چکا ہے (فوٹو: رائٹ لائیولی ہوڈ فائونڈیشن)

فاؤنڈیشن کے مطابق ایوارڈ حاصل کرنےوالی تنظیم ’رورل وومنز اسمبلی‘ جنوبی افریقہ کے 11 ممالک میں ایک لاکھ 78 ہزار سے زیادہ چھوٹے کسانوں کی تحریک ہے۔ جارجین ینگ لائرز ایسوسی ایشن کو جیوری نے جارجیا کی سب سے پرانی اور ممتاز انسانی حقوق کی تنظیم قرار دیا ہے۔ ایوارڈ یافتگان کو یکم دسمبر کو سٹاک ہوم میں ایک تقریب میں یہ ایوارڈ دیے جائیں گے۔
رائٹ لائیولی ہوڈایوارڈ کیا ہے؟
رائٹ لائیولی ہوڈ ایوارڈ سال 1980 میں سویڈن کے جیکب فان اِکسکول نے اپنے ڈاک ٹکٹوں کے مجموعے کا حصہ بیچ کر قائم کیا تھا۔ تنظیم کے مطابق انہوں نے یہ قدم اُس وقت اٹھایا جب نوبیل فاؤنڈیشن نے سماجی انصاف اور ماحولیاتی مسائل کی بہتری کے لیے کام کرنے والوں خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے رہنماؤں کو تسلیم کرنے کے لیے دو نئے ایوارڈز شامل کرنے کی تجاویز کو رَد کر دیا تھا۔
فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ کے مطابق یہ تنظیم گزشتہ 45 برسوں سے سے دنیا کے بڑے مسائل کے حل کے لیے کام کرنے والے بہادر لوگوں کی حوصلہ افزائی اور مدد کر رہی ہے۔ اب تک 82 ممالک کے 207 افراد کو یہ ایوارڈ مل چکا ہے۔ فاؤنڈیشن کو اقوامِ متحدہ میں مشاورتی حیثیت بھی حاصل ہے۔

شیئر: