Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صومالی قزاقوں کے قبضے سے جہاز چھڑانے کے دوران تین پاکستانیوں سمیت پانچ ملاح ہلاک، دفتر خارجہ کی تصدیق

پنت لینڈ فورسز نے بیان دیا تھا کہ قزاقوں نے کارروائی سے قبل ہی عملے کے پانچ ارکان کو ہلاک کر دیا تھا (فائل فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا شدہ تیل بردار جہاز ’ایم ٹی آنر 25‘ کو چھڑانے کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران تین پاکستانیوں سمیت عملے کے پانچ ارکان کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
دفترِ خارجہ ترجمان کی جانب سے بدھ کی شام جاری کردہ بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے پاکستانی شہریوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے ناموں سے ہوئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکومتِ پاکستان اور عوام اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور ان کے لیے دعا گو ہیں۔‘
دفتر خارجہ کے مطابق آپریشن کے دوران عملے کے چار ارکان زخمی بھی ہوئے جن میں تین پاکستانی شہری شامل ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ جہاز کے باقی محفوظ رہنے والے عملے کو صومالیہ کے ساحلی علاقے بندربیلہ پہنچا دیا گیا ہے۔
پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ جبوتی میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی ٹیم اپنے شہریوں کی مدد کے لیے بندربیلہ روانہ ہو چکی ہے۔
حکومتِ پاکستان، صومالی حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ زخمیوں کو بہترین علاج میسر آئے، ہلاک ہونے والے افراد کی میتوں کی وطن واپسی ممکن بنائی جا سکے اور باقی ماندہ پاکستانیوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
چھ ماہ کی قید اور خونریز آپریشن
پالاؤ کے پرچم تلے سفر کرنے والے اس تیل بردار جہاز ’ایم ٹی آنر 25‘ کو رواں برس 21 اپریل کو صومالیہ کے شمال مشرقی نیم خودمختار علاقے ’پنت لینڈ‘ کے قریب قزاقوں نے اغوا کیا تھا۔
جہاز پر 10 پاکستانیوں سمیت عملے کے 17 افراد سوار تھے۔ ان کے اہلخانہ گزشتہ چھ ماہ سے ان کی محفوظ رہائی کے لیے حکومتی سطح پر اپیلیں کر رہے تھے۔
گزشتہ روز پنت لینڈ میری ٹائم پولیس فورس نے دھارین بار کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران جہاز کا کنٹرول سنبھالنے اور 21 مشتبہ قزاقوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس آپریشن کے فوراً بعد پنت لینڈ فورسز نے بیان دیا تھا کہ قزاقوں نے کارروائی سے قبل ہی عملے کے پانچ ارکان کو ہلاک کر دیا تھا جن میں تین پاکستانی، ایک انڈین اور ایک میانمار کا شہری شامل تھا۔
تاہم اس وقت پاکستانی دفترِ خارجہ نے آزادانہ طور پر ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی تھی اور جبوتی مشن کے ذریعے معلومات جمع کی جا رہی تھیں۔
دفتر خارجہ کے تازہ ترین بیان کے بعد اب ان ہلاکتوں اور زخمیوں کی سرکاری طور پر تصدیق ہو گئی ہے، جبکہ صومالیہ میں قید پاکستانی ملاحوں کی بحفاظت وطن واپسی کے اقدامات جاری ہیں۔

شیئر: