’ایس پی سے زیادتی پر دو اہلکار گرفتار‘، سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ کی حقیقت کیا ہے؟
’ایس پی سے زیادتی پر دو اہلکار گرفتار‘، سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ کی حقیقت کیا ہے؟
بدھ 30 ستمبر 2026 14:36
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے جعلی کارڈ بھی بنوا رکھا تھا (فوٹو: پنجاب پولیس)
سوشل میڈیا پر گذشتہ چند روز سے ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں سٹی پولیس نے ایک حاضر سروس ایس پی کے ساتھ جنسی بدسلوکی پر دو پولیس کانسٹیبلز کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا ہے۔
اس دعوے کے ساتھ ایک ایف آئی آر کی تصویر بھی شیئر کی جا رہی ہے جس پر مقدمہ نمبر 248/2026 درج ہے لیکن جب اس دعوے، وائرل ایف آئی آر اور اس کے ساتھ شیئر کی جانے والی مبینہ ایس پی کی تصویر کا الگ الگ جائزہ لیا گیا تو یہ خبر فیک نکلی۔
پنجاب کی ضلعی جوڈیشری کے آن لائن کیس مینیجمنٹ سسٹم میں اٹک سے متعلق مقدمہ نمبر 248/2026 تلاش کرنے پر جو عدالتی ریکارڈ سامنے آتا ہے وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایف آئی آر کے متن سے مطابقت نہیں رکھتا۔
دستیاب عدالتی ریکارڈ کے مطابق اٹک کی ضلعی عدالت میں جج عبدالخان نے 21 مئی 2026 کو متعلقہ درخواست نمٹا دی تھی۔
اس مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 381 شامل تھی جو چوری سے متعلق ہے جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ ایف آئی آر میں جنسی جرم سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔
وائرل ایف آئی آر پر 24 ستمبر 2026 کی تاریخ درج ہے جبکہ دستیاب عدالتی ریکارڈ کے مطابق اسی مقدمہ نمبر سے متعلق معاملہ اس تاریخ سے کئی ماہ پہلے یعنی 21 مئی 2026 کو نمٹایا جا چکا تھا۔ یہ ایف آئی آر بظاہر کسی کمپیوٹر سافٹ وئیر پر بنائی گئی ہے جس کی ساخت پنجاب میں درج ہونے والی ایف آئی آرز سے مختلف ہے۔
اس وائرل خبر سے متعلق پنجاب پولیس کی جانب سے باقاعدہ تردید بھی جاری کی گئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر فیک ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
تصویر میں موجود شخص کون ہے؟
اس جھوٹی خبر کے ساتھ شیئر کی جانے والی تصویر بھی پرانی ہے۔ وائرل پوسٹ کے ساتھ جس شخص کی تصویر مبینہ ایس پی کے طور پر شیئر کی جا رہی ہے وہ دراصل جولائی 2025 کی ایک پولیس کارروائی سے متعلق تصویر ہے۔ اس وقت پنجاب پولیس نے ضلع بھکر سے ایک شخص کو گرفتار کرنے کے بعد اس کے بارے میں خبر جاری کی تھی جو خود کو پنجاب پولیس کا افسر دکھا کر لوگوں سے دھوکہ کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق اس وقت ملزم کے قبضے سے پولیس کی وردی، ایس پی رینک کے سٹارز اور پولیس افسر کے زیرِ استعمال چھڑی بھی برآمد ہوئی تھی۔
خود کو پولیس افسر ظاہر کرنے والا یہ شخص کون ہے؟
خود کو مبینہ ایس پی بنا کر پیش کرنے والے کو جون 2023 میں پنجاب کے ضلع وہاڑی کی پولیس نے گرفتار کے کے چالان بھی عدالت میں جمع کروا دیا تھا۔ وہاڑی پولیس کے ترجمان عدنان طارق نے اردو نیوز کو بتایا کہ پولیس کو ایک نجی بینک کی جانب سے اطلاع دی گئی تھی کہ بینک کی ایک خاتون ملازمہ کو ایک شخص خود کو پنجاب پولیس کا ایس پی ظاہر کرتے ہوئے ہراساں کر رہا ہے۔
ترجمان وہاڑی پولیس کے بقول مدعی نے یہ اطلاع احتیاط کے طور پر پولیس کو دی تھی جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا گیا یہ کارروائی تھانہ دانیوال نے خاتون بینکر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی درخواست پر کی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم کبھی اے ایس پی، کبھی ایس ایس پی اور کبھی ایس پی بن کر فراڈ کرتا تھا۔
جھوٹی خبر کے ساتھ لگائی جانے والی ایف آئی آر بھی جعلی ہے (فوٹو: پنجاب پولیس)
وہاڑی پولیس کے مطابق ملزم کا نام محمد ارباز خان ہے جو ضلع بھکر کا رہائشی ہے اور پولیس افسر کے طور پر اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
حکام کے مطابق وہ مختلف سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر میں اپنے کام نکلوانے کے لیے خود کو پولیس افسر ظاہر کرتا رہا۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملزم فون کے ذریعے مختلف دفاتر اور لوگوں کو ایس ایس پی کی حیثیت سے دھمکیاں بھی دیتا تھا۔
وہاڑی میں بھی اس پر ایس ایس پی بن کر شہریوں سے فراڈ کرنے کا الزام تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم ارباز ایس ایس پی بن کر خواتین کو ہراساں کرتا اور تعلقات قائم نہ کرنے کی صورت میں انہیں دھمکیاں بھی دیتا تھا۔
وہاڑی پولیس کے مطابق ملزم کا نام محمد ارباز خان ہے جو ضلع بھکر کا رہائشی ہے (فوٹو: پنجاب پولیس)
پولیس حکام نے اردو نیوز کو بتایا کہ ملزم نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پولیس افسر کی یونیفارم میں تصاویر بھی شیئر کی تھیں۔ پولیس حکام کے مطابق محمد ارباز خان کے نام سے اس شخص نے اپنا ایک جعلی پولیس سروس کارڈ بھی بنا رکھا تھا۔
15 مقدمات اور متعدد گرفتاریاں
پولیس حکام نے ملزم کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات اردو نیوز کو فراہم کیں ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزم کے خلاف پنجاب کے مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 15 مقدمات درج ہو چکے ہیں جس میں سے دو مقدمات 2019 میں، تین 2021 میں، دو 2023 میں، چار 2024 میں اور تین مقدمات 2025 میں درج ہوئے۔
یہ مقدمات ضلع بھکر، ساہیوال، وہاڑی، سرگودھا، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور لاہور میں درج کیے گئے تھے، پولیس ریکارڈ کے مطابق ساہیوال میں درج دو مقدمات میں ملزم کو کیس سے ڈسچارج بھی کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق سال 2025 میں بھکر سے گرفتاری کے بعد عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ اسی سال جب سرگودھا پولیس نے اسے گرفتار کیا تو اسے اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تھا۔ پولیس ریکارڈ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کو مجموعی طور پر 10 مرتبہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔