عسیر میں بادلوں اور پہاڑی چوٹیوں کے درمیان درمیان ڈوبتے سورج کا دلکش نظارہ
جمعرات 1 اکتوبر 2026 6:54
غروبِ آفتاب کے لمحات سیاحوں اور فوٹو گرافی کے شوقین افراد کو متوجہ کرتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
عسیر ریجن میں موسمِ خراں میں ڈھلتے سورج کے ساتھ پہاڑی سلسلے ایک شاندار سیاحتی مرکز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جہاں سیاحوں کو تھامہ کی بلند و بالا چوٹیوں سے لے کر ڈھلوانوں پر بسے شہروں اور دیہات تک پھیلے دلکش مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق آسمان کے رنگ، بادل، دھند اور پہاڑی چوٹیوں سے مل کر منفرد نظارے تشکیل دیتے ہیں۔
غروبِ آفتاب کے لمحات سیاحوں اور فوٹو گرافی کے شوقین افراد کو متوجہ کرتے ہیں۔ سورج ڈھلتے ہی دور افق پر پھیلے سنہری، نارنجی اور سرخ رنگ نمایاں ہوتے ہیں جبکہ پہاڑ کی چوٹیاں اور ڈھلوانوں کے درمیان حرکت کرتے بادل اور پھیلی دھند کو دیکھ کر ایسا گمان ہوتا ہے جیسے وہاں موجود سڑکوں اور دیہات کو ان بادلوں نے اپنے اندر سمو لیا ہو۔
ان مناظر میں ابھا شہر اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے جہاں فطرت اور شہری زندگی کا حسین سنگم نظر آتا ہے۔ بلند مقامات سے شہر پہاڑوں اور بادلوں میں گھرا دکھائی دیتا ہے۔
جیسے جیسے شام ڈھلتی ہے تو دھند کی تہوں کے نیچے سڑکوں اور بستیوں کی روشنیاں بتدریج جگمگانے لگتی ہیں۔ غروبِ آفتاب کی سرخی اور شہر کی روشنیوں کا ملاپ ایک مسحور کن منظر پیش کرتا ہے۔

موسمِ خزاں میں ’الزبرہ‘ (فلکیاتی مظہر ہے جو چاند کی 28 منزلوں میں سے 11ویں منزل کے طور پر مانا جاتا ہے، کے ظہور کے ساتھ ہی یہ مناظر مزید دلکش ہو جاتے ہیں۔
یہ موسمِ خزاں کی دوسری منزل اور ’سہیل‘ کے موسم کا تیسرا ستارہ ہے جو 13 روز تک رہتا ہے۔ اس دوران دن کے وقت میں موسم معتدل جبکہ راتیں نسبتاً سرد ہو جاتی ہیں۔
عیسر کے بلند و بالا تھامہ کے میدانوں، پہاڑی سلسلوں، ڈھلوانوں پر آباد دیہات کے وسیع و خوبصورت مناظر پیش کرتی ہیں۔ گھنے بادلوں اور پہاڑی چوٹیوں کے گرد چھائی دھند غروبِ آفتاب کے منظر کو ہر لمحہ نیا رنگ دیتی ہے۔

یہ دلکش نظارے عسیر کے پہاڑی علاقوں کو سیاحت اور تفریح کے لیے ایک بہترین مقام کے طور پر مزید مستحکم کرتے ہیں جس سے یہ علاقہ بدلتے موسموں اور رنگ بدلتے مناظر کے ذریعے سیاحوں کو ہر مرتبہ ایک نیا اور منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے۔
