Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آرٹ سے متاثر موسیقی: بینائی سے محروم میوزک کمپوزر جو نور ریاض کی زینت بنے

یہ کمپوزیشن تال اور موسیقی کی تہوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر تیار کی گئی ہے (فوٹو: عرب نیوز)
لائٹ آرٹ فیسٹیول نور ریاض نے ایسا میوزک سلیکشن ریلیز کیا ہے جسے مجدی بن مروان نے تخلیق کیا ہے جو چھ برس کی عمر سے بینائی سے محروم ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق مروان نے ان کا نام ’میلوڈیز آف لائٹ‘ رکھا ہے جو نور ریاض کی نمائشوں سے میوزیشن نے نتیجہ اخذ کر کے بنائی ہیں۔
ریاض آرٹ نے اس بارے میں کہا کہ یہ کام مجدی بن مروان نے نمائشوں میں وزٹ کے دوران آواز، تھرتھراہٹ اور جگہ کے احساس کے ذریعے کیا ہے۔
مجدی بن مروان فن پاروں کے گرد موجود باریک اشاروں کو محسوس کرتے ہیں کہ آواز کیسے ٹکرا کر واپس آتی ہے، اس کے درجہ حرارت کیسے تبدیل ہوتے ہیں اور ہر فن پارہ وہاں کی جگہ پر کیسے اثر پاتا ہے۔
وہ یہ سارے اشارے اپنی میوزک کمپوزیشن میں تبدیل کرتے ہیں۔
اس منصوبے کا مقصد فن کے اس پروگرام کو معذور افراد کے لیے زیادہ آسان اور جامع بنانا ہے تاکہ بینائی سے محروم افراد بھی آواز کے ذریعے ان نمائشوں کو محسوس کر سکیں۔
مروان کہتے ہیں کہ ’آواز روشنی کی نقل تو نہیں کر سکتی لیکن اس کا ترجمہ ضرور کر سکتی ہے۔ روشنی اور آواز دونوں ہی حرکت کا نام ہیں اور دونوں ہی ہمیں اپنے طریقے سے متاثر کرتے ہیں۔‘

مروان کہتے ہیں کہ آواز روشنی کی نقل تو نہیں کر سکتی لیکن اس کا ترجمہ ضرور کر سکتی ہے (فوٹو: عرب نیوز)

انہوں نے کہا کہ ’ہم روشنی کی ضرورت کو پکڑ نہیں سکتے لیکن اس کے ساتھ آتے احساس کو ہم محسوس کر سکتے ہیں۔‘
مروان نے مزید کہا کہ ’آواز بینائی سے محروم فرد کو آواز روشنی کے بارے میں خیال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔‘
میلوڈیز آف لائٹ کو گلوبل میوزک ایجنسی میسیو میوزک کے تعاون کے ساتھ بنایا گیا ہے جس میں مینا کے مینیجنگ ڈائریکٹر پیرے کارنیٹ اور ڈائریکٹر آف کری ایٹو سٹریٹیجی (امریکاز) راہا بھٹ بھی شامل ہیں۔

مجدی بن مروان فن پاروں کے گرد موجود باریک اشاروں کو محسوس کرتے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)

یہ کمپوزیشن تال اور موسیقی کی تہوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر تیار کی گئی ہے تاکہ بینائی سے محروم افراد کو رہنمائی فراہم کی جائے۔
گانے اور بے ہائینڈ دی سین ویڈیوز رائل کمیشن آف ریاض سٹی کے یوٹیوب چینل پر موجود ہیں۔
پہلی کمپوزیشن کو چینی آرٹسٹ ژانگ زینگ زینگ کی 2025 میں بنائی گئی دھن ’دی لائٹ ٹو ہوم‘ سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے جبکہ دوسری کمپوزیشن جاپانی آرٹسٹ شنجی اوہماکی کی 2025 میں بنائی گئی دھن ’لیمینل ایئر سپیس ٹائم‘ سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔

 

شیئر: