پرانی نسل کے سیانے کہتے تھے کہ سچ دو متضاد دعوؤں کے درمیان کی چیز ہے۔ جو جانتا ہے وہ دعویٰ کرتا ہے، مجھے کچھ نہیں معلوم اور جسے معلوم نہیں، وہ سب کچھ جاننے کا دعویٰ کرتا ہے۔
خیر یہ تو فلسفیانہ سی بات ہے مگر ہم نے اپنے صحافتی کیریئر میں یہی دیکھا ہے کہ خبر بھی اقرار اور انکار کی پرتوں میں لپٹی ہوتی ہے۔ جنہیں کچھ یا زیادہ معلوم ہوتا ہے وہ انکار ہی کرتے رہتے ہیں، کبھی تو آخری لمحے تک جبکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑے جوش وخروش سے بعض خبروں کی تصدیق اور اس کا اقرار کرنے والے بعد میں بے خبر اور جھوٹی سٹوری گھڑنے والے نکلتے ہیں۔ یوں اصل خبر تک پہنچنا اور اس کا تجزیہ کرنا اچھا بھلا گورکھ دھندا سا بن گیا ہے۔
یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ خاکسار نے اس ویک اینڈ پر خاصا وقت اس پر کھپایا کہ تحریک انصاف نے اچانک آخری دنوں میں آکر اپنا احتجاجی مارچ کیوں ملتوی کر دیا اور اسے سات آٹھ روز آگے کرنے کے پیچھے کیا دانش یا منطق ہے؟
مزید پڑھیں
دھند میں لپٹی تین کہانیاں
اس تحقیق یا کھوج کا حاصل تین مختلف قسم کی کہانیاں یا مختلف ورژن نکلے۔ ہم نے اپنے طور پر تو چھلنی لگائی ہے تاکہ جس قدر گرد الگ ہوسکتی ہے ہو جائے مگر حتمی سچ کا دعویٰ ہمارا نہیں۔ بعض باتیں قرین قیاس لگ رہی ہیں، اسی لیے اپنے قارئین تک انہیں پہنچا رہے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
سب سے دلچسپ تھیوری یہ ہے کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ کرنے کا اس طرح ارادہ یا نیت ہی نہیں تھی، یہ اعلان تو پریشر بنانے کے لیے کیا گیا اور یہ سوچ کر اتنا گیپ دیا کہ ہم سے بات کر لیں۔
پانچ اگست کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور کے عوامی جلسے میں یہ بات کہی، آٹھ اگست کو اس مارچ کا باقاعدہ اعلان پارٹی نے کر دیا مگر لانگ مارچ کی تاریخ دانستہ سات ہفتے آگے کی رکھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس قسم کے احتجاج کے لیے تیاری کرنا پڑتی ہے، مگر اس بار تو یہ پہلے سے طے تھا کہ پنجاب اور سندھ سے لوگوں کو اسلام آباد آنے کی کال نہیں دینی، وہ اپنے شہروں ہی میں احتجاج کریں گے۔ مارچ کی کال صرف خیبر پختونخوا کے کارکنوں کے لیے ہے۔ اس کے لیے ایک مہینہ بھی کافی ہوسکتا تھا مگر ایسا کرنے کے بجائے خاصا لمبا گیپ دیا گیا۔
جو حلقے اس تھیوری پر زور دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے اعلان سے دباؤ بنا اور اسی دباؤ نے بات چیت کا راستہ کھولا۔ ویسے عدالتی حکم کو صرف اسی کا نتیجہ سمجھ لینا شاید درست نہ ہو۔ یہ حلقے عمران خان کی صحت کے حوالے سے عدالتی مداخلت اور پھر عدالت میں میڈیکل رپورٹ جمع کرانے کے بعد خان صاحب کی مرضی کے نجی ہسپتال میں علاج کرانے کی ہدایات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ یہ ایک نمایاں اور اہم ڈیویلپمنٹ تھی اور تب اسے ہر جگہ نوٹ کیا گیا، اس پر بہت سے ولاگز، ٹاک شوز ہوئے، کالم اور تجزیے بھی لکھے گئے۔ تجزیہ کاروں نے محسوس کیا کہ مقتدرہ اور پی ٹی آئی کے درمیان برف پگھلی ہے بلکہ بعض ن لیگی حلقے تو قدرے خائف اور پریشان بھی نظر آئے۔

سوال یہ ہے کہ پھر یہ عمل کیوں سبوتاژ ہوا اور پھر ستمبر میں صورتحال آخرکار احتجاجی مارچ کی جانب کیوں چلی گئی؟
کیا عمران خان نے پروسیس سبوتاژ کیا؟
اس کے جواب میں ایک اور کہانی بیان کی جاتی ہے۔ تحریک انصاف کے اندرونی حلقے تک رسائی رکھنے والے بعض اخبار نویسوں کے مطابق اس پروسیس کو سبوتاژ یا ڈی ریل کرنے والے خود تحریک انصاف کے قائد عمران خان ہی ہیں۔
سپریم کورٹ نے خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا مگر انہیں پمز لے جایا گیا۔ وہاں بہن سے ملاقات کے دوران، بعض اندرونی ذرائع کے بقول، وہ مجوزہ بندوبست پر برہم ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا کہ میری پارٹی میں کون لوگ ہیں جو مجھ سے بالا بالا ہی میرے نام پر ڈیل کر رہے ہیں۔
اندرونی ذرائع یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ خان صاحب نے ہسپتال میں ایڈمٹ ہونے اور پھر چند دنوں بعد علالت کے عذر پر بنی گالہ اپنے گھر نظربند ہونے کی آپشن مسترد کر دی کہ میں ایسا کچھ نہیں کروں گا۔ خان صاحب نے اس کے بجائے اعلان کردہ تاریخ پر اچھی تیاری کے ساتھ لانگ مارچ کی ہدایت کی۔ یوں سب کچھ شاید درہم برہم ہوگیا۔ ایک فیکٹر شاید یہ بھی ہو گا کہ خود حکومت یہ نہیں چاہتی کہ تحریک انصاف پر سے دباؤ ہٹے اور اسے کوئی ایسا ریلیف ملے جو اس کے پاور کوریڈور میں واپسی کا امکان ظاہر کرے۔
اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بادل نخواستہ ہی سہی، لانگ مارچ کی طرف پیش قدمی شروع ہوگئی تھی تو پھر اچانک دو تین دن قبل اسے موخر کرنے کا اعلان کیوں کرنا پڑا؟ ان سات دنوں میں آخر ایسا کیا ہو جائے گا؟

تیسری کہانی
اس پر تیسری کہانی سننے کو ملی۔ اس کے دو بنیادی نکات ہیں۔ ایک تو یہ کہ پی ٹی آئی کو بہت سخت، واضح اور صاف میسج ملا تھا کہ یہ احتجاجی مارچ ختم کر دیں، ورنہ اس بار زیادہ سخت سلوک ہو سکتا ہے۔ یہ تاثر بھی شاید ملا کہ اب اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کا کلچر ختم سمجھا جائے اور ایسے کسی بھی احتجاج کی آپشن ہر ایک کو ڈیلیٹ کرنا پڑے گی۔
تحریک انصاف میں یہ سوچ پہلے سے موجود تھی کہ ہمارا یہ مارچ حکومت گرانے یا نئے الیکشن کے مطالبے کے لیے تو ہے ہی نہیں، اس بار تو اصل مسئلہ خان صاحب کا علاج اور ان تک رسائی ہے۔ اس کے لیے مذاکرات ہی کرنا پڑیں گے تو کیوں نہ پہلے ہی مذاکرات کیے جائیں۔
تاہم مبینہ طور پر تحریک انصاف کو یہ بتایا گیا کہ نہیں، مارچ کے اعلان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ پہلے مارچ ختم کرنا پڑے گا یا کم از کم اسے ملتوی کر دیا جائے تاکہ یہ مارچ کے ذریعے دھمکانے کا تاثر تو ختم ہو۔ ایک اور بات بھی کہی جاتی ہے کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اس سے پہلے مبینہ طور پر ہاتھ کھڑے کر دیے کہ ہم سے پوچھ کر 27 ستمبر لانگ مارچ کی تاریخ رکھی گئی نہ ہی ہم اس میں کچھ کر سکتے ہیں۔ بعد میں خیر اچکزئی صاحب اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس صاحبان کو بیچ میں ڈال کر کچھ نہ کچھ معاملات سلجھانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے نتیجے میں یہ مارچ ملتوی ہوا ہے۔
اب کیا ہوگا؟
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ان سات دنوں میں مذاکرات کی بیل ڈالی جائے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کھلے الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ لانگ مارچ کے بعد مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے کیوں نہیں کرتے؟ سہیل آفریدی کے بقول ’وفاقی حکومت مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو افہام و تفہیم سے کرلے، چاہتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو جائے، لانگ مارچ میں تاخیر بھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔‘
ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف سیاسی ٹمپریچر بڑھانے کی کوشش نہیں کرے گی اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا سیف ایگزٹ نکل آئے جس سے ان کے لیے مارچ ختم کرنا یا غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کرنا آسان ہو سکے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عین ممکن ہے کہ ان دنوں میں خان صاحب کو پھر سے ہسپتال لایا جائے اور وہاں پر ان تک پارٹی لیڈروں کی رسائی ہو سکے یا پھر ممکن ہے عدالت کے ذریعے یا کسی اور روٹ سے عمران خان کی پارٹی قیادت سے ملاقات ہو جائے اور یوں رسائی والی شرط پوری ہو سکے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر عمران خان کی ہمشیرگان کو بھی رہا کیا جا سکتا ہے۔
ویسے ن لیگی وزرا خاص کر وزیرِ اطلاعات تارڑ صاحب جس طرح سے تحریک انصاف کا مذاق اڑا رہے ہیں، انہیں ٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو لانگ مارچ ملتوی کرنے سے باقاعدہ دھچکا اور افسوس لگا ہے۔ ورنہ حکومت کے طور پر تو انہیں خوش ہونا چاہیے تھا، مارچ ملتوی کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے اور طنز کرنے سے گریز کرتے۔ اس کے برعکس ن لیگی وزرا تو باقاعدہ پی ٹی آئی کو چڑانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں غصہ اور اشتعال دلا کر مارچ پر مجبور کر دیں۔ اس نکتے پر غور کیا جائے تو خاصی چیزیں سمجھ آ جاتی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج؟
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی نہ صرف باتیں کی جاتی رہیں بلکہ بعض حلقوں سے یہ خبریں چلوائیں اور ولاگ بھی کرائے گئے، وکلا اور قانونی ماہرین بھی اس پر ڈسکس کرتے رہے۔ سرکاری حلقوں کی طرف سے اس پر الٹے سیدھے بیانات آتے رہے مگر اسے محض افواہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
میری رائے میں اس کا ایک مقصد دباؤ بڑھانا بھی ہے۔ یہ اِن ڈائریکٹ میسج تھا کہ اگر آپ نہ مانے تو پھر اپنی واحد صوبائی حکومت سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے، گورنر راج لگا تو خیبر پختونخوا بھی انصافین رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے سوہان روح بن سکتا ہے۔ اللہ نہ کرے کہ ایسا کرنا پڑے۔ یہ ایک نہایت بری مثال ہوگی اور پھر بلوچستان کی طرح خیبر پختونخوا بھی بہت زیادہ ڈسٹرب ہوجائے گا۔ امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔
ہم نے اوپر جو کہانیاں، مفروضے بیان کیے، ان کا نچوڑ یہی ہے کہ تحریک انصاف اس وقت کسی شدید احتجاجی موڈ میں نہیں، نہ ہی وہ جان بوجھ کر دیوار کو ٹکر مار کر مزید زخمی ہونا چاہتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ تیاری بھی پوری نہیں تھی اور پارٹی بات چیت بھی چاہتی تھی، اسی لیے مارچ ملتوی ہوا اور اب مذاکرات کی باقاعدہ پیش کش بھی خود کر دی گئی ہے۔ فی الحال فوری مطالبات میں عمران خان کا علاج اور ان تک رسائی نمایاں ہیں، اگرچہ ان کی رہائی تحریک انصاف کا بنیادی سیاسی مطالبہ بدستور ہے۔

تحریک انصاف غالباً اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشیدگی میں کمی چاہتی ہے۔ جو برف کی خلیج بیچ میں حائل ہے، اسے پگھلانا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے یہ کام وہ سلیقے اور سمجھداری کے ساتھ کرنا چاہیں گے، اس طرح کہ کسی ڈیل کا تاثر بھی نہ ملے اور سیاسی ٹمپریچر بھی نیچے آ جائے۔
میرا اندازہ ہے کہ چار اکتوبر کا مارچ ابھی دباؤ برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اگر اس سے پہلے عمران خان کے علاج اور ملاقاتوں کے معاملے میں کچھ بات بن گئی تو اس کے مزید التوا کا امکان زیادہ ہے۔
میری ذاتی رائے میں تو ہونا بھی یہی چاہیے۔ بین الاقوامی اور ہمارے ریجن کے حالات قطعی ایسے نہیں کہ ملک کے اندر کوئی شدید سیاسی ہلچل یا ہیجان پیدا ہو۔ یہ وقت سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کا نہیں بلکہ ماحول بہتر کرنے اور قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کا ہے۔ یہ تحریک انصاف کو بھی کرنا چاہیے اور حکومت کی بھی یہ ذمہ داری ہے۔ اپوزیشن جماعت کو دیوار کے ساتھ لگائے رکھنا بھی ٹھیک نہیں ہوتا، انہیں کچھ نہ کچھ سیاسی سپیس بھی ملے اور ان کی قیادت کو انسانی بنیادوں پر ریلیف بھی دیا جائے۔












