Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیتن یاہو نے اتوار کو ابوظبی کا دورہ کیا: اسرائیلی سرکاری عہدیدار

متحدہ عرب امارات کی جانب سے ہارٹز کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا گیا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
اسرائیل کے ایک سینیئر سرکاری عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو ابوظبی کا دورہ کیا اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی پی ایم آفس اور یو اے ای کی وزارت خارجہ کی جانب سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رواں ماہ سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شیخ محمد بن زاید النہیان نے سات اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملے سے قریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ حماس اسرائیل کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ اطلاع اسرائیل کے انٹیلی جنس اداروں یا فوج تک نہیں پہنچائی گئی۔
نیتن یاہو نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے اور اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔ اس وقت ان کو ایک مشکل انتخابی مہم کا سامنا ہے جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے ان کو حماس کے حملے سے قبل مناسب سکیورٹی اقدامات نہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ہارٹز کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا گیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ 2020 میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ’کھلے اور براہ راست رابطے‘ برقرار ہیں۔
یو اے ای کے ایک سورس نے قبل ازیں روئٹرز کو بتایا تھا کہ امارت مختلف ممالک کے ساتھ سکیورٹی معاملات پر ’متعلقہ اداروں‘ کے ذریعے بات چیت کرتا ہے تاہم یہ رابطے ’قومی رہنماؤں کی سطح‘ پر نہیں ہوتے۔
رواں برس کے آغاز میں متحدہ عرب امارات نے شیخ محمد بن زاید النہیان کی نیتن یاہو سے ملاقات کے دعوے کی بھی تردید کی تھی۔
اسرائیلی پی ایم آفس کی جانب سے مئی میں کہا گیا تھا کہ نیتن یاہو نے ’خفیہ طور پر‘ خلیجی ملک کا دورہ کیا اور صدر سے ملاقات کی تھی۔
اس ملاقات سے واقف ایک سورس نے بتایا تھا کہ ’نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید النہیان نے 26 مارچ کو العین میں ملاقات کی تھی جو کہ ابوظبی کا سرسبز شہر ہے جو عمان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔‘
ایران جنگ کی وجہ سے حملوں کی زد میں آنے کے بعد متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا ہے، اسرائیل کے ساتھ یہ تعلقات 2020 میں ہونے والے ابراہم معاہدے کے تحت قائم کیے گئے تھے۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات متحدہ عرب امارات کے لیے خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کا ذریعہ ہیں جبکہ اور واشنگٹن سے رابطوں کا منفرد راستہ بھی ہیں۔

شیئر: