18 ستمبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ پر شدت پسندوں کے حملے میں 23 افراد ہلاک ہوئے جن میں 17 پولیس اہلکار اور چھ عام شہری شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔
پچھلے پیر کو پاکستان نے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں 28 شدت مارے گئے جبکہ طالبان حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ حملوں میں تین شہری ہلاک ہوئے، اس کے بعد پاکستانی حکام نے 23 ستمبر کو کہا تھا کہ افغانستان سے آنے والے ڈرونز نے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی جن کو مار گرایا گیا۔
پاکستان افغانستان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) سے وابستہ ایسے افراد کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں تاہم دوسری جانب افغانستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
پاکستانی حکام نے 23 ستمبر کو افغانستان کی جانب سے آنے والے آٹھ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا (فوٹو: اے پی پی)
اسی طرح پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے جس میں کم سے کم 12 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے، کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کی پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان فروری سے اب تک ہونے والی جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کے بعد افغانستان نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کی تھیں۔
اسلام آباد کے حکام تشدد کا زیادہ تر ذمہ دار پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) اور اس سے وابستہ عسکریت پسندوں کے گروہوں کو قرار دیتے ہیں، پاکستانی طالبان 2021 میں اقتدار میں آنے والے افغان طالبان سے الگ تنظیم ہے تاہم ان کو افغان طالبان کا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔