Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں 70 فیصد دہشت گرد حملوں میں افغان شہری ملوث ہوتے ہیں: وفاقی وزرا کا دعویٰ

پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان ایک سپر پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے، پاکستان میں ہونے والے 70 فیصد ہونے والے واقعات میں افغان شہری ملوث ہوتے ہیں اور ڈی آئی خان میں ہونے والے حملے بھی ملوث تھے۔
پیر کو اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد کارروائیوں کے بعد ان کے ساتھی تصاویر اور فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں، ڈی آئی خان حملے کے بعد سامنے آنے والی ایک تصویر کا ریکارڈ نادرا کے پاس نہیں ملا اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ کابل کا رہائشی تھا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کارروائیوں کے بعد اپنے ساتھیوں کی تصاویر اور فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں۔ ڈی آئی خان حملے میں ایک دہشت گرد کی تصویر فوری طور پر سسٹم میں ڈال کر نادرا اور دیگر ریکارڈ سے چیک کی گئی تاہم اس کی کوئی شناخت نہیں ملی، اوپن سورس معلومات سے معلوم ہوا کہ وہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا اور تصویر میں وہ پختونستان سکوئر میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی واقعے میں افغانستان کے شہری ملوث ہوں، ایسے واقعات میں 70 فیصد افغان ہی ملوث ہوتے ہیں اور وہیں سے آتے ہیں۔
طلال چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مذاکرات سے لے کر ڈوزیئرز تک کے باوجود ہمسائے نے یہ کام جاری رکھا اور یہ افغانستان کا اصل چہرہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان آگے بڑھتا ہے تو ایسی پراکسیز کے حملے بڑھ جاتے ہیں۔
ان کے مطابق ’ایسے واقعات ڈالرز میں بکتے ہیں، جتنے لوگ مرتے ہیں اتنے ہی ان کو ڈالر ملتے ہیں،  اور افغانستان سپر پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔‘
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ’حملوں کے آلہ کار ہماری مشرقی اور مغربی سرحدوں کے پار موجود ہیں، دہشت گردی کے واقعات جہاد نہیں۔‘
انہوں نے واقعے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ڈی آئی خانے کے دورے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی وہاں گئے اور وہاں لمبی چوڑی پریس کانفرنس بھی کی مگر اس میں افغانستان کی مذمت کیوں نہیں کی۔
’اس کے لیے نرم رویہ کیوں ہے، جہاں سے ساری پراکسیز ہوتی ہیں اس کا کھل کر نام کیوں نہیں لیتے۔‘
اسی طرح اس موقع پر عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی صرف اپنی سیاست کے لیے دہشت گردی کے خلاف بات نہیں کرتی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے وہاں کے پولیس اہلکاروں کو دہشت گردوں کے مقابلے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’ٹی ٹی پی کی بی ٹیم‘ قرار دیا۔

شیئر: