’تاریخی‘ مکہ دفاعی معاہدہ ذمہ داری کے احساس پر مبنی ہے، محاذ آرائی پر نہیں
’تاریخی‘ مکہ دفاعی معاہدہ ذمہ داری کے احساس پر مبنی ہے، محاذ آرائی پر نہیں
جمعرات 13 اگست 2026 8:20
اس معاہدے کے تحت کسی ایک ریاست پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا (فوٹو: ایس پی اے)
میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کو ’گذشتہ ہفتوں کے سب سے اہم واقعات میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ علاقائی سلامتی کے تعاون میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کیا۔ یہ معاہدہ ستمبر 2025 میں پاکستان-سعودی سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر مبنی ہے۔
اس معاہدے کے تحت کسی ایک ریاست پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول کی عکاسی کرتا ہے۔
تینوں ممالک کے حکام نے زور دیا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔
عاصم احمد نے کہا کہ ’یہ تین بڑے اور اہم اسلامی ممالک پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کو ایک واضح مقصد کے ساتھ اکٹھا کرتا ہے۔ یہ دفاعی نوعیت کا ہے، یہ ڈیٹرنس کے لیے ہے، اور اس کا مقصد علاقائی امن، سلامتی اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ سہ فریقی فریم ورک کی نوعیت ترک اور سعودی قیادت کے بیانات اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِخارجہ کے بیان کی عکاسی کرتی ہے، جو معاہدے کے پیچھے نیت کو واضح کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے، یہ ایک مثبت سوچ ہے جس میں یہ معاہدہ سامنے آیا ہے، اور یہی جذبہ ہے جس کے ساتھ تینوں ممالک اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔‘
یہ معاہدہ مشترکہ ذمہ داری کے احساس اور ایک پیچیدہ علاقائی و جغرافیائی ماحول میں استحکام پیدا کرنے کی خواہش سے جنم لیتا ہے۔
سفیر نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک کھلے اور جامع فریم ورک کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
احمد افتخار نے کہا کہ ’استحکام، اعتماد، باہمی یقین اور اعتماد سازی ایک پُرامن اور خوشحال مستقبل کے لیے کلیدی ہیں۔ یہی چیز ہمارے تین ممالک کو اکٹھا کرتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ ایک کھلے اور جامع فریم ورک کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، نہ کہ ایک بند اتحاد کے طور پر۔
’یہ ایک کھلا فریم ورک ہے۔ اس کا مقصد شمولیت ہے۔ اور اسی لیے میرا خیال ہے کہ مناسب بات چیت اور مزید وضاحت کے ساتھ خطے کے دیگر ممالک بھی اس فریم ورک سے وابستہ ہو سکیں گے۔‘