Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چٹانوں پر 12 ہزار سال پرانے نقوش، العلا کی تاریخ کا دستاویزی ریکارڈ

یہ مہم سائنسی طریقوں اور العلا میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین اور مقامی کمیونٹی کی مشترکہ کوششوں کو نمایاں کرتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
رائل کمیشن فار العلا نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آگاہی مہم شروع کی ہے جس میں آثارِ قدیمہ کے مطالعے اور سرویز سے سامنے آنے والی معلومات اجاگر کی جا رہی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ مہم سال کے اختتام تک جاری رہے گی جس میں تقریباً 19 ہزار 802 دستاویزی پینلز پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں 66 ہزار سے زیادہ جانوروں اور 11 ہزار سے زیادہ انسانی اشکال ریکارڈ کی گئی ہیں۔
یہ پینلز 12 ہزار سے زیادہ برسوں پر محیط انسانی تاریخ کو محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ ان میں روزمرہ زندگی، معاشرتی تبدیلیوں اور انسان، جانوروں اور ماحول کے درمیان تعلق کی جھلک ملتی ہے۔ یہ تمام معلومات مل کر جزیرہ نمائے عرب میں چٹانی فن کا سب سے بڑا دستاویزی علاقائی ڈیٹا بیس بناتی ہیں۔
مہم میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور العلا کی مقامی کمیونٹی کی مشترکہ کوششوں اور سائنسی طریقوں کو اجاگر کیا گیا ہے جن کے ذریعے چٹانوں پر بنے نقوش کی تاریخ کا تعین اور قدیم و جدید نقوش میں فرق کیا جاتا ہے۔
اس کام میں پیدل مقامات کا جائزہ لینا، تصاویر اور خاکے بنانا، تفصیلات لکھنا اور ہر نقش کے درست مقام کو ریکارڈ کرنا شامل ہے۔
ماہرین نقوش کی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں جن میں ایک دوسرے کے اوپر بنے نقوش، نقش بنانے کا طریقہ، دکھائے گئے موضوعات اور ان کے ساتھ موجود تحریریں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ چٹان کی سطح پر وقت کے ساتھ بننے والی سیاہ تہہ، جسے راک پیٹینا کہا جاتا ہے، کا بھی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس سے نقوش کی نسبتاً قدیم یا نئی ہونے کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔

اس مہم میں 10 اہم موضوعات شامل ہیں جن میں چٹانی فن کو تاریخی ریکارڈ کے طور پر پیش کرنا، شکار سے مویشی پالنے کی طرف منتقلی کے شواہد، ماحول اور آب و ہوا میں تبدیلیاں، اور العلا کا تجارت و رابطوں کے مرکز کے طور پر کردار شامل ہیں۔
اس کے علاوہ آثارِ قدیمہ کے سروے اور دستاویز سازی، گاڑیوں کو حیثیت اور اثر و رسوخ کی علامت کے طور پر پیش کرنا، مقامی طور پر ناپید ہو جانے والے جانور، نخلستانوں کی پائیداری اور ریوڑ کی ملکیت، گھڑ سواری، تنازعات اور بقا اور اس فن کے آج تک جاری رہنے جیسے موضوعات بھی مہم کا حصہ ہیں۔
یہ چٹانی نقوش بتاتے ہیں کہ مویشی پالنے کے لیے پانی کتنا اہم تھا اور جیومیٹریکل اشکال کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ اردگرد کے علاقوں میں خشکی بڑھنے کے باوجود وادی العلا پانی، نخلستانوں اور سبزے کی وجہ سے ایک محفوظ مقام بنی رہی۔
ان نقوش سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آئرن ایج اور قبل از اسلام زمانے میں العلا میں مویشی موجود تھے جبکہ شمالی سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں اس دور کے ایسے نقوش بہت کم ملتے ہیں۔
ان شواہد نے ماہرین کو ہولوسین دور، یعنی تقریباً آٹھ  ہزار سے چار ہزار قبل مسیح کے زمانے کو سمجھنے میں بھی مدد دی ہے جب جزیرۂ نمائے عرب کے شمالی علاقوں کے کچھ حصوں میں سبزہ زاروں کے میدان اور جھیلیں موجود تھیں۔
دیگر مناظر جنگوں اور درندوں سے بچاؤ کے لیے انسانوں کی اپنی حفاظت اور مویشیوں کے تحفظ کی کوششوں کو دکھاتے ہیں۔ یہ شہسواری، جنگ اور بقا کی جدوجہد کے پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں۔ آثارِ قدیمہ کے سروے میں گھوڑوں اور گھڑ سواروں کی 14 ہزار 670 تصاویر اور جنگ کے 1375 مناظر کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، گوشت خور جانوروں کے ساتھ تنازعات کے 180 مناظر ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں شیر، چیتے اور بھیڑیئے انسانوں یا مویشیوں پر حملہ کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں اور لوگ اپنے مویشیوں کی حفاظت اور درندوں کا شکار کر رہے ہیں۔
نقشے پر تجارتی راستے بننے سے بہت قبل قافلے العلا کی چٹانوں پر اپنے راستے بناتے تھے۔ اونٹ کے قافلوں، گھوڑوں، سواروں، پالکیوں اور رتھوں کی نمائندگی کرنے والی تصاویر سفر اور جنگ کے مناظر کے ساتھ نظر آتی ہیں جو کمیونٹیز کے درمیان مواصلات کے ایک مرکز اور راستے کے طور پر العلا کے کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔
وافر پانی اور فروغ پاتے نخلستانوں کے ساتھ، العلا علاقائی تجارتی نیٹ ورکس کے ساتھ ایک اہم پڑاؤ بن گیا جو دادن، حجر، قرح اور ام خدام جیسے قدیم شہری مراکز کو جوڑتا تھا۔ ان راستوں اور مسافروں کے دیرپا نشانات العلا کی تاریخی اہمیت کی تصدیق کرتے ہیں۔
رتھوں کی تصاویر کی بڑی تعداد ان کی سماجی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور ہزاروں سال پہلے ان کے مالکان کی حیثیت اور اثر و رسوخ کا دائمی ثبوت فراہم کرتی ہے۔

آثارِ قدیمہ کے سروے میں گھوڑوں سے کھینچی جانے والی رتھوں کی 38 تصاویر ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں سے 25 وادی النعام میں پائی گئی ہیں۔ یہ ایک ایسی سائٹ ہے جو جزیرۂ نمائے عرب میں ایسے نقش و نگار کے سب سے بڑے مراکز میں سے ایک کی نمائندگی کر سکتی ہے۔ یہ طویل فاصلے کے سفر کے لیے موزوں نہیں تھیں اور ممکنہ طور پر نخلستانوں کے اندر استعمال ہوتی تھیں اور اعلیٰ مقام رکھنے والے افراد سے منسوب تھیں۔
آثارِ قدیمہ کے سروے نے موٹر گاڑیوں کی 395 تصاویر بھی ریکارڈ کی ہیں جو اظہار کے ایک ذریعہ اور ہر دور کے آلات کے ریکارڈ کے طور پر چٹانی سطحوں کے دائمی استعمال کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس طرح العلا کی چٹانیں زندگی کی تبدیلیوں کا ایک کھلا ریکارڈ بنی ہوئی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ محفوظ رہی ہیں۔

 

شیئر: