جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ: پی آئی اے کا چین، انڈونیشیا اور خلیجی ممالک کے لیے پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ
جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ: پی آئی اے کا چین، انڈونیشیا اور خلیجی ممالک کے لیے پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ
پیر 6 اپریل 2026 16:43
دو ارب 80 کروڑ ڈالر کے مجموعی خسارے کے بعد گزشتہ برس دسمبر میں پی آئی اے کی نجکاری کر دی گئی تھی (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے نے عالمی منڈی میں جیٹ فیول کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد چین، ملائیشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں پی آئی اے انتظامیہ نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں جیٹ فیول کی قیمتیں 85 سے 90 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ’ایوی ایشن کی صنعت میں ایندھن کے اخراجات مجموعی آپریٹنگ اخراجات کا قریباً ایک چوتھائی حصہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایئر لائن کے لیے موجودہ حالات میں آپریشنز جاری رکھنا مالی طور پر ناممکن ہو گیا ہے۔‘
ایندھن کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے کی بڑی وجہ 28 فروری کو ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی جنگ بتائی جا رہی ہے۔
اس تنازع نے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور کارگو سپلائی کو بری طرح متاثر کیا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز سے ہونے والی سپلائی میں تعطل نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
پی آئی اے کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ خلیجی ممالک کے لیے پروازیں اپریل کے آخر تک معطل رہیں گی۔ اسی طرح بیجنگ کے لیے پروازیں 11 اپریل اور کوالالمپور کے لیے 14 اپریل سے بند کر دی جائیں گی۔
پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’جیٹ فیول کی قیمتوں میں چوتھے بڑے اضافے کے تناظر میں یہ سخت فیصلہ کرنا پڑا۔ ہم ایندھن کی قیمتوں کا سارا بوجھ مسافروں پر نہیں ڈال سکتے تھے، اس لیے انتظامی طور پر کچھ روٹس کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے جیٹ فیول کی اوسط قیمت 195 ڈالر فی بیرل رہی جو گزشتہ سال کی نسبت دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
پاکستان میں بھی جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد مقامی سطح پر ایندھن کی قیمت 517.17 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں بھی جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پروازوں کی معطلی کے ساتھ ساتھ پی آئی اے نے طلبہ، بینک ملازمین، بزرگ شہریوں، صحافیوں اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو ملنے والی تمام رعایتیں بھی ختم کر دی ہیں۔ اب صرف بچوں اور نوزائیدہ بچوں کو ہی ٹکٹوں میں رعایت مل سکے گی۔
واضح رہے کہ دو ارب 80 کروڑ ڈالر کے مجموعی خسارے کے بعد گزشتہ برس دسمبر میں پی آئی اے کی نجکاری کر دی گئی تھی۔
عارف حبیب گروپ کی سربراہی میں ایک کنسورشیم نے 135 ارب روپے کے عوض ایئر لائن کے 75 فیصد حصص خریدے تھے۔
حکومت کو امید تھی کہ اس نجکاری سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہو گا اور ایئر لائن کی حالت زار میں بہتری آئے گی تاہم عالمی جغرافیائی سیاسی حالات اور ایندھن کے بحران نے نئی انتظامیہ کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
ایئر لائن نے امید ظاہر کی ہے کہ جیسے ہی عالمی سطح پر قیمتیں معمول پر آئیں گی، تمام معطل شدہ روٹس پر پروازیں دوبارہ بحال کر دی جائیں گی۔