Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انسانی حقوق کے کارکن پر تیزاب حملہ، انڈونیشیا میں چار فوجی افسران کو جیل کی سزا

چاروں افسران کو ’سنگین منصوبہ بند حملے‘ کے جرم میں قصوروار پایا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
انڈونیشیا کی ایک فوجی عدالت نے چار فوجی افسران کو انسانی حقوق کے ایک کارکن پر تیزاب پھینکنے کے واقعے میں ملوث ہونے پر تین سال تک کی قید کی سزا سنائی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جج نے  کہا کہ ایک ملزم کو تین سال، دوسرے کو ڈھائی سال، تیسرے کو دو سال اور چوتھے کو ڈیڑھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔
چاروں افسران کو ’سنگین منصوبہ بند حملے‘ کے جرم میں قصوروار پایا گیا۔ انہوں نے اینڈری یونس پر حملہ کیا تھا، جو ’کمیشن برائے لاپتہ افراد اور تشدد کے متاثرین‘ کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر ہیں، یہ ایک انسانی حقوق کی تنظیم ہے جو فوج کے بڑھتے ہوئے کردار کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔
 اینڈری یونس کو اس وقت شدید زخم آئے جب گذشتہ ماہ جکارتہ میں موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے دو افراد نے ان پر تیزاب پھینکا۔ اس سے قبل انہوں نے ایک پوڈکاسٹ ریکارڈ کیا تھا جس میں انہوں نے سابق جنرل اور موجودہ صدر پرابوو سوبیانتو کے تحت حکومت پر تنقید کی تھی۔
27 سالہ اینڈری کی دائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی اور ان کے جسم کا 24 فیصد حصہ جھلس گیا، جس میں چہرہ، گردن، دھڑ اور اعضا شامل ہیں۔ فوجی پراسیکیوٹر محمد اسوادی کے مطابق گرفتار چاروں ملزمان فوج کے سٹریٹجک انٹیلیجنس ایجنسی  سے تعلق رکھتے تھے جس کے سربراہ نے واقعے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔

 

شیئر: